افغانستان، ہزارہ برادری کے 13افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا

افغانستان، ہزارہ برادری کے 13افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا

کابل(این این آئی)نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے شمالی افغانستان کے نسبتا پرسکون صوبے میں بسوں پر سوار ہزارہ نسل کے 13افراد کو اتار کر ہلاک کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ہزارہ باشندوں کو دو بسوں سے اتارنے کے بعد قطار میں کھڑا کر کے انتہائی قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ یہ لرزہ خیز واردات افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے ضلع زری میں ہوئی۔ ہلاک کیے گئے تمام افراد مرد تھے۔ کسی گروپ نے اِن ہلاکتوں کی ذمہ داری ابھی تک قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں طالبان شدت پسند ایسے خونی واقعات میں ملوث رہ چکے ہیں۔ اب تو افغانستان کے چند علاقوں میں اسلامک اسٹیٹ کے جہادی بھی سرگرم ہیں اور اِسی باعث بعض حلقے ان پر بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔بلخ صوبے کے ضلع زری کے انتظامی افسر جعفر حیدری کے مطابق ہزارہ نسل کے مسافروں کو بسوں سے اتار کر حملہ آوروں نے ایک قطار میں کھڑا کر کے قتل کیا۔ حیدری کے مطابق دونوں بسوں میں سے ایک پر سوار ہزارہ نسل کی ایک خاتون کو حملہ آوروں نے ہلاک کرنے سے گریز کیا اور اس کی جان بخشی کر دی تھی۔ بلخ صوبے کی پولیس کے نائب سربراہ عبدالرزاق قادری کے مطابق موقعہ واردات سے شہادتیں جمع کرنے کے بعد تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...