یوم دفاع پر میاں شہباز شریف سے اپیل

یوم دفاع پر میاں شہباز شریف سے اپیل
 یوم دفاع پر میاں شہباز شریف سے اپیل

  


اس بار یوم دفاع ذر ا روائتی سے زیادہ جوش و خروش سے منا یا گیا۔ ہم اپنے دشمن کو بتا رہے ہیں کہ ہم آج بھی جنگ کے لئے تیار ہیں۔ صرف پاک فوج کے جوان ہی نہیں قوم کا بچہ بچہ ملک کے لئے جان کا نذرانہ دینے کے لئے تیار ہے۔ ملک حالت جنگ میں ہو یا حالت امن میں پاک فوج اور قوم کا قدم سے قدم ملا کر چلنا ہی ملکی مفاد میں ہے۔ جب فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا ہو جاتی ہے تو فوجیں جیتی جنگ بھی ہار جاتی ہیں۔ اس لئے محب وطن فوج کے ساتھ ایک محب وطن قوم بھی ملکی دفاع کے لئے ناگزیر ہے۔

یوم دفاع منانے سے جہاں ہم اپنے بہادر جوانوں کی ہمت، جرات ، شجاعت کی داستانوں کو یاد کر رہے ہیں ۔ وہاں اس کا ایک مقصد نئی نسل کو بھی ملک کے دفاع کے لئے تیار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ عظیم دوئم میں چرچل سے جب برطانیہ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا توانہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ کی عدالتیں ٹھیک کام کر ہی ہیں۔تو برطانیہ کے مستقبل کو جنگ سے کوئی خطرہ نہیں۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ چرچل نے ٹھیک کہا تھا ۔ چرچل کی عدالتوں سے مراد نظام انصاف تھا۔ اگر کسی بھی ملک میں نظام انصاف ٹھیک کام کر رہا ہو تو اس کے مستقبل کو کوئی خطرہ نہیں ہو تا۔

میاں شہباز شریف کی توجہ چاہتا ہوں۔ حالانکہ آج پوری قوم کی توجہ پاک فوج کی طرف ہے۔ ہر طرف پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن بات سادہ ہے کہ ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے ملک کے نظام انصاف کو مضبوط بنا نا ہو گا۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کا ملک پر اعتماد بڑھانے کے لئے انہیں انصا ف دینا ہو گا۔

میں سارا دن افسردہ رہا۔صبح صبح ایک خبر پڑھی ۔ اور سارا دن اس کا اثر میرے دل اور دماغ پر رہا۔ خبر کوئی خاص نہیں تھی۔ روز مرہ کی داستان ہے۔ لیکن پھر بھی دل تھا کہ مان ہی نہیں رہا تھا۔ سارا دن دل و دماغ کے درمیان یہ کشمکش رہی کہ کیا یوم دفاع کے موقع پر جب سب ایک پر امید ایجنڈا کے تحت بات کر رہے ہیں۔ میں ایک نوحہ لکھنے بیٹھ جاؤں۔ جب سب جیت کے ترانے گا رہے ہیں۔ میں رونا دھونا شروع کر دوں۔ لیکن سارا دن بعد بھی میں اپنے اپنی توجہ اس خبر سے نہ اٹھا سکا۔ میں نے خبر کی تصدیق کے لئے فیصل آباد صحافیوں کو فون بھی کئے۔ اور مجھے اس خبر کی تصدیق ہوئی۔ کہ خبر واقعاتی طور پر سچ ہے۔جس طرح تصدیق ہوئی۔ دکھ اور قرب میں اور اضافہ ہو گیا۔

خبر تو سادہ ہے کہ فیصل آباد کی ایک سڑک پر دو گاڑیوں کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ہر ایکسیڈنٹ میں ایک فریق کی غلطی ہوتی۔ اور یہ بھی معمول ہے کہ ایکسیڈنٹ کے موقع پر فریقین کے درمیان تلخی ہو جاتی ہے۔ اسی لئے جب بھی کہیں ایکسیڈنٹ ہو پولیس کو طلب کیا جا تا ہے۔ اور اس حوالے سے قانون سازی بھی کی گئی ہے تا کہ یہ طے ہو سکے کہ کس کی غلطی ہے۔ اکثر ایسا ہو تا ہے کہ جب ایکسیڈنٹ ہو تا ہے تو لوگ اپنی مدد کے لئے اپنے گھر والوں کو دوستوں کو بلا لیتے ہیں تا کہ صورتحال سے نبٹنے میں آسانی ہو سکے۔ فیصل آباد میں ہونیو الے اس ایکسیڈنٹ میں کہا جا رہا ہے کہ ایک خاتون نے دوسری گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری۔ یہ ایک ٹریفک اصول ہے کہ پیچھے سے ٹکر مارنے والے کی غلطی ہو تی ہے۔ جب سڑک پر تنازعہ بڑھا تو خاتو ن نے اپنی مدد کے لئے فیصل آباد کے رکن صوبائی اسمبلی طاہر جمیل کو موقع پر بلا لیا۔ یہ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں یہ ہمارا کلچر ہے کہ جب ہم غلط یا صحیح کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو اپنے بااثر تعلق والے کو اپنی مدد کے لئے بلا لیتے ہیں۔ بہر حال حکمران جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی موقع پر پہنچ گئے ۔ اور ان کے آنے سے معاملہ ان کے فریق کے حق میں ہی طے ہو گیا ۔ کیونکہ ہمارے ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ یہاں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تنازعہ کا دوسرا فریق ایک سرکاری ملازم تھا۔ لیکن چونکہ موقع پر گرمی سرد ی ہو گئی تھی۔ اور جناب ایم پی اے نے اس کو اپنی تو ہین سمجھ لیا تھا۔

اس لئے ایم پی اے نے ایک پرچہ اپنی طرف سے فیصل آباد کے تھانے منصور آباد میں کٹوا دیا کہ ایکسیڈنٹ کے تنازعہ کے دوران اس کا موبائیل، ساٹھ ہزار روپے کے تین چیک اور قومی شناختی کارڈ چوری ہو گیا ہے۔ بعد میں اسی پرچہ میں اس ایکسیڈنٹ کے فریق سرکاری افسر کے چھوٹے بیٹے شہر یار کو گرفتار کر لیا جو ایک الیکٹریکل انجینئر تھا۔ تا ہم بعد میں پولیس نے کہا کہ بڑا بھائی شیراز پیش کردیں تو چھوٹے کو چھوڑ دیں گے۔ سرکاری ملازم نے چھوٹے بیٹے کو چھڑانے کے لئے بڑے بیٹے شیراز کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا۔ جو ایم ایس سی کر چکا ہے اور پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ اس طرح پولیس نے ایک پی ایچ ڈی کو مو بائل چوری کے مقدمہ میں گرفتار کر لیا۔ کہا جا تا ہے کہ تین دن پولیس نے شیراز کو رکھا پھر شیر ا ز کے والد نے عدالت کا دروازہ کھٹکا یا اور بیلف نے چھاپہ مارا تواس کی گرفتاری ڈال دی گئی۔ اوریوں یہ پی ایچ ڈ ی جیل چلا گیا۔

اس واقعہ میں کچھ بھی نیا نہیں۔ ہماری پولیس روزانہ ایسے کام کرتی ہے۔بے گناہ کو پکڑتی ہے۔ لیکن پھر بھی میری میاں شہباز شریف سے اپیل ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیں۔ اگر کسی ان پڑھ کے ساتھ یہ واقعہ ہو تا تو شائد کوئی اہم بات نہیں تھی۔ لیکن ایک انجینئر اور ایک پی ایچ ڈی ہے۔ اس واقعہ سے ان کا پاکستان پر سے اعتماد اٹھ گیا ہو گا۔ وہ پولیس سے نہیں پاکستان سے بد ظن ہو گئے ہونگے۔ ہمیں نظام انصاف ٹھیک کرنا ہو گا۔ پولیس کے افسران روائتی بیان دے رہے ہیں کہ انکوائری کر رہے ہیں۔ لیکن اس معاملہ میں انصاف اتنا ہی واضح ہونا چاہئے جتنا ننگا اور واضح ظلم تھا۔ شائد یہی یوم دفاع کی اصل روح ہے۔

مزید : کالم


loading...