سپین میں برقع پوش نوجوان لڑکی دیگرخواتین کوداعش میں بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار

سپین میں برقع پوش نوجوان لڑکی دیگرخواتین کوداعش میں بھرتی کرنے کے الزام میں ...
سپین میں برقع پوش نوجوان لڑکی دیگرخواتین کوداعش میں بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار

  


میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) سپین کی کاﺅنٹرٹیررازم پولیس نے شام جاکر داعش کی طرف سے لڑنے کیلئے خواتین کو بھرتی کرنے کے الزام میں برقع پوش18سالہ مراکشی نوجوان لڑکی کو گرفتار کرلیا۔خاتون کو جب ہتھکڑی میں سڑکوں سے گزارجارہاتھا تو اس نے برقع پہن رکھاتھا جبکہ آفیسرزمبینہ طورپر شواہد سے بھرے بکس ہاتھ میں لیے خاتون کیساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔

برطانوی اخبار’میل آن لائن‘ کے مطابق پولیس نے ولنسیا کے قریب گاندیا ٹاو¿ن سے لڑکی کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اس موقع پر لڑکی کا پورا جسم کالے رنگ کے نقاب میں چھپا ہوا تھا جبکہ صرف اس کے ہتھکڑی لگے ہاتھ ہی دیکھے جاسکتے تھے لیکن باقی جسم پورا ڈھکاتھاجبکہ مسلح اہلکار اس کیساتھ تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دیگر خواتین کو داعش میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کررہی تھی،پولیس کا دعویٰ ہے کہ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا وہ شام جانے کے لیے سفر کی تیاری میں مصروف تھی، لڑکی کا تعلق ماروکو سے ہے تاہم وہ سپین میں طویل عرصے سے مقیم ہے۔

پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’وہ انٹرنیٹ پر جہادی نظریات کو پھیلانے کے لیے دہشت گرد حملوں کا جوز پیش کرتے ہوئے لوگوں کو ہلاک کرنے والی ویڈیوز کو پھیلارہی تھی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...