اساتذہ کی کمی اور سکولوں کی خستہ حالت!

اساتذہ کی کمی اور سکولوں کی خستہ حالت!

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے تعلیم کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ رقوم مختص کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر جو کام کرنے کی ضرورت اور پہلی ترجیح ہونا چاہئے اس پر عمل نہیں ہوتا یہ درست کہ تعلیم کے لئے یکساں نصاب، کتابوں کے بوجھ سے نجات اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ارادے اور منصوبے بنائے گئے اور ان کی تشہیر بھی کی گئی ہے۔ لیکن ایک معاصر کی خبر سے حیران کن اعداد و شمار اور حقیقت سامنے آئی ہے۔معاصر کی خبر کے مطابق پنجاب میں 51ہزار سکولوں میں 62ہزار775اساتذہ کی کمی اور ان کی جگہیں خالی پڑی ہیں جبکہ ان 51ہزار سکولوں میں سے 4727سکولوں کی عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں اور ان کی مرمت کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سکولوں میں کھیل کے میدانوں اور فرنیچر کی کمی یا قلت اپنی جگہ ہے۔حکومت پنجاب ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کمربستہ ہے تو اسے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پورا کرنا اور عمارتوں کی مرمت کے ساتھ فرنیچر مہیا کرنا لازمی ہے یہ اعداد و شمار خود حکومت کے پاس بھی ہوں گے اگر توجہ نہیں دی جا رہی تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور وزیر اعلیٰ کی توجہ مبذول کرائی جا سکتی ہے کہ وہ خود اس کا نوٹس لیں اور یہ سب درست کر ائیں۔

مزید : اداریہ


loading...