کرپشن کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت

کرپشن کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کی نظر میں بدعنوانی ہی وہ ناسور ہے جو ریاست کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، لیکن اس بارے میں کوئی خاطر خواہ قانون سازی یا دیگر موثر لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے، اسی بدعنوانی کی وجہ سے ملک کو اربوں بلکہ کھربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، قانون و آئین کا اطلاق اور بالادستی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں، اسی بدعنوانی کی وجہ سے عوام میں عدم مساوات انتہا تک پہنچ رہی ہے، اور مفلس و نادار طبقے پسے چلے جا رہے ہیں، جبکہ دولت مند مزید دولت مند ہوتے چلے جا رہے ہیں، ریاست اور عوام میں خلیج کم کرنے کے لئے کرپشن ختم کرنا ہوگی، ہمیں اپنی اخلاقی اقدار پر بھی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام ورکشاپ میں لیکچر دیتے ہوئے کہا۔

فاضل چیف جسٹس نے اپنے اس لیکچر میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور کرپشن کے جس ناسور کی نشاندہی کی ہے وہ وقت کی آواز ہے، اس وقت پاکستان میں کرپشن کے خلاف مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں، معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کی خواہش بھی ہر جگہ موجود ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ کرپشن کا ناسور پھر بھی پھیل رہا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، جن لوگوں کے ذمے پبلک فنڈز کی حفاظت ہے، وہ خود ہی ان کی خورد برد اور ضیاع میں مصروف ہیں، مملکت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کے حوالے سے بھی کرپشن کی عجب کہانیاں منظر عام پر آتی رہتی ہیں، مملکت پاکستان اپنے اعلیٰ ترین مناصب بھی جن حضرات کو پیش کر دیتی ہے وہ بھی اگر دیانت و امانت کے معیار پر پورے نہ اتریں تو افسوس ہوتا ہے، بہرحال فاضل چیف جسٹس نے کرپشن کے سلسلے میں جن عوامل کی نشاندہی کی ہے، معاشرے کو ان کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی ضرورت ہے، بدعنوانی کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنے کے لئے ضروری ہے کہ قوانین مضبوط بنائے جائیں اور ان میں کوئی ایسا سقم نہ رہنے دیا جائے کہ بدعنوان عناصر اس سے فائدہ اٹھا کر بچ نکلیں۔قانون سازی بنیادی طور پر پارلیمنٹ کا کام ہے، اور ارکان پارلیمنٹ کو آگے بڑھ کر یہ کام کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...