کسی کو مزہبی آزادی کی آڑ میں گستاخی رسولؐ کی اجازت نہیں دی جاسکتی: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

کسی کو مزہبی آزادی کی آڑ میں گستاخی رسولؐ کی اجازت نہیں دی جاسکتی: عالمی مجلس ...

لاہور( خبر نگار خصوصی )عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷ستمبر۴۷۹۱ پاکستان کی قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کی یاد میں منعقد ہونے والی سالانہ تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلامی تعلیمات کی اساس ، امت میں اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے مینارہ نور ہے۔ کسی شخص کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی آڑ میں گستاخی رسول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جاناپاکستان کی نیشنل اسمبلی کا جرأت مندانہ فیصلہ ہے۔مولانا مفتی محمود،مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا شاہ احمدنورانی،پروفیسرغفوراحمد،چوہدری ظہور الٰہی،بھٹومرحوم اورانکی پوری کابینہ نے قادیانیوں کے دونوں گروہوں غیرمسلم اقلیت قرار دے کر امت مسلمہ کی ترجمانی کا حق اداکردیا ہے۔قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔۷ ستمبر کا دن یوم تجدید عہدکا دن ہے۔ پوری دنیا میں مغربی ایجنڈا مسلط کرنے اور قادیانیت کے پھیلاؤ میں علمائے کرام سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے اسلام پسند تحریکوں کو پوری دنیا میں مطعون ومرعوب کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس کی صدارت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیرمولانا مفتی محمدحسن نے سرانجام دئیے۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماشاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایانے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ کرنا قربت خداوندی اور نجات اخروی حاصل کرنے کے مترادف ہے،جب تک اس دھرتی پر ایک بھی قادیانی موجود ہے ہماری تحریک جاری رہے گی،قادیانیوں کی غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مجاہدین ختم نبوت اور اراکین پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے قرارداد پیش کر کے پوری امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ اداکیا ہے تمام اراکین پنجاب اسمبلی مبارک با دکے مستحق ہیں۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے وحیدگل نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اسمبلی کی رکنیت کیا چیزہے اپنی جان بھی قربان کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ واجدشمس الحسن نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے پر تنقید کر کے پور ی پارلیمنٹ کی توہین کی ہے،پنجاب اسمبلی نے اس کے خلاف قرارداد پیش کر کے عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کا فیصلہ صرف علماء کرام اور مفتیان عظام نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیشن کورٹس ، ہائیکورٹس ، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے لے کر کینیا، رابطہ عالم اسلامی ، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ اور گمبیاکی عدالتوں نے بھی قادیانیوں کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانی ملک و ملت دونوں کے غدار ہیں۔ مولانا مفتی محمد حسن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسلام کے تمام بنیادی ارکان اور اسلامی نظام حیات کی عمارت بھی اسی عقیدے پر قائم ہے۔کراچی مجلس کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمدنے کہا کہ قادیانی آیات ختم نبوت میں تحریف معنوی اور احادیث نبویہ میں مطلب براری کے معانی نکال کر امت مسلمہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔متحدہ جمعیۃ اہلحدیث کے مرکزی رہنما مولانا سیدضیاء االلہ شاہ بخاری نے کہا کہ دینی مدارس، علمائے کرام اور اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کو وارننگ دینے والوں کو عاد و ثمود اور مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا انجامِ بد بھی یاد رکھنا چاہیے۔ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ قرار دینے والے عناصر قادیانی موقف کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں ۔معروف اسلامی سکالر مولانا زاہدالراشدی نے کہا کہ ملک عزیزکی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ہم ۳۷۹۱ء کے آئین کی دفاع کی جنگ لڑ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت میں ہم فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مدارس ملک عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں علماء اور طلبا ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی طرف کسی دشمن کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دینگے،انکی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔بریلوی مکتب فکر کے رہنما مولانا مفتی غلام حسین کلیالوی نے کہا کہ قادیانی گروہ سازش کے تحت ۴۷۹۱ء اور ۴۸۹۱ کی آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے لئے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ قادیانی دین اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں ۔جمعیۃ علماء اسلام س کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ دینی جماعتوں اور مذہبی لوگوں اور دینی مدارس کے خلاف بے بنیاد پرپیگنڈا کیا جارہا ہے، تعجب کی بات ہے کہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والوں پر جھوٹی ایف آئی آر کا ٹی جارہی ہیں حالانکہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔لندن کے معروف عالم دین مولانا امدادالحسن نعمانی نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کامقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم و نسق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔جماعت اسلامی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمدانورگوندل نے کہا کہ پاکستان میں مسلمان اکثریتی اعتبار سے جانے پہچانے جاتے ہیں لیکن ملک کا پورا نظام قادیانی اقلیت اور چند فیصد باقی اقلیتوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اقلیتوں کے تحفظ کے حقوق کے نام پر مسلمان اکثریت سے سنگین مذاق ہے ۔مولانا عبدالشکور حقانی نے کہاکہ مخبر صادق نے خبر دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال اور کذاب نبوت کا دعوی کریں گے ان پر یقین نہ کرنا میں تمام نبیوں میں سے آخری نبی ہوں۔ میرے بعد جدید نبوت ممنوع و منقطع ہے۔مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے کہاکہ قادیانیوں کو پاکستان کی تمام عدالتیں اور پارلیمنٹ غیرمسلم اقلیت قرار دے چکی ہیں قادیانی عفریت ان فیصلوں کا کھلے عام مذاق اڑا رہا ہے۔مولانا عزیزالرحمن ثانی نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے شعبے میں چھپے ہوئے سازشی قادیانی غیرمحسوس انداز اور خفیہ طریقے سے ملکی استحکام کے خلاف خطرناک سازشوں میں مصروف ہیں۔کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لاہور کے سرپرست مولانا مفتی نعیم الدین، آسٹریلیا مسجد کے خطیب مولانا عبدالرؤف ملک ،مولانا حافظ محمد سلیم،جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے امیر شیخ الحدیث مولانا محب النبی،،وفاق المدارس لاہور ڈویژن کے مسؤل مولانا عزیزالرحمن،پیررضوان نفیس،قاری مومن شاہ ،مولانا سید ضیا ء الحسن شاہ،مولانا عبدالنعیم ،مولانا محبوب الحسن طاہر،مولانا قاسم گجر،مولانا شاہد عمران عارفی،حامد بلوچ،قاری ظہورالحق،قاری عبدالعزیز،قاری علیم الدین ،جامعۃ الخیر کے ناظم محمدنعمان حامدشاکر،مولانا خالدمحمود،مولاناسعیدوقار،مولانا عمرحیات،حافظ محمداشرف گجر،مولانا محمداسماعیل ،مولانا محمدسعادت،مولانا خالدعابد،تاجر رہنما حاجی مقصود ،خلیل الرحمن،حافظ عباس سمیت کثیر تعداد میں علماء طلباء،تاجربرادری ،صحافی اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...