ٹیکس نظام میں اصلاحات لائے بغیر سمگلنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا؛تاجر برادری

ٹیکس نظام میں اصلاحات لائے بغیر سمگلنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا؛تاجر برادری

کراچی (آن لائن) سمگلنگ پاکستانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بازار سمگل شدہ سامان سے بھرے پڑے ہیں اوریہ اشیاء4 دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہیں۔ملکی معیشت عرصہ دراز سے ہونے والی سمگلنگ کے باعث شدید مسائل سے دوچار ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ سمگلرز کے لیے پاکستانی بازار جنت بنے ہوئے ہیں تو شاید ایسا کہنا غلط نہ ہوگا۔ملک سے سالانہ 10 ارب روپے مالیت کے ٹائرز ، 18 سے 20 ارب روپے مالیت کی چائے کی پتی ، 36 ارب روپے مالیت کے ٹائلز ، 100 ارب روپے مالیت کا پلاسٹک جبکہ مصالحہ جات، کاسمیٹکس کا سامان ، سیمنٹ، اور ایرانی تیل، غرض یہ کہ ہر اشیاء4 بھاری مقدار میں سمگل ہورہی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق سمگلنگ سے صرف محصولات کی مد میں حکومت کو سالانہ تقریبا 4 سو ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ اس سلسے میں تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات لائے بغیر سمگلنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : کامرس


loading...