پولیس جرائم کے سد باب میں ناکام 8 ماہ میں 11 ہزار 5 سو 11 مقدمات درج

پولیس جرائم کے سد باب میں ناکام 8 ماہ میں 11 ہزار 5 سو 11 مقدمات درج

 لاہور(بلال چودھری)کینٹ ڈویژن کی آپریشن ونگ پولیس نے علاقہ میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دے دی ۔منشیات فروشوں ،چوروں اورجیب تراشوں کے گینگ ڈویژن میں پنپنے لگے ۔ بچوں کو اغواکرنے والے گروہوں نے بھی ڈویژن میں پیر مضبوط کر لئے ہیں۔ اس ہی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کے پہلے 8ماہ میں ہی جرائم کی شرح میں پہلے سے 29فیصد اضافہ ہو گیا اور سال ختم ہونے تک مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق 16تھانوں اور 6سر کلز پر مشتمل کینٹ ڈویژن شہر کی حساس ترین ڈویژن ہے ۔علاقہ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان ومال اور عزتوں کی حفاظت کرنا آپریشن ونگ پولیس کی ذمہ داری ہے ۔لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ،اسی وجہ سے گزشتہ سال درج کئے گئے 8886 مقدمات کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 8ماہ میں ہی مقدمات کی تعداد 29 فیصد اضافہ کے ساتھ 11511ہو چکی ہے۔ ان میں قتل کے 57،اقدام قتل کے 88 اور ڈکیتیوں کے 15مقدمات شامل ہیں ۔ڈویژن میں پولیس کے گشت کی کمی کی وجہ سے چوری وڈکیتی کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں جبکہ سٹریٹ کرائم اور جیب تراشی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔گزشتہ سال موٹر سائیکل چوری کی 469وارداتوں کے مقابلے میں رواں سال میں ابھی تک 534وارداتیں ہو چکی ہیں۔ 458چوری اور 813نقب زنی کی وارداتیں ریکارڈ کی گئیں ۔ڈویژن میں چوروں،نقب زنوں اورجیب تراشوں کے مختلف گینگ پنپ رہے ہیں جو کہ ساتھ میں منسلک ڈویژنوں میں بھی وارداتیں کرتے ہیں ۔اس کا ثبوت رواں سال کے 8ماہ میں ہونے والی 143جیب تراشی کی وارداتیں جو کہ پچھلے سال 57تھیں اس طرح سے ان میں 150گنا اضافہ ہوا ہے جو کہ پولیس حکام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔اسی طرح سے سٹریٹ کرائم میں پرس چھیننے کی 69،دکانوں میں چوریوں کی 58،گھروں میں چوری کی 84 اور منشیات فروشی کی 789 وارداتیں ڈویژن میں ہونا آپریشن پولیس کی "اعلیٰ کارکردگی" کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آپریشن پولیس کی قیادت کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز پولیس افسران کی ناقص حکمت عملی اور سست روی کی وجہ سے ڈویژن میں اغواکاروں کے گروہ سرگرم ہو گئے ہیں ۔بچوں کو اغوا کرنے کی پچھلے 8ماہ میں 59وارداتیں ہوئیں جو کہ پچھلے سال صرف 33تھیں اس طرح سے ان وارداتوں میں 90فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے اغواکی 409وارداتیں ہو چکی ہیں اور ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈویژن میں بد اخلاقی کے واقعات کا گراف بھی نیچے آنے کی بجائے روز بروز اوپر کی جانب جا رہا ہے ۔ابھی تک زنا بلجبر کے 53،بد اخلاقی کے 36اور اجتماعی بد اخلاقی کا 1مقدمہ منظر عام پر آیا ہے جو کہ پچھلے سال بلترتیب 50،41اور 2تھے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بد اخلاقی کی کچھ وارداتیں دوران ڈکیتی کی گئی ہیں۔جوا خانوں کی بہتات کی وجہ سے 142مقدمات جوئے کے بھی درج کیے گئے ہیں ۔جبکہ شہریوں پر تشدد کے حوالے سے 279مقدمات درج کیے گئے۔جرائم کی شرح کے لحاظ سے تھانہ فیکٹری ایریا ،شمالی چھاؤنی ،غازی آباد ،باغبانپورہ ،ہربنس پورہ اور برکی سرفہرست ہیں ،جہاں ہر سال جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے تھا نوں میں پہلے نمبر پرتھانہ باغبانپورہ دو سرے پرغازی آباد،تیسرے پرفیکٹری ایریا جبکہ مناواں چوتھے نمبر پر آتاہے ۔ڈویژن کے مختلف تھانوں میں آنے والے سائلین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نمائندہ" پاکستان" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس افسران علاقہ میں جرائم پیشہ عناصر کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکا م ہو چکے ہیں اور چوریاں و ڈکیتیاں معمول کی بات بن چکی ہیں جبکہ بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں بتدریج اضافہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو باہر نکالنے سے ڈرتے ہیں ۔آئی جی پنجاب اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں تاکہ عوام کے جان ،مال اورعزتوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس حوالے سے ایس پی آپریشن کینٹ امتیاز سرور سے ان کے نمبر پر رابطہ کیا گیا تو ان کے آپریٹر کا کہنا تھا کہ 6ستمبر کی تقریب کے حوالے سے ایس پی مصروف ہیں البتہ اس نے بتایا کہ ان کا کہنا ہے کہ ڈویژن میں بڑی کرائم کی وارداتوں پر قابو پا لیا گیا ہے سٹریٹ کرائم اور جیب تراشی کے حوالے سے ہم نے ٹیمیں تشکیل دی ہیں ان گینگز کا جلد ہی قلع قمع کر دیں گے ۔

مزید : علاقائی


loading...