جنگِ ستمبر اور مسئلہ کشمیر

جنگِ ستمبر اور مسئلہ کشمیر
 جنگِ ستمبر اور مسئلہ کشمیر

  


ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کو پچاس سال ہو چکے ہیں۔گویا یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔۔۔ پچاس برس کے عرصہ میں دنیا کی بہت سی اقوام اور ممالک کے حالات بدلے ۔دنیا کے سائنسی،سیاسی اورمعاشی افق پر کئی نئے انقلابات آئے اور واقعات وحوادث رونما ہوئے،بہت سے ممالک کے درمیان دوستی کے رشتے استوار اور دشمنی کے مزاج و معیار بدلے ۔۔۔لیکن اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو وہ بھارت کی پاکستان دشمنی ہے۔ا س دشمنی کا پرنالہ آج بھی اسی جگہ بہہ رہا ہے۔عداوت و مخاصمت کے آج بھی وہی انداز و اطوار ہیں۔ پچاس برس کے عرصہ میں بہت سے پاکستانی حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ ’’جیو اور جینے دو‘‘۔۔۔’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر بہتر تعلقات قائم کرنا چاہے لیکن بھارتی حکمرانوں، سیاستدانوں اور جرنیلوں کی ایک ہی رٹ اور ضد رہی کہ’’ نہ جیو اور نہ جینے دو‘‘۔۔۔ ’’سب کچھ لو اور کچھ بھی نہ دو‘‘۔اس وقت سرحدو ں پر درپیش صورت حال کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ پچاس سال پہلے کا متعصب ومتشد دبھارت ایک بار پھر پاکستان کے سامنے کھڑاہے۔آج سرحدوں پر پاکستان کو جو صورت حال درپیش ہے 1965 ء کے معرکہ سے پہلے بھی یہی صورت حال تھی،گولہ باری اور جھڑپیں تھیں،ہجرتیں اور شہادتیں تھیں،کشمیر پر بھارت کا موقف اتنا ہی سخت اور غلط تھا۔بیگناہ کشمیری شہید کئے جارہے تھے ،بستیاں خاکستر ہو رہی تھیں،جنازے اٹھ رہے تھے،پاکستان کا نام لینے کی پاداش میں اہل کشمیر کے سینے گولیوں سے چھلنی کئے جارہے تھے ،پاکستان کو سبق سکھانے اور مٹاڈالنے کے مذموم عزائم وارادے تھے۔ بھارتی وزیر دفاع وائی بی چاون کہہ رہا تھا ’’ہم پاکستان کو قبرستان میں تبدیل کر دیں گے۔‘‘ جب جنگ ختم ہو گئی تو یہی وزیر دفاع ان الفاظ میں شکست کے زخم چاٹ ر ہا تھا ’’ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی بنیا د اسی دن پڑ گئی تھی جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کی بنیاد آئیڈیالوجی (نظریہ ) کا اختلاف ہے ۔یہ اختلاف اور دشمنی وقتی نہیں بلکہ لمبے عرصہ تک چلے گی لہذا بھارت کو ایک اور فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا ‘‘۔ 65 ء کی جنگ کی شکست وہزیمت کا تمغہ جب بھارتی سورما ؤ ں کے سینوں پر سجا اس وقتٗ لال بہادر شاستری بھارت کے وزیر اعظم تھے،ان سے پہلے جواہر لال نہرو تھے اور ۔۔۔ اب نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔ مختلف اوقات میں برسراقتدار آنے والے یہ تین مختلف افراد ہیں۔شاستری سے مودی تک درمیان میں کئی وزرائے اعظم آئے لیکن اسلام، پاکستان اور کشمیر دشمنی کے حوالے سے سب کی سوچ اور فکرایک تھی۔۔۔اور ایک ہے۔یہ اس لئے کہ قیامِ پاکستان اوراستحکامِ پاکستان۔۔۔ بنیا کے دل کا روگ ہے۔یہی روگ 1948ء65ء اور71ء کی جنگوں کاباعث بنااور اب مودی اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک نئی جنگ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔مودی یقیناًبھو ل چکے ہیں کہ 65ء کے موقع پر بھارتی جرنیلوں کے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب کس طرح چکنا چور اور ملیا میٹ ہوئے تھے۔

بات یہ کہ جنگیں بلاوجہ نہیں لڑی جاتیں۔جب ایک قوم دوسری پر حملہ آور ہوتی ہے تو اس کے کچھ مقاصدہوتے ہیں۔سو یہ سوال بہت اہم ہے کہ بھارت نے 65ء کی جنگ پاکستان پرکیوں مسلط کی،اس کے مقاصد کیا تھے اور کیا وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔۔۔؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ مقاصد کا حصول ہی جنگ میں کامیابی یا ناکامی کاپیمانہ سمجھا جاتاہے۔بھارت نے پاکستان پر جو جنگ مسلط کی اس کا سبب ۔۔۔مسئلہ کشمیراور مقصد۔۔۔پاکستان پر قبضہ کرنا تھا۔یہ بات طے ہے کہ بھارت نے آ ج تک پاکستان کو قبول کرنا تو درکنار ۔۔۔برداشت بھی نہیں کیا۔اس سلسلے میں تاریخ کے صفحات بیشمارحقائق وواقعات سے بھرے پڑے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کے دعویداراورعدم تشددکے علمبردار گاندھی تھے ۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو گاندھی ہی وہ شخص تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے صرف 36دن بعد جنگ کی دھمکی دی تھی۔سردار پٹیل کا کہنا تھا’’جناح کی مملکت زیادہ دن نہیں چلے گی،پانچ سال بعد ہی مسلم لیگ گدا گروں کی طرح التجا کرے گی کہ ہندوستان کو دوبارہ متحد کردیا جائے۔لارڈ ماوئنٹ بیٹن نے تقسیم ہند پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا’’مستقل مملکت اور خیمے میں بہر حال فرق ہوتا ہے۔بھارت ایک مستقل ریاست ہے اور پاکستان کی صورت میں ہم نے ایک عارضی خیمہ کھڑاکیا ہے۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ انگریز اور ہندو دونوں ہی پاکستان کے دشمن تھے چنانچہ پاکستان کو بے دست وپا کرنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے ان میں سے ایک نہایت ہی تباہ کن قدم ریاست جموں کشمیر پر بھارتی قبضہ تھا۔قائد اعظم محمد علی جناح بخو بی سمجھتے تھے کہ پاکستان کی تشکیل، تکمیل اور تعمیر۔۔۔ریاست جموں کشمیر کے بغیر ممکن نہیں ۔یہ بات ریکارڈ سے ثابت ہے کہ زندگی کے آخری سانسوں میں بھی قائد اعظم کی زبان پر کشمیر اور مہاجرین کشمیرکا ذکر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کشمیر کی آزادی کی پہلی جنگ ان کی زندگی میں لڑی گئی ۔مجاہدین اور قبائل کی پیش قدمی اورکشمیر کو ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کرنہرو نے یکم جنوری 1948ء کو سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی دہائی دی اور یقین دہانی کروائی کہ جونہی ریاست میں امن وامان بحال ہوگا توریاست میں رائے شماری کروائی جائے گی ۔بعد کے حالات نے ثابت کر دکھایا کہ نہرو کا وعدہ۔۔۔محض وعدہِ فردا اور دھوکہ تھا جبکہ پاکستان کا جنگ بندی کو قبول کرنا غلط فیصلہ تھا۔اب ایک طرف سلامتی کونسل کی قراردا دیں،دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کھیل اور تیسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر پر قبضہ وتسلط کو مضبوط کرنے کی سازشیں تھیں۔1963ء میں بھارت نے جموں کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کرنے کا اعلان کردیا۔دسمبر 1964ء میں بھارت نے اپنے ملک کی دفعہ 357-356کو کشمیر پر لاگو کرتے ہوئے انتظامیہ اور قانون سازی کے اختیارات وفرائض سنبھال لئے ۔ جون 1965ء کوکشمیر کی 9مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں نے مجلس عمل قائم کرکے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا۔بھارت نے وادی میں بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی شروع کردی چند ہی دنوں میں ریاست ہنگاموں اور مظاہروں کی لپیٹ میں آگئی، بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے ان حالات میں آزاد کشمیر میں مقیم اہل کشمیر اور برٹش انڈین آرمی سے ریٹائرڈ ہونے والے کشمیری مسلمانوں کا مضطر ب وبے قرار ہونا فطری امر تھا چنانچہ بے تاب نوجوان جنگ بندی لائن عبور کرکے وادی میں داخل ہو گئے تو بھارت نے دراندازی کا الزام لگاتے ہوئے سرحدوں پر فوج لا کھڑی کردی اور پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ یوں مسئلہ کشمیر 1965ء کی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

سترہ روزہ جنگ ستمبر کے یو ں تو سارے پہلو ہی قابل ذکر ہیں ان پہ بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن ایک پہلو ایسا ہے کہ جس پر آج تک کچھ نہیں لکھا گیا وہ یہ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متازع فیہ مسئلہ۔۔۔مسئلہ کشمیر تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ بھارت نے سیز فائرلائن پربڑا محاذ کھولنے کی بجائے کشمیر سے کئی ہزار میل دورسندھ کے ایک بنجر علاقہ رن کچھ میں پہلا محاذ کھولا۔ پھر سیز فائرلائن پر متعددحملوں اورجھڑپوں کے بعداصل اور بڑا حملہ لاہور پر 6ستمبر کی صبح سحری کے وقت کیا جبکہ اس جنگ کا خطرناک ترین حملہ سیالکوٹ سیکٹر میں چونڈہ کے محاذ پرٹینکوں کی مدد سے کیا گیا۔یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر آزاد جموں کشمیر پر بھارت نے بڑا حملہ کیوں نہ کیا۔۔۔؟بات یہ ہے کہ 1947 ء کی پہلی پاک بھارت جنگ سرزمین کشمیر پر لڑی گئی تھی۔اس جنگ میں بھارتی فوج کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن،برٹش فوج کے افسروں اور جوانوں کی مدد ومشاورت بھی حاصل تھی۔اس کے باوجود بھارتی سورماؤں کے قدم سرزمین کشمیر پرجم اور تھم نہ سکے تھے۔بھارتی تجزیہ نگاروں کے بقول مہاراجہ ہری سنگھ نے جس کشمیر کا بھارت سے الحاق کیا اس کا رقبہ84471 مربع میل تھالیکن جب جنگ بند ہوئی توریاست کا 33958 مربع میل رقبہ بھارت کے قبضہ سے نکل چکا تھا۔ڈنڈوں،سوٹوں ،تلواروں اور پرانے ہتھیاروں سے مسلح کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست بھارتی حکمرانوں کے لئے بہت بھیانک اور رسوا کن تجربہ تھا ۔چنانچہ اب کی بار بھارتی جرنیل اپنے بزدل جوانوں کے حوصلے بڑھانے کے لئے جنگ کی ابتدا بزعم خویش کسی کمزور محاذ سے کرنا چاہتے تھے ان کا خیال تھا کہ سندھ کے بنجراور دور افتادہ علاقہ رن کچھ کی 250لمبی سرحدی پٹی کے دفاع سے پاکستان غافل ہوگا ۔لیکن جب رن کچھ میں بھی بھارتی فوجیوں کو منہ کی کھانی پڑی تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے پھر اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے رات کی تاریکی میں ٹینکوں،توپوں اور طیاروں کے ساتھ اور پوری قوت سے اچانک واہگہ بارڈراور ہریکے برکی روڈسے لاہور پر حملہ کردیا ۔بھارتی فوج کے کمانڈر۔۔۔ جنرل چوہدری پورے یقین، اعتماد اور وثوق کے ساتھ اپنے افسروں اور جوانوں کو یہ باور کرواچکے تھے کہ جشنِ فتح لاہور مال روڈ پر منایا جائے گا او ر 6ستمبر کا صبح کا ناشتہ جمخانہ لاہور میں کیا جائے گا ۔یہ حملہ اچانک تھا اس لئے ۔۔۔بہت ہی تباہ کن اورخطرناک تھا۔اہم بات یہ ہے کہ حملے کے وقت واہگہ پوسٹ پر صرف رینجرز تعینات تھے اس کے بعد جب یہاں پاک فوج کے افسر و جوان پہنچے تو وہ دشمن کے لئے ناقابل تسخیر ثابت ہوئے ۔جرأت ایمانی اور جذبہ شہادت سے لبریز پاک فوج کے جوان کئی دن تک مسلسل آرام کئے اور کھائے پئے بغیر محاذوں پر ڈٹے رہے ، داد شجاعت دیتے اور دشمن کو نیست ونابود کرتے رہے ۔ان کی وردیاں پھٹ گئیں،جل گئیں ،جسم زخموں سے چور ہو گئے ،دھول میں اٹ گئے لیکن کوئی جوان محاذ چھوڑنے اور آرام کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔اسی طرح چونڈہ کے محاذ پر بھی تاریخ کا عظیم معرکہ لڑاگیا اور چونڈہ 600 بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوا۔کہتے ہیں کہ جنگوں میں اسلحے سے اسلحہ اور لوہے سے لوہا ٹکراتا ہے تب کشتوں کے پشتے لگتے اور فتح وشکست کے فیصلے ہوتے ہیں۔لیکن 65ء کی جنگ میں بھارتی فوج کا اسلحہ،بارود،توپیں،ٹینک اور طیارے۔۔۔پاک فوج کے جوانوں اور جسموں سے نہیں۔۔۔ان کے جذبہ ایمان اور جذبہ جہاد سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوئے تھے۔عوام کے جذبات بھی بے مثال تھے۔خندقیں کھودی جاتی ہیں پناہ اور حفاظت کے لئے لیکن لاہوریے بھی کمال تھے جب بھارت کے جنگی جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوتے تو زندہ دلان لاہور خندقوں ،گھروں اور پناہ گاہوں میں دبکنے کی بجائے باہر نکل آتے بھارتی طیاروں کی طرف ڈنڈے لہراتے جب پاکستانی شاہین بھارتی گدھوں پر لپکتے جھپٹتے۔۔۔ تو لوگ بیساختہ نعرہ تکبیر بلند کرتے۔65ء کی جنگ میں پاک فوج کے جذبہ شہادت، لوگوں کی شجاعت کو دنیا نے تسلیم کیا بڑے بڑے عالمی جنگی وقائع نگاریہ کہنے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستانی قوم کا دنیا کی کوئی قوم مقابلہ نہیں کرسکتی۔

بھارت اس جنگ سے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اولا۔۔۔تحریک آزادی کشمیر کا خاتمہ۔ ثانیا۔۔۔پاکستان پر قبضہ۔یہ بات بالکل عیاں ہے کہ بھارت دونوں مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور اب بھی ناکام ہے۔ جنگ کے بعد پاکستان کو پہلے سے زیادہ دنیا میں وقار ومقام حاصل ہوا۔ یہ ملک قائم ودائم ہے بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ وہ قوتیں جو ہر دو سال بعد پاکستان ٹوٹنے کی پشین گوئی کیا کرتی تھیں وہ خود اپنی شکست کے زخم چاٹ رہی ہیں۔تحریک آزادی کشمیر بھی اللہ کے فضل وکرم سے پہلے سے زیادہ مضبو ط وتوانا ہے۔ وہاں کھلے عام ہاکستان کے پرچم لہرائے جارہے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ہمارے قابل قدر بزرگ قائد سید علی گیلانی،سید شبیر شاہ،میر واعظ عمر فاروق،مسرت عالم بٹ،محمد یٰسین ملک، ہماری قابل احترام بہن سیدہ آسیہ اندرابی، حریت کانفرنس کے دیگر قائدین ،کشمیری عوام پوری طرح یکسو اور آزادی کی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ، ان کے دلوں میں سے آزادی کا جذبہ اورپاکستان کی محبت ذرا بھی کم نہیں ہوئی۔اس کے باوجود اگرمودی 65ء کی جنگ کواپنی فتح سمجھتے ہیں تو پھرلغات کی کتب میں شکست کے معنیٰ ومفہوم کو بدلنا ہوگا۔مودی کے دعویِ فتح کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے’’جنگ میں میرے باپ کا سر توکٹ گیا تھا لیکن شکر ہے ناک سلامت رہ گئی تھی۔‘‘

سچی بات یہ کہ65ء کی جنگ میں پاکستان کو شانداراور تاریخی فتح حاصل ہوئی تھی۔گو مقابلے میں دشمن بہت بڑا تھا لیکن وہ ذلیل وخوار ہوا تھا۔موجودہ حالات کے تناظر میں اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ1965ء کے موقع پر ہمیں فتح کیسے ملی؟ ہم سے کئی گنا بڑا دشمن کیوں کر ناکام ہوا؟۔ اس تاریخی فتح کا تجزیہ اور ماحاصل اگر دولفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہو گا کہ ہمیں یہ فتح ۔۔۔نظریہ پاکستان۔۔۔ کی بدولت ملی تھی۔۔۔جی ہاں۔۔۔لا الہ الا اللہ۔۔۔کا نظریہ جس کی بدولت ہمارے بزرگوں نے انگریز اور ہندؤوں کو شکست فاش دے کرپاکستان حاصل کیا تھا۔صدر ایوب خان نے6 ستمبر کی صبح اپنی نشریاتی تقریر میں قوم کو ا سی نظریہ کی دعوت دیتے اور ہندؤوں کو للکارتے ہوئے کہا تھا’’میری قوم کے بہادر جوانو۔۔۔ لاالہ۔۔۔پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو‘‘پھر دنیا نے دیکھا ہماری قوم سیسہ پلا ئی دیواربن گئی،جرائم ختم ہو گئے،راہزن محافظ ونگہبان بن گئے،بچے،بوڑھے،جوان ،مائیں بہنیں اور بیٹیاں سب وطن کی حرمت پر کٹ مرنے کے لئے آمادہ وتیارہوگئے۔ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے بھارتی ٹینکوں اور توپوں کا مقابلہ کرنے سرحدوں کی طرف دوڑپڑے۔آج ایک بار پھر ہمیں خطرات کا سامنا ہے،دشمن ہمیں مٹاڈالنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ان حالات میں اسلحہ کی تیاری ،حفاظتی ودفاعی اقدامات اور دشمن کی سازشوں کا توڑ اپنی جگہ بجا لیکن ہمارا اصل ہتھیار اور تیاری۔۔۔نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستہ وپیوستہ رہنے میں ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

مزید : کالم


loading...