ایران میں احتجاجی مظاہروں، بد نظمی اور بیرونی خطرات سے نمٹے کیلئے مشقیں

ایران میں احتجاجی مظاہروں، بد نظمی اور بیرونی خطرات سے نمٹے کیلئے مشقیں

تہران(اے این این)ایران میں احتجاجی مظاہروں ،اندرون ملک بد نظمی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے پاسداران انقلاب کی عوامی موبلائزیشن فورس’’پاسیج‘‘ کی جنگی مشقیں،خواتین سمیت 50ہزار اہلکاروں نے جنگی مشقوں میں حصہ لیا،تین روزہ جنگی مشقوں میں 'پاسیج' ملیشیا کی خواتین فورس کو بھی خاص طور پر احتجاجی مظاہرے کچلنے کی تربیت دی گئی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے وسط میں ثار اللہ فوجی کیمپ میں ہونے والی ان مشقوں کی نگرانی پاسداران انقلاب کے سینئر عہدیداروں نے کی جب کہ مشقوں میں پاسیج ملیشیا کے 50ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا۔ان مشقوں کی خاص بات خواتین فورس کی تربیت بتائی جا رہی ہے۔ مرد اہلکاروں کی تربیت آئے روز جاری رہتی مگر پہلی بار پاسیج ملیشیا کی خواتین کو مظاہروں کو کچلنے کی تربیت فراہم کی گئی۔ خواتین کو یہ تربیت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک میں پارلیمانی انتخابات اور مصالحتی کونسل کے انتخابات کی آمد آمد ہے۔ امکان ہے کہ ہے کہ انتخابات کے موقع پر اصلاح پسند جماعتوں کی جانب سے قدامت پسندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔مشقوں کے دوران 'پاسجی خواتین' کو فن پہلوانی کا مظاہرہ کرنے، سڑکوں اور گلیوں محلوں میں احتجاج کی روک تھام کے لیے دفاعی طریقے اپنانے اور عوامی جلوس کو منتشر کرنے کی تربیت فراہم کی گئی۔ثار اللہ فوجی کیمپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مشقیں آیت اللہ علی خامنہ ای کی خصوصی ہدایت پر کی گئی ہیں۔ جنگی مشقوں کے دوران اہم عسکری رہ نماؤں نے خطاب بھی کیا۔ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے حسب معمول امریکیوں کو خوب لتاڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد ہم امریکیوں کی پل پل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم امریکا کے اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی مفادات سمیت ہر چیز کو نشانہ بنائیں گے۔

مزید : عالمی منظر


loading...