عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مولانا سید عطا ءاللہ شاہ بخا ری ؒ

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مولانا سید عطا ءاللہ شاہ بخا ری ؒ
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مولانا سید عطا ءاللہ شاہ بخا ری ؒ
کیپشن: 1

  

7ستمبر ہماری تاریخ کا وہ روشن اور تاریخ ساز دن ہے، جب ہزاروں مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے طویل جد و جہد کے بعد پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کامیابی حاصل کی۔

انیسویں صدی کے آخر میںبے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ ایک خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات اور ملحدانہ خیالات سامنے آئے تو علماءکرام نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے مقابلہ میں میدان عمل میں نکلے ۔ مرزا قادیانی کے فتنہ سے نمٹنے کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں کی گئیں ان میں علماءحق کا بڑا اہم کردار ہے ، بالخصوص بر صغیر پاک و ہند کے نامور خطیب اور تحریک آزادی کے عظیم مجاہد امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی خدمات اور مساعی اس سلسلہ میں اُمت مسلمہ کے ایمان کے تحفظ و بقاءکا سبب ہیں ۔

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒنے تحریک آزادی کے بعد عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور قید وبند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور پورے ملک میں بڑھاپے اور بیماری کے باوجود جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیت کے کفر کو بے نقاب کر کے نسل نو کے ایمان کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ نے ستمبر 1951ءمیں کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ.... تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قدوقامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کریکٹر کی موت تھی، سچ کبھی نہ بولتا تھا، معاملات کا درست نہ تھا، بات کا پکا نہ تھا، بزدل اور ٹوڈی تھا، تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے، لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری بھی نہ ہوتی، وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قویٰ میں تناسب ہوتا،چھاتی45 انچ کی، کمر ایسی کہ سی آئی ڈی کو بھی پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا،انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ میں تو کہتا ہوں کہ اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ دعویٰ کرتے کہ جسے تلوار حق نے دی اور بیٹی نبی نے دی، سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ، سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انہیں نبی مان لیتا؟ نہیں ہرگز نہیں، میاں! آقاکریم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں، جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج نبوت و رسالت جس کے سر پر ناز کرے۔

مزید :

کالم -