شام پر جنگ کے گہرے بادل

شام پر جنگ کے گہرے بادل

  

امریکہ کے نقطہ نگاہ سے شام کے خلاف ”محدود جنگ“ ضروری ہو چکی ہے، جو رابرٹ فسک کے بقول: ”جدید دنیا کی احمقانہ ترین جنگ قرار دی جائے گی“۔یہ جنگ اس لئے بھی ضروری ہو چکی ہے کہ اس سے امریکہ کی ”نئی حکمت عملی“کے تحت عالمی برتری کے عزائم کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔ یہ نئی حکمت عملی، امریکہ نے افغانستان، عراق اور لبنان کے خلاف لڑی جانے والی مہنگی ترین جنگوں میں اٹھائی جانی والی ہزیمت اور نقصان سے سبق حاصل کرتے ہوئے مرتب کی ہے۔ افغانستان پر روسی جارحیت سمیت یہ تمام جنگیں عالم اسلام کے خلاف کھلی جارحیت تھیں ۔ مسلم ممالک نے اس جارحیت کی مرتکب دنیا کی عظیم عسکری قوتوں کا مقابلہ گوریلا جنگ سے کیا، جس کی بنیادی طاقت اسلام کا ناقابل شکست ”نظریہ جہاد ہے“۔ یکے بعد دیگرے اٹھائی جانے والی ہزیمت کے باعث عالمی جارحیت کی مرتکب قوتوں کو تزویراتی سرگرمیوں کا مرکزایشائی بحرالکاہل کی جانب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جہاںوہ بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے اتحادیوں کی مدد سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنا چاہتے ©ہیں۔اب مسلم دنیا کوامریکہ کی نئی حکمت عملی کا سامنا ہے، جس کا مقصدہے کہ ” فوجی کارروائی کو محدود ر کھ کر مسلمانوں کی اندرونی کمزوریوں کو استعمال کیا جائے اور اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں.... مثلاً مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تقسیم اور سیکولر و روشن خیال طبقات کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور ان کو آپس میں لڑا کر اپنے مقصد کی حکومت قائم کی جائے گی“۔

سیکولر اور روشن خیال طبقات کے درمیان اختلافات کی نوعیت ہرملک میں مختلف ہے، مثلاً ترکی، مصر، عراق، شام، پاکستان اور بنگلہ دیش میں یہ اختلافات کہیں شدید اور کہیں کم ہیں۔ مصر میں روشن خیال مسلمانوں کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے، جہاں اب امریکہ کا طفیلی سیکولر طبقہ بر سر اقتدار ہے۔ اِسی طرح ترکی میں بھی حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ناکامی ہوئی۔ عراق، شیعہ سنی تقسیم کی وجہ سے خون میں ڈوبا ہوا ہے اور وہاںکے تیل کے ذخائر پر امریکہ کی اجارہ داری ہے۔ بنگلہ دیش سیکولر شکل اختیار کر چکا ہے اور جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے سبب خلفشار انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان میںبھی شیعہ سنی تقسیم، سیکولر اور روشن خیال طبقات کی باہمی کشمکش اور سنی اکثریت کے مابین مسلک کی بنیاد پر دیوبندی اور بریلوی کی تقسیم خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔الغرض پاکستان بھی امریکہ کی اس نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کے لئے بہت ہی موذوں ملک ہے۔ یہاں بلیک واٹر(Black Water)کے بعداب بلیک بجٹ (Black Budget) منصوبے کے تحت امریکہ نے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے.... ”اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان بد اعتمادی نے اعتماد پر سبقت حاصل کر لی ہے“.... حسین حقانی

شام میں اندرونی خلفشار کو بیرونی طاقتوں نے ابھارا ہے۔ سنی اکثریت کے حامل ملک شام کا ایران کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اس کے قریبی روابط ہیں۔ اس طرح ایران، شام اور لبنان پر مشتمل ”رضامند اتحادیوں“ کا ایک پلیٹ فارم قائم ہے، جس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہے۔ 2006ءمیں اسرائیل نے حزب اللہ کو شکست دینے کی کوشش کی تھی، لیکن ناکام رہا ۔اب شام کو ہدف بنایا گیا ہے، جہاں امریکہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس کی فوج زمین پر نہیں اترے گی، صرف راکٹوں اور جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے شام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور آرمی و ایئر فورس کے ٹھکانوںکو تباہ کرے گا، جو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مختصر یہ کہ امریکہ ”محدود حملوں“ کے ذریعے شام کی مسلح افواج کو ناکارہ بنادے گا، جنہوں نے ملک میں باغیوں کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ہے اور اب باغیوں کو امریکی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ بشار الاسد کی فوجوں کا مقابلہ کر سکیں۔

امریکی سینیٹر نارمن پولاک (Norman Pollock) کے بقول: ”اوباما کی طبعی عسکریت پسندی ان کے نامعقول ہونے کی دلیل ہے ،جو ان کے چہرے کی مبہم مسکراہٹ میں پوشیدہ ہے۔ انہیں شام پر حملہ کرنے کے لئے کانگریس کی منظوری درکار ہے تاکہ وہ ہر حال میںامریکہ کے عالمی حکمرانی کے خواب کی تکمیل کرسکیںاوراس مقصد کا حصول صرف طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔عالمی سطح پربرتری حاصل کرنے کی خاطر امریکہ اس کھیل میں شام کو ایک کمزور اور آسان ٹارگٹ سمجھتا ہے، لیکن وہ افغانستان اور عراق کی طرح تنہا نہیں ہے “ .... شام کی فرقہ وارانہ تقسیم نے مشرق وسطی کے لئے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، جس سے تصادم کا دائرہ وسیع ہو اہے۔ایران،عراق، حزب اللہ اور روس کھل کر شام کی مدد کر رہے ہیں، جبکہ خطے کے سنی ممالک، جن میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور خلیج تعاون کونسل (GCC) شامل ہیں ‘ امریکہ کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رضامندی کے بغیر، شام کے خلاف فوجی کارروائی پر اُبھار رہے ہیں۔ امریکی کانگریس نے ابھی اوباما کو اس جنگ کی اجازت نہیں دی، جبکہ عوامی رائے عامہ بھی اس جنگ کے خلاف ہے، لیکن امریکی سینٹ نے اجازت دے دی ہے.... ”آئین کے تحت امریکی صدر کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر ایسی حالت میںجنگ شروع کرے، جو اس کی قومی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث نہ ہو “۔اس جنگ کے لئے امریکہ کو ایسے ”رضامند اتحادیوں“ کا تعاون بھی حاصل نہیں ہے،جو اسے افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ میں حاصل تھا۔ اب یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر اوباما اس جنگ کے پس پردہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے کوئی پشین گوئی نہیں کی جا سکتی، سوائے اس کے جیسا کہ روسی صدر پوٹن نے اوباما کے لئے یہ مثال دی ہے کہ جیسے: ”بند ر کے ہاتھ میں گرنیڈ ہے،بندر کیا کرے گا، کسی کو معلوم نہیں“۔ صدر پوٹن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ”اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ شامی فوجوں نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے، کیونکہ وہ مضبوط پوزیشن اختیار کر چکے ہیں اور باغیوں کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں ۔ایسی صورت میں غیرملکی مداخلت کی دعوت دینے والوں کی سرپرستی کرنا انتہائی نامعقول بات ہے۔ در اصل کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں کی طرف سے کیا گیا ہے تاکہ امریکہ کو شام پرحملے کا جواز مل جائے“۔

 ان حالات میں روس کس رد عمل کا اظہار کرے گا ؟ روس کے بحری جنگی جہاز پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔وہ ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کی ترسیل میںاضافہ کرتا رہے گا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ لیبیا کی طرح اس کے ساتھ پھر کوئی چالاکی کی جائے۔ فوجی اعتبار سے شاید وہ مداخلت نہ کرے، لیکن شام کی طرف داری کے لئے شور مچاتا رہے گا۔ ”صدر پوٹن ایک مضبوط لیڈر ہیں، جنہوں نے روس کا تشخص ابھارا ہے، لہٰذا وہ امریکی اشاروں پر ہر گز عمل نہیں کریںگے۔ روس پس پردہ رہتے ہوئے حالات پر نگاہ رکھے گا، جبکہ امریکہ کومشرق وسطیٰ میں ایک اور خوفناک جنگ کا سامنا ہو گا۔ امریکہ کا تشخص پہلے ہی کافی حد تک بدنام ہو چکا ہے۔ امریکہ کو یہاں پہلے سے کہیں زیادہ ہزیمت اٹھانا پڑے گی ،کیونکہ وہ اپنی طاقت کی آخری حدود تک پہنچ چکا ہے“.... اے ڈی مُلر

امریکی جنگ کا ہدف ایران بھی ہے، جسے گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی خطرناک ظاہر کر کے علاقے کے سنی ممالک کے ذہنوں میں خوف بٹھایاگیا ہے۔اس خوف کے تحت انہوں نے امریکہ سے تقریباً 200 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا ہے۔سنی ممالک امریکہ سے خریدے گئے اسلحے کے بل بوتے پرپہلے ہی بحرین میں مداخلت کر چکے ہےں اور اب شام کے خلاف جنگ میں شامل ہیں ۔ یقینا امریکہ نے نئی حکمت عملی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے سفارتی ہنر مندی اور عسکری ہتھکنڈوں کو اس خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے کہ عالم اسلام، جہاں میر جعفروں اور میر صادقوں کی کمی نہیں ہے، خود اپنے ہی عمل و کردارکے سبب اسیر دام ہو چکا ہے۔ حسب روایت ”عرب اقوام“ شام پر حملے کے اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہیں ....(جان کیری).... لیکن پاکستان کو سبقت حاصل ہے، جیسا کہ2001ءمیں افغانستان کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ ٭

مزید :

کالم -