انسانی سمگلروں کی تعداد تقریبا 30 ہزار ، کارروائی اولین ترجیح ہے: یورپی حکام

انسانی سمگلروں کی تعداد تقریبا 30 ہزار ، کارروائی اولین ترجیح ہے: یورپی حکام
انسانی سمگلروں کی تعداد تقریبا 30 ہزار ، کارروائی اولین ترجیح ہے: یورپی حکام

  


برسلز (اے پی پی) یورپی حکام نے کہا ہے کہ ترک ساحل پر بچے کی لاش جیسے سانحہ کا باعث بننے والے مشتبہ انسانی سمگلروں کی تعداد تقریباً 30 ہزار ہے جن کے ساتھ نمٹنا یورپی ممالک کی اولین ترجیح ہو گی۔

اتوار کو ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یورپی یونین پولیس کے منظم جرائم سے نمٹنے والی شعبہ کے سربراہ رابرٹ کریپنکو نے کہا ہے کہ یورپ بھر میں انسانی سمگلنگ کرنے والوں کی تعداد تقریباً 30 ہزار ہے جن میں سے 3 ہزار سمگلرز بحیرہ روم کے علاقہ سے انسانی سمگلنگ کرنے میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک انسانی سمگلروں کے خلاف بھرپور کارروائی کیلئے پہلے مرحلہ میں ان سمگلروں بارے خفیہ معلومات اکٹھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی سے انسانی سمگلروں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کیلئے یونان کے شہر پیرا ایوس میں جلد ہی ایک سیل قائم کیا جائے گا جبکہ لیبیا کے ساحلوں سے دور پانیوں سے غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیوں کی روک تھام کیلئے سسلی میں دفتر قائم کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...