شرجیل میمن کے منیجر سے تفتیش ،جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی

شرجیل میمن کے منیجر سے تفتیش ،جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق ڈی آئی جی پولیس اور موجودہ انٹیلی جنس آفیسر بشیر میمن کے بھتیجے کو 75 لاکھ روپے تاوان کے عوض چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ شرجیل انعام میمن کے ذاتی ملازم بشیر بروہی سے تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کی ٹیم مکلی روانہ ہوگئی ہے۔ کراچی پولیس کے سینئر افسران بھی جلد مکلی روانہ ہوگی۔ ممکن ہے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بھی تشکیل دی جائے ۔ اخباری بیانات کے مطابق پیر فرید جان سرہندی نے ڈی جی رینجرز سے اس کیس میں مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے ،بشیر بروہی کو موبائل کال ڈیٹا کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے اور ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں ڈی جی رینجرز مداخلت کرکے مکمل تفتیش رینجرز سے کرائیں۔ذرائع کے مطابق بشیر میمن کے بھتیجے اور ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر سجاول آصف میمن کو حیدر آباد کے ہٹڑی تھانے کی حدود سے 23 اکتوبر 2014 کو اغوا کیا گیا تھا۔ آصف میمن کو اغوا کاروں نے ڈھائی ماہ تک اپنے پاس رکھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ڈیل فون پر ہوئی اور تاوان کی رقم حیدرآباد کے علاقے قاسم چوک کے نزدیک ادا کی گئی۔ اغوا کاروں کے چنگل سے رہائی پانے والے آصف میمن کے بھائی خالد میمن کی طرف سے بیان آیا ہے جس میں انہوں نے ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی کی جانب سے اغوا کے اس واقعے میں صوبائی وزیر شرجیل میمن کو ملوث کرنے کی سختی سے تردید کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شرجیل میمن سے ان کی دوستی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر اور ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی کے اچھے تعلقات اور زمینوں کے معاملات میں ان کی شراکت داری بھی رہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینوں کے معاملے میں شیئرنہ ملنے پر اختلافات پیدا ہوئے ۔ پیر فرید کی بشیر بروہی سے بھی ملاقات رہی ہے ۔ اختلافات کے بعد دس ماہ پرانے کیس میں بشیر بروہی کو گرفتار کیا گیا۔

مزید : علاقائی


loading...