دفاع کے میدان میں پاکستان مضبوط تر ہو رہا ہے

دفاع کے میدان میں پاکستان مضبوط تر ہو رہا ہے

پاکستان نے6ستمبر کو پچاسواں یومِ دفاع اِس حالت میں منایا کہ ورکنگ باؤنڈری اور کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں، سیز فائر سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ کی فضا ہے، بھارتی جارحیت کے نتیجے میں متعدد پاکستانی اور کشمیری شہری شہید اور زخمی ہو گئے ہیں، بھارت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کی تفصیلات سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اپنے خط میں عالمی ادارے سے درخواست کی ہے کہ بھارت کو جنگ بندی معاہدے کا پابند کیا جائے۔ اِس کشیدہ ماحول میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے50سال پہلے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے اُن کارناموں کو یاد کیا، جو انہوں نے دفاعِ وطن کے سلسلے میں انجام دیئے، بھارت نے آدھی رات کے وقت لاہور کے قریب پاکستان کی بین الاقوامی سرحد عبور کی، چونکہ پاکستان کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اِس لئے ان سرحدوں پر باقاعدہ فوج تعینات نہیں تھی، ابتدا میں رینجرز نے بھرپور مقابلہ کیا۔ بعدازاں پاک فوج نے نہ صرف بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیئے، بلکہ سترہ روز بعد جب جنگ بند ہوئی تو پاکستان کی نسبت بھارت کا زیادہ علاقہ پاکستان کے قبضے میں تھا، حالانکہ جنگ میں بھارت نے پہل کی تھی، اور اپنی مرضی کا محاذ منتخب کیا تھا، لیکن پاکستانی فوج کی زبردست مزاحمت نے اُسے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

آج پاکستان نصف صدی پہلے کے پاکستان کی نسبت زیادہ مضبوط و مستحکم، اِس کی فوج زیادہ باصلاحیت اور زیادہ بہتر اسلحے سے لیس ہے، روایتی اسلحے کے علاوہ پاکستان ایٹمی قوت بھی ہے اور اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کا میزائل اور ڈلیوری سسٹم بھی بنا چکا ہے، اس کے سائنس دان آج بھی اِس میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، دشمنوں کو بھی پاکستانی مسلح افواج کی اِن صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہے، اِس لئے انہوں نے پاکستان سے براہِ راست جنگ چھیڑنے کی بجائے اسے دہشت گردی میں اُلجھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، اب آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے دہشت گردوں کا بھی قلع قمع کر دیا گیا ہے اور بچے کھچے دہشت گردوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، پاکستان کی مسلح افواج اور تمام ادارے مُلک بھر میں پوری طرح چوکس ہیں، یوم دفاع کے موقع پر شرپسندوں نے کہیں کہیں واردات کرنے کی کوشش کی، تو دھر لئے گئے، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے،’’را‘‘ کے ایک ایجنٹ سمیت 9افراد گرفتار کئے گئے، اِن منصوبوں کو ناکام بنا کر یہ ثابت کیا گیا کہ پاکستان کے باوقار ادارے دہشت گردوں کے عزائم سے بے خبر نہیں ہیں، اور اُن کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

6ستمبر1965ء کو پاکستان نے اِس عالم میں اپنا بھرپور دفاع کیا، جب اس کے سب سے بڑے حلیف نے، جس سے اسلحہ اور گولہ بارود ملنے کی امید تھی، پاکستان کو ہر قسم کے اسلحہ کی سپلائی اس بنیاد پر روک دی کہ پاکستان کو اِسی صورت میں اسلحہ دیا جا سکتا ہے جب اس پر کسی کمیونسٹ مُلک کی جانب سے حملہ ہو، اب بھارت کا پاکستان پر حملہ چونکہ اس خود ساختہ تعریف کی ذیل میں نہیں آتا تھا،اِس لئے امریکہ نے ہر قسم کے اسلحہ کی سپلائی روک دی۔ عین حالتِ جنگ میں امریکہ کا یہ فیصلہ بہت مہلک ثابت ہو سکتا تھا تاہم پاکستان نے یہ مشکل وقت گزار لیا اور بعد میں اسلحہ سازی کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ غالباً امریکہ کے اِسی فیصلے کے اثرات کی وجہ سے ممکن ہوا، بعد میں بھی ایک موقع پر امریکہ نے ایسے ہی طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، جب پوری ادائیگی کے باوجود ایف16 طیارے روک لئے، یہ تیار شدہ طیارے طیارہ ساز کمپنیوں کے ہینگروں میں کھڑے رہے اور اِن کا کرایہ بھی پاکستان سے وصول کیا جاتا رہا ، امریکہ کے ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان چین کے تعاون سے جے ایف 17تھنڈر جیسا طیارہ بنانے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے پاکستان ائر فورس پاک فضاؤں پر راج کر رہی ہے، اور بر وقت اور ہر گھڑی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد اور تیار ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بالکل بجا کہا ہے کہ پاک فوج کا وہ جذبہ آج بھی زندہ ہے، جس کے تحت65ء میں بھارت کو شکست دی، ہم مستحکم اور خوشحال پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

65ء کے بعد اگرچہ پاکستان کی تاریخ میں 71ء بھی آتا ہے، جب ہم دشمن کی سازشوں اور اپنوں کے غلط فیصلے کی وجہ سے ایک شکست سے دوچار ہوئے، لیکن اِسی راکھ میں وہ چنگاری بھی پوشیدہ تھی، جس نے پاکستان سے ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ کروایا، بھارت نے جب98ء میں ایٹمی دھماکے کئے، تو اس کی قیادت جس قسم کی حرکتوں پر اُترآتی تھی، اگر پاکستان جوابی دھماکوں کا بروقت فیصلہ نہ کرتا اور کوئی مصلحت آمیز فیصلہ کر لیتا، تو شاید بھارت آپے سے باہر ہو جاتا، اور عقل و خرد سے عاری اُس کے حکمران غصے اور طیش میں کوئی ایسی حرکت کر گزرتے، جس کا پاکستان کو نقصان ہوتا، لیکن وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدرکلنٹن کے پانچ ٹیلی فونوں اور بہت سی دلکش پیشکشوں کے باوجود دھماکے کرنے کا بروقت،درست اور تاریخی فیصلہ کر کے بھارت کا مُنہ بند کر دیا اور اس کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔امریکی یقین دہانیوں پر اِس لئے اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا کہ 65ء کی جنگ میں باقاعدہ تحریری معاہدے کو اگر تاویلات کی بھول بھلیوں میں اُلجھایا جا سکتا تھا، اور امریکی عقلِ عیار بھیس بدل کر سامنے آ سکتی تھی، تو زبانی یقین دہانیوں کی کیا حیثیت تھی؟

آج کا پاکستان اگرچہ بعض مسائل کا شکار ہے، اقتصادی محاذ پر اسے مشکلات بھی درپیش ہیں، معاشرے میں ایک طرح کی بے سکونی اور بے اطمینانی بھی ہے،سنگین قسم کی معاشرتی برائیاں بھی ہمارے اندر راہ پا گئی ہیں، نت نئے جرائم نے بھی معاشرے کو برائیوں کا گھر بنا دیا ہے،لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، اس کا دفاع مضبوط ہے، ہر قسم کا ضروری اسلحہ پاکستان کے اندر تیار ہو رہا ہے، ڈرون طیارے اور آبدوزیں بھی بن رہی ہیں، ہمارے بنائے ہوئے طیاروں کے عالمی مارکیٹ میں خریدار بھی موجود ہیں، چند برسوں کے اندر اندر یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، سرمایہ کاری کا میدان وسیع تر ہو گا، تو مشکلات سے دامن چھڑا کر ہم تیزی سے آگے بڑھ جائیں گے، جو عناصر ہر وقت مایوس کن باتیں کرتے رہتے ہیں اور یاس و ناامیدی کے اندھیروں میں بھٹکتے اور دوسروں کو بھی مایوس کرتے رہتے ہیں، اُنہیں پاکستانی قوم کی صلاحیتوں اور زمینی حقائق کا صحیح ادراک نہیں، اور دُنیا دیکھ لے گی کہ پاکستان مختصر وقت کے اندر ایک بدلا ہوا پاکستان ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...