پناہ گزینوں کو دی گئی رعایت مستقبل کے لیے مثال نہیں: جرمنی

پناہ گزینوں کو دی گئی رعایت مستقبل کے لیے مثال نہیں: جرمنی
پناہ گزینوں کو دی گئی رعایت مستقبل کے لیے مثال نہیں: جرمنی

  


برلن (آن لائن) جرمنی اور ہنگری نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کیلئے کئے جانے والے انتظامات کا مقصد بحرانی صورتحال سے بچنا تھا اور اس رعایت کو مستقبل کیلئے مثال نہ سمجھا جائے۔

جرمن حکومت کی جانب سے یہ بات سنیچر ہزاروں پناہ گزینوں کی جرمنی آمد کے بعد کہی گئی ہے حکام کا کہنا ہے مستقبل میں پناہ گزینوں کو اسی یورپی ملک میں پناہ طلب کرنی ہوگی جہاں وہ سب سے پہلے پہنچیں گے۔ایک مشکل اور دشوار گزار سفر طے کرنے کے بعد ہنگری اور آسٹریا کے راستے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے پہلے گروپ کی جرمنی آمد کا سلسلہ ہفتے کو رات گئے مکمل ہوا جہاں انھیں ہنگامی رجسٹریشن مراکز میں لے جایا گیا ہے۔

ادھر ہنگری سے سرحد عبور کر کے دس ہزار پناہ گزین آسٹریا میں داخل ہو چکے ہیں اور رات گئے آسٹریا کی سرحد سے دارالحکومت ویانا تک آخری ٹرین کی روانگی کے بعد آسٹریئن حکام نے کہا ہے کہ وہ مزید ٹرینیں چلائیں گے۔خانہ جنگی اور تشدد سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ان تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک ان کی کثیر تعداد کے پیش نظر کسی حل تک پہنچنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ اس کے یہاں رواں برس آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔جرمن چانسلرانجیلا مرکل نے کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد سے عوام پر نہ تو ٹیکس بڑھائے جائیں گے اور نہ ہی ملک کا بجٹ متاثر ہوگا۔تاہم ان کے ایک ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ ہفتے کو آنے والے پناہ گزینوں کو جرمنی آنے کی اجازت دینے کی وجہ بحران پیدا ہونے سے بچنا تھا اور جرمنی اور ہنگری دونوں اب سے یورپی یونین کے اس قانون کی پاسداری کریں گے جس کے تحت پناہ گزینوں کو اسی یورپی ملک میں پناہ طلب کرنی ہوگی جہاں وہ سب سے پہلے پہنچیں گے۔

برلن میں بی بی سی کی نامہ نگار جینی ہل کے مطابق انھوں نے بتایا کہ جرمن چانسلر نے ہنگری کے وزیرِ اعظم سے فون پر بات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ سنیچر کو یورپی یونین کے قانون کی معطلی صرف ایک بار دیا گیا استثنیٰ اور رعایت تھی اور مستقبل میں دونوں ممالک اس قانون کے تئیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔خیال رہے کہ ہنگری میں کئی دن سے موجود پناہ گزین اور تارکینِ وطن وہاں خود کو پناہ کے لیے رجسٹر کروانے سے انکاری تھے جس کے بعد مغربی یورپ کے لیے عازمِ سفر ان افراد کو حکام نے ٹرین کے سفر سے روکا ہوا تھا۔اس تعطل کی وجہ سے مشتعل افراد نے مظاہرے بھی کیے تھے اور اکثر آسٹریا کی سرحد کی جانب 175 کلومیٹر کے سفر پر پیدل روانہ ہوگئے تھے

مزید : بین الاقوامی


loading...