پورے ایوان اور پوری قوم کا فیصلہ

پورے ایوان اور پوری قوم کا فیصلہ

جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم

کی تاریخی تقریر سے چند اقتباسات

’’ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلہ میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا

یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے‘‘

۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے طویل بحث و تمحیص کے بعد قادیانیوں کو متفقہ طور پر7ستمبرکے دن غیر مسلم اور اقلیت قرار دے دیا تو حکومتی پارٹی کے سربراہ اور اس وقت کے با اختیار وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جامع تقریر کی تھی۔انہوں نے کہا: ’’جناب اسپیکر!میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلہ کی تحسین کی مستحق قرار پائے اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلہ کی تعریف و تحسین کا حقدار بنے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلہ، بلکہ میری ناچیز رائے میں کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے ہمارے معاشرے میں تلخیاں اور تفرقے پیدا ہوئے لیکن آج کے دن تک اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلہ پر جس طرح قابو پایا گیا تھا۔ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ ۱۹۵۳ء میں کیا کیا گیا تھا۔ ۱۹۵۳ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلہ کے حل کے لئے نہیں، بلکہ اس مسئلہ کو دبا دینے کے لئے تھا کسی مسئلہ کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا۔ اگر کچھ صاحبان عقل و فہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا، لیکن یہ مسئلہ کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا، مسئلہ دب جاتا لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوتا۔‘‘

آگے چل کر وہ کہتے ہیں: ’’میری ناچیز رائے میں مسئلہ کو حل کرنے کے لئے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں مَیں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلہ کے حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں، اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ جہاں میں نے کئی ایک مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا وہاں اس مسئلہ پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ سوائے ایک موقع کے جب کہ اس مسئلہ پر کھلی بحث ہوئی تھی۔

تقریر آگے بڑھاتے ہوئے ایک موقع پر کہا ’’ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلہ میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلزم کے ذریعہ معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں، ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دئیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کو اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس بات کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لئے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے، یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور مقدس فرض ہے۔

تقریر کے دوران ایک مرحلے پر انہوں نے کہا: ’’ماضی کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر کہوں گا کہ یہ سب سے زیادہ پیچیدہ و مشکل مسئلہ تھا۔ گھر گھر میں ا س کا اثر تھا، ہر دیہات میں اس کا اثر تھا اور ہر فرد پر اس کا اثر تھا۔ یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک شکل اختیار کر گیا۔ ہمیں اس مسئلہ کو حل کرنا ہی تھا۔ ہمیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہی تھا۔ ہم اس مسئلہ کو ہائیکورٹ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر سکتے تھے یا اسلامی سیکرٹریٹ کے سامنے پیش کیا جا سکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنا جانتے ہیں اور انہیں جوں کا توں رکھ سکتے ہیں اور حاضرہ صورت حال سے نپٹنے کے لئے معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس مسئلہ کو اس انداز سے نبٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس جذبہ کے تحت قومی اسمبلی ایک کمیٹی کی صورت میں خفیہ اجلاس کرتی رہی، خفیہ اجلاس کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں کوئی وجوہات تھیں۔ اگر قومی اسمبلی خفیہ اجلاس نہ کرتی، تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آ سکتے؟ اور لوگ اس طرح آزادی اور بغیر کسی جھجک کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے؟ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں، اور لوگوں تک ان کی باتیں پہنچ رہی ہیں، اور ان کی تقاریر اور بیانات کو اخبارات کے ذریعہ شائع کر کے ان کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تو اسمبلی کے ممبر اس اعتماد اور کھلے دل سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکتے، جیسا کہ انہوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔ ہمیں ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کا کافی عرصہ تک احترام کرنا چاہئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بات بھی خفیہ نہیں رہتی۔ لیکن ان باتوں کے اظہار کا ایک موزوں وقت ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کارروائی خفیہ رہی ہے اور ہم نے اسمبلی کے ہر ممبر کو اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو ہمارے سامنے پیش ہوئے یہ یقین دلایا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کو سیاسی، یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ ایوان کے لئے ضروری اور مناسب ہے کہ وہ ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو ایک خاص وقت تک ظاہر نہ کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے لئے ممکن ہو گا کہ ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو آشکارا کر دیں، کیونکہ اس کے ریکارڈ کا ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔

جناب سپیکر! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملہ کے بارے میں میرے جو احساسات تھے میں انہیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے، یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا اور میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلہ کو دوامی طور پر حل کرنے کے لئے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا تھا۔‘‘

تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا: ’’مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ اب میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کروں۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد کے حق میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ آج یہ لوگ ناخوش ہوں گے ان کو یہ فیصلہ پسند نہ ہوگا، ان کو یہ فیصلہ ناگوار ہوگا، لیکن حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اور مفروضہ کے طور پر اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہوئے، میں یہ کہوں گا کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہوا اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہو گئی، مجھے یاد ہے کہ جب حزب مخالف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تحریک پیش کی تو انہوں نے ان لوگوں کو مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے، ایوان اس یقین دہانی پر قائم ہے۔ یہ ہر پارٹی کا فرض ہے، حزب مخالف کا فرض ہے اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کریں۔ اسلام کی تعلیم رواداری ہے۔ مسلمان رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ تمام تاریخ میں اسلامی معاشرے نے روداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا، جب کہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آ کر پناہ لی تھی۔ اگر یہودی دوسرے حکمران معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے، ہم مسلمان ہیں، ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں، تمام لوگوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں۔‘‘

جناب بھٹو کی ساری تقریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے آج کے آزاد خیال لوگوں کے اکثر اشکالات کا بخوبی جواب دے دیا تھا۔ آج اس مسئلے کو پھر بیدار کرنے میں کسی اقلیت کا مفاد نہیں، بلکہ اس سے قومی سطح پر ایک انتشار اور خلفشار پیدا ہو جائے گا۔ بہتر ہے پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے اور پاکستانی قوانین کا پاس رکھا جائے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...