لاہور، 8ماہ میں ڈکیتی اور چوری کی 16ہزار 6سو وارداتیں، شہریوں کا 2ارب کا نقصان

لاہور، 8ماہ میں ڈکیتی اور چوری کی 16ہزار 6سو وارداتیں، شہریوں کا 2ارب کا نقصان

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)لاہور پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام، ہر ایک گھنٹے میں3شہری لٹنے لگے۔یکم جنوری 2015سے 31اگست 2015تک 8ماہ کے دوران لاہور میں ڈکیتی ، راہزنی ، چوری ، گاڑی و موٹر سائیکل چھینے، چوری کئے جانے اور چوری کی دیگر 16ہزار 6سو سے زائدرجسٹرڈ وارداتیں ہوئیں۔جن میں شہریوں کو دوارب روپے سے زائد مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔معلوم ہواہے کہ لاہور پولیس کی قیادت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ پولیس شہریوں کے جان ومال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران یکم جنوری 2015سے 31اگست 2015تک شہر میں ڈکیتی ، راہزنی ، چوری ، گاڑی و موٹر سائیکل چھینے اور چوری کئے جانے اور چوری کی دیگر 16ہزار 6سو سے زائدرجسٹرڈ وارداتیں ہوئیں۔اور یوں اوسطاً لاہور میں 24گھنٹوں کے دوران ہر ایک گھنٹے میں کم از کم 3شہری اپنی جمع پونچی سے محروم ہوتے رہے۔پولیس کے اپنے اعداوشمار کے مطابق گزشتہ 8ماہ کے دوران لاہور میں ڈکیتی کے دوران قتل کی 20وارداتیں ہوئیں،پٹرول پمپ پر ڈکیتی کی ایک واردات ، مرکزی راستوں پر ڈکیتی کی 14وارداتیں ہوئیں، گھروں میں 28، دکانوں میں 18اور ڈکیتی کی متفرق وارداتیں 9ہوئیں۔ اسی طرح گزشتہ 8ماہ کے دوران شہر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382کے تحت چوری کی ایک سو 44وارداتیں ہوئیں، نقب زنی کی تین ہزار 60، گاڑی چھیننے کی 30، گاڑی چوری کی 7سو 37، موٹر سائیکل چھیننے کی 4سو 29اور موٹر سائیکل چوری کی 3ہزار 3سو 9، جبکہ گاڑیاں چھینے جانے کی متفرق وارداتیں 25اور گاڑیاں چوری کئے جانے کی متفرق وارداتیں3سو 38ہوئیں۔اسی طرح گزشتہ 8ماہ کے دوران لاہور میں سائیکل چوری کی 87، تار چوری کی 10، مویشی چوری کی ایک سو 36،درخت چوری کی 15،پرس چھیننے کی 3سو 16،موبائل فون چھیننے کی 3سو 20اور چوری کی متفرق 4ہزار 9سو سے زائد وارداتیں ہوئیں۔ذرائع کے مطابق ساڑھے 16ہزار سے زائد چوری و ڈکیتی کی ان وارداتوں میں شہریوں کو دو ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔شہر میں ہونے والی ان وارداتوں کے حوالے سے گفتگو کے لیے لاہور پولیس کے چیف سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...