آصف علی زرداری: مفاہمت کوئی حدیث تو نہیں

آصف علی زرداری: مفاہمت کوئی حدیث تو نہیں
 آصف علی زرداری: مفاہمت کوئی حدیث تو نہیں

  


ضربِ عضب کی ایکسٹینشن میں پی پی پی کی دُکھتی رگ پر ہاتھ پڑ گیا، تو جنابِ سابق صدر آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی، لیکن شاید بجانے کے لئے کوئی مناسب اینٹ نہ ملی، تو دبئی کی طرف نکل گئے۔ ڈاکٹر عاصم پکڑے گئے، تو خورشید شاہ نے ’’اعلانِ جنگ‘‘ کر دیا،اور جنابِ آصف علی زرداری نے بھٹیارنوں کی طرح کوسنے دینے شروع کر دیئے۔ نواز شریف کو بے وفائی کے طعنے دیئے اور ’’مفاہمت‘‘ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ یوں تو مفاہمت بھی کوئی حدیث تو ہے نہیں، جس کی پابندی ضروری ہو یا ہمیشہ کے لئے پابندی لازمی ہو۔ ’’مفاہمت‘‘ تو یوں بھی جنابِ آصف علی زرداری کی ایجاد ہے۔ اس کا اطلاق تو میثاق جمہوریت پر بھی نہیں ہوتا ہے، کیونکہ اُس کے بارے میں تو آں جناب خود فرما چکے ہیں کہ کون سا حدیث ہے۔ یوں بھی میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والی ہی نہ رہی، تو کیسا میثاق جمہوریت؟ اول تو خود محترمہ نے میثاقِ جمہوریت کے ساتھ ساتھ ڈکٹیٹر سے بھی ساز باز جاری رکھی اور این آر او کا تحفہ پیپلزپارٹی آصف علی زرداری اور اُن کی مفاہمت کی اصل فریق ایم کیو ایم کے حصے میں آیا۔ محترمہ کے اُس وصیت نامے میں بھی میثاق جمہوریت کو جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں تھا، جس وصیت کی رُو سے پیپلزپارٹی جناب آصف علی زرداری کو منتقل ہوئی۔ اگر کسی معاہدے کا ایک فریق ہی اس دُنیا میں نہ رہے، تو اس کی شاید کوئی اخلاقی اہمیت تو ہو، لیکن قانونی حیثیت کچھ نہیں رہتی اور جب کسی مرحوم کے ورثا اُس کے معاہدوں کی پابندی کرنے کے بارے میں بھی خاموش ہوں، تو پھر کیسا عہد اور کیسے معاہدے؟ تعجب تو جنابِ عمران خان پر ہے، جنہیں جمہوریت کی خاطر ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر تو ’’مُک مُکا‘‘ کا طعنہ سوجھتا ہے، لیکن کرپشن سامنے آنے پر چیخیں بلند ہوتی ہیں، تو وہ ’’مُک مُکا‘‘ کی خلاف ورزی کے خلاف آواز بلند کرنے والے واحد سیاست دان بن جانے کا شرف حاصل کر لیتے ہیں۔ سٹیٹس کو ختم کرنے کے دعوؤں، نیا پاکستان بنانے کے عزائم اور عوام سے ہمیشہ سچ بولنے کے عہد کے بعد وہ کرپشن کو نظر انداز کر کے پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کی طرف داری کرتے ہیں تو یقین آ جاتا ہے کہ انہوں نے نیا پاکستان بھی بنا لیا ہے اور سٹیٹس کو بھی دُم دَبا کر بھاگ گیا ہے۔

جنابِ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی پھانسیوں سے کوڑوں اور جیلوں سے نہیں گھبراتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا انکار کون کر سکتا ہے، لیکن جنابِ آصف علی زرداری اتنا تو بتائیں کہ آپ کون سی پارٹی کی بات کر رہے ہیں؟ کوڑے کھانے، جیلیں بھگتنے اور پھانسیاں پانے والی پیپلزپارٹی تو نئی پیپلزپارٹی کی مفاہمت کی گرد میں کہیں کھو گئی ہے۔آپ کے پاس تو ساری کی ساری چوری کھانے والے مجنوؤں کی پارٹی ہے۔ جنابِ امین فہیم کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک چند کروڑ روپے کا اضافہ ہو جائے، جس کی کوئی توجیہہ ممکن نہ ہو تو جنابِ امین فہیم یہ رقم لوٹا دیں۔یہ سخاوت اُن ماں جائی بہنوں کے ساتھ کیوں نہیں، جن کی شادیاں قرآن سے کرا کے انہیں ان کے حصے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ جناب یوسف رضا گیلانی عطیئے میں ملنے والا ہار ڈکار جانے کی کوشش کریں تو پارٹی یا پارٹی سربراہ کو ذرا سی بھی شرمندگی نہ ہو، راجہ اشرف کو عدالت ’’رینٹل پاور‘‘ میں کروڑوں اربوں کے ہیر پھیر کا مرتکب پائے اور ان کے خلاف اُن ہی کا ایک وزیر ہو تو پارٹی سربراہ پر کوئی اثر نہ ہو،نہ جبیں پر کوئی عرقِ ندامت، نہ زباں پر کوئی حرفِ ملامت۔ خیر جنابِ آصف عی زرداری سے کیا گلہ، جنابِ عمران خان کے بیانات کا ریکارڈ کھنگال ڈالیں، ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستیں کھانے کے باوجود انتخابات میں دھاندلی پر جس قدر بیان بازی ہے اُس کا ایک فیصد بھی کرپشن کی ان وارداتوں پر کوئی حرف ملامت ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے۔

یہ بات تو خیر تسلیم کرنا ہی پڑے گی کہ پیپلزپارٹی بڑی مشکل پسند جماعت ہے۔ ایک دور میں اُس کے کارکنوں کی قربانیوں میں واقعی پھانسیاں ، کوڑے اور جیلوں کی تاریخ بھی موجود ہے، لیکن پارٹی کی قیادت سبحان اللہ۔ پانچ سال کا عرصہ گزار دیا، سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے اربوں روپوؤں کے بارے میں کوئی ایک آدھ ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ یہ روپیہ جائز ہے، صدارتی استثنیٰ کی آڑ میں اسے ڈکار لیا گیا، حتیٰ کہ نوبت باایں جا رسید کہ پیپلزپارٹی کے ایک رہنما نے یہاں تک کہہ دیا کہ آخر ہمارا بھی کرپشن پر حق ہے۔ اب بھی صورتِ حال یہ ہے کہ کرپشن کی تردید کی جا رہی ہے۔ انکار کیا جا رہا ہے، نہ کسی قانون کے ذریعے کرپشن کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہاں اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلانِ جنگ کرنے کی تیاریاں ہیں یا پھر کارکنوں کو کوڑے کھانے ، جیلیں بھرنے پر اُکسایا جا رہا ہے، لیکن حضور آگے پیچھے نظر تو دوڑا لی ہوتی، وہ کارکن اب ہیں کہاں؟ وہ کارکن توآپ کی ’’مفاہمت‘‘ کی پالیسی کی نذر ہو گئے۔ کراچی میں جو کچھ ہوتا رہا ہے، اُس سے سارا پاکستان باخبر ہے، کسی عقل کے اندھے کو نظر نہ آئے، تو نہ آئے، آنکھ کا اندھا بھی اسے محسوس کر سکتا ہے، لیکن جناب کی ’’مفاہمت‘‘ کی ڈور کٹ کٹ کر جوڑی جاتی رہی اور جب بھی مفاہمت کی ڈور کٹی، اہل ِ کراچی پر کوئی نہ کوئی عذاب نازل ہوا، لیکن مفاہمت کی ڈور کو نیا مانجھا لگا کر پھر جوڑ دیا گیا۔

تاجر، صنعت کار، اہلِ حرفہ تو کراچی چھوڑ گئے۔ عام آدمی کے بس میں نہیں تھا کہ وہ کراچی چھوڑ کر چلا جائے، جس کے بس میں تھا اُس نے اِس پر بس نہیں کی، کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، کرپشن اور صرف کرپشن ہی نہیں، کرپشن کے عجائبات، کے بارے میں ہر کوئی جانتا تھا، جانتا ہے کہ جنابِ آصف علی زرداری کی مفاہمت کی ڈور میں بندھی ہوئی اُن کی مرکز سے صوبے تک کی اتحادی جماعت ملوث ہے، لیکن یا جنابِ آصف علی زرداری اس پر کچھ کہنے یا میڈیا اس کا نام لینے سے شرماتا ہے، جنابِ آصف علی زرداری جن کارکنوں کو پھانسیاں چومنے، کوڑے کھانے اور جیلیں بھرنے پر اکسا رہے ہیں، اُن کے دِل سے کبھی پوچھا ہے کہ’’قاتل لیگ‘‘ سے مفاہمت کے وقت اُن کے دِلوں پر کیا گزری؟آفرین ہے پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر کہ اُن کے دِل پر جو گزر جائے وہ بھٹو خاندان سے وفاداری کے نام پر گلے لگاتے رہیں اور آفرین ہے پیپلزپارٹی کی قیادت پر آٹھ آٹھ صندوق نوٹوں اور سونے سے بھرنے، سوئس بینکوں میں بے حد و حساب مال جمع کرنے، سوئی گیس کے کنکشنوں، چوروں کو سپاہی بھرتی کرنے اور بینکوں کو لوٹنے والے بے نظیر کے قاتلوں سے مفاہمت کی پینگیں بڑھاتے رہیں، لیکن ان پر ہاتھ ڈالا جائے، تو مفاہمت کی دہائی مسلم لیگ(ن) کے خلاف ہو۔ اینٹ سے اینٹ پاکستان کی بجائے جائے اور اعلانِ جنگ فوج کے خلاف ہو۔ مسلم لیگ(ن) سے تو اتنی ہی مفاہمت تھی کہ پنجاب میں اُن کی حکومت بھی ختم کی گئی اور نیب اور دوسری عدالتوں میں اُن کے مقدمات بھی چلتے رہے۔

مفاہمت کا کمال تو یہ ہے کہ کراچی میں موت کے انجکشن لگانے والوں کو کھلی چھٹی دی گئی، زندہ جلانے والے دندناتے پھرے، جیلوں میں اتحادیوں نے موج میلے لگائے رکھے اور وہیں سے بھتہ وصولی کی کارروائیاں ہوتی رہیں، نوٹوں کے بھرے ہوئے اٹیچی کیس اِدھر سے اُدھر جاتے رہے، ماڈل گرلز منی لانڈرنگ کے کام آتی رہیں اور پارٹی کے قائدین اُن کے مقدمات لڑتے رہے۔ جنابِ عمران خان ایم کیو ایم کا پیچھا کرتے کرتے لندن تک چلے گئے۔ چودھریوں کے قرضوں کی معافی کے پھندے لئے لئے پھرے، لیکن اب خاموش ہیں۔ کیا یہ بھی کوئی ’’مُک مُکا‘‘ ہے یا مفاہمت کی کوئی غیر مرئی ڈوری ہے، جس نے جناب خان کی زبان بند کر دی ہے۔ وہ جس ’’مک مکا‘‘ کے خلاف چیختے چلاتے رہے اب اُس ’’مُک مُکا‘‘ کے خاتمے پر اس قدر سیخ پا ہیں کہ آصف علی زرداری کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ جنابِ آصف علی زرداری جو اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتے ہیں وہ انہیں ایم کیو ایم تو اب فراہم نہیں کر سکتی، تو کیا اب یہ اینٹ تحریک انصاف کے بھٹے سے تیار ہو کر آصف علی زرداری کے کام آئے گی۔ ظاہر ہے وعدے، میثاق جمہوریت تو حدیث نہیں ہیں مفاہمت تو حدیث سے بھی آگے کی کوئی چیز ہے اور اگر تحریک انصاف مفاہمت کے لپیٹے میں آ گئی، تو پھر کہاں کی حدیث، جمہوریت کو اگر امپائر کی نگاہ غلط انداز پر قربان کیا جا سکتا ہے، تو کسی بھی چیز کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ کیا اب آصف علی زرداری کی خاطر تحریک انصاف کے کارکن پھانسیوں، کوڑوں اور جیلوں کی تاریخ رقم کریں گے؟ یا تحریک کھل کر اس کرپشن(جو ساری دہشت گردی کی ماں ہے) کی مذمت کرے گی؟

مزید : کالم


loading...