سی اینڈ ڈبلیو میں سنگین نوعیت کی مبینہ بے ضا بطگیوں کا انکشاف

سی اینڈ ڈبلیو میں سنگین نوعیت کی مبینہ بے ضا بطگیوں کا انکشاف

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو میں سنگین نوعیت کی مبینہ بے ضابطگی سامنے آگئی۔ لاہوڈویژن میں کروڑوں روپے کا منصوبہ ، دوران ٹینڈر مقابلے کی بجائے پول کے تحت الاٹ کردیا گیا۔ایگزیکٹو انجنئیر اور متعلقہ عملہ نے بیسیوں ٹھیکیداروں کو ٹینڈر کاسٹ کرنے سے روکتے ہوئے ،سارن گاگا روڈ کا 4کروڑ 97لاکھ روپے کا ٹینڈر 5کروڑ 17لاکھ روپے میں اکبر انجنئیرنگ ایسوسی ایٹس کو الاٹ کیا۔ذرائع سے معلوم ہواہے کہ 31اگست کو ھائی ویز ڈویژن لاہور کے زیر اہتمام سارن گاگا روڈ پھول نگر ،قصور کے منصوبے کا ٹینڈرہوا۔ جس میں بیسیوں ٹھیکیداروں نے دلچسپی ظاہر کی ۔ تاہم مبینہ طورپر مقابلے کی بجائے پول کے تحت یہ ٹینڈر اکبر انجنئیرنگ کا دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ دیگر ٹھیکیداروں کو ٹینڈر کاسٹ کرنے سے روکتے ہوئے مذکورہ کمپنی کے نمائندے کو ٹینڈر ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ اور سپورٹنگ ٹینڈر کے طورپر دو مزید ٹینڈر ڈالے گئے۔ جنہوں نے اکبر انجنئیرنگ ایسوسی ایٹس سے زیادہ ریٹس بیان کئے۔تاکہ کم ریٹس کی بنیاد پر یہ ٹینڈر اکبر انجنئیرنگ ایسوسی ایٹس کو ہی مل سکے ۔ ذرائع کے مطابق ٹینڈ ر کا تخمینہ 4کرو ڑ 97لاکھ روپے تھا۔ لیکن انجنئیروں کی ملی بھگت اور پول کی وجہ سے اکبر انجنئیرنگ ایسوسی ایٹس کو یہ ٹینڈر 5کروڑ 17لاکھ روپے میں اصل تخمینے سے کہیں زیادہ ریٹس پر الاٹ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ھائی ویز ڈویژن لاہور کے ہیڈ کلرک ملک مصور ناز کا کہناتھا کہ مجموعی طورپر 14ٹھیکیداروں نے ٹینڈر میں دلچسپی لی تھی۔ اور سی ڈی آر بنوائی تھی۔البتہ اکاؤنٹس کلرک محمد عقیل کا کہناتھا کہ صرف تین ٹھیکیداروں نے سی ڈی آر بنوائی اور انہوں نے ہی ٹینڈر میں حصہ لیا تھا۔جبکہ ایکسین ھائی ویز لاہورظفر محمود کا کہناتھا کہ ٹینڈر میں پول نہیں ہوا۔ان کے سامنے جتنے ٹھیکیداروں نے ٹینڈر کاسٹ کئے ان میں سب سے کم ریٹس کے حامل ٹھیکیدار کو ٹینڈر الاٹ کردیا گیا۔اگر ان کے دفتر سے باہر ٹھیکیداروں کے مابین کوئی کمپرومائز ہوا ہے تو وہ کچھ نہیں بتا سکتے ۔ان کا کہناتھا کہ مجموعی طورپر 24ٹھیکیداروں کو ٹینڈر بیچے گئے اور تمام کی سی ڈی آر موجود ہیں۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے قائمقام چیف انجنئیر ھائی ویز نارتھ اور سپرنٹنڈنٹ ھائی ویز سرکل لاہور سرفراز بٹ کا کہناتھا کہ ٹینڈر پول ہوا ہے وہ کچھ نہیں جانتے ،البتہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ٹینڈر پرانے ریٹس پر دیا گیا ہے۔ 25اگست کو حکومت نے تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں 10سے 15فیصد کا اضافہ کردیا ہے۔ اور اگر یہ ٹینڈر کینسل ہوا تو دوبارہ نئے ریٹس پر ٹینڈر کروانا پڑیگا۔ جس سے حکومت کو نقصان ہوگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...