امریکہ کا ایک سائنسدان جو گزشتہ 12سال سے نہیں نہایا

امریکہ کا ایک سائنسدان جو گزشتہ 12سال سے نہیں نہایا
امریکہ کا ایک سائنسدان جو گزشتہ 12سال سے نہیں نہایا

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت اور پاکستان میں سادھوؤں اور ملنگوں کے سالوں نہ نہانے کے قصے تو ہم سنتے رہتے ہیں لیکن امریکہ میں ایک سائنسدان ایسا ہے جو گزشتہ 12سال سے نہیں نہایا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پانی میسر نہیں یا وہ پانی سے خوفزدہ ہے بلکہ اس کی عجیب و غریب وجہ یہ ہے کہ یہ سائنسدان انسانی صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کو اپنے جسم پر پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے اور نہا کر انہیں ختم نہیں کرنا چاہتا۔اس سائنسدان کا نام ڈیو وائٹ لاک ہے اور اس نے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے کیمیکل انجینئر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ڈیو وائٹ لاک کو نہ نہانے کا خیال اس وقت آیا جب اس سے اس کی گرل فرینڈ نے ایک روز پوچھا کہ ’’اس کا گھوڑاپانی میں نہانے کی بجائے مٹی میں کیوں لیٹتا ہے؟‘‘ ڈیووائٹ لاک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ گھوڑا جس طرح مٹی میں لیٹ کر اس عمل سے نہانے کے فوائد حاصل کرتا ہے ، اس نے یہ رویہ اپنے ارتقائی عمل سے سیکھا اور آج بھی پانی سے نہانے کی مٹی میں لیٹتا ہے صحت مند رہتا ہے۔ڈیو وائٹ لاک دن میں دو بار اپنے جسم کو صاف رکھنے کے لیے ایک سپرے استعمال کرتا ہے جو کیمبرج کی ایک کمپنی بناتی ہے۔ اس سپرے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ جسم کی صفائی تو کر دیتا ہے لیکن مفید بیکٹیریا کو نقصان نہیں پہنچاتا۔اس کے علاوہ ڈیو کبھی کبھارا سفنج(Sponge) سے اپنے جسم پر موجود گردوغبار صاف کر لیتا ہے۔ڈیو وائٹ لاک کا کہنا ہے کہ ’’میں گزشتہ 12سال سے نہیں نہایا۔ کسی نے بھی روزانہ نہانے والے افراد کا طبی معائنہ کرکے یہ نہیں بتایا کہ ان کی روزانہ نہانے کی عادت صحت کے لیے ٹھیک ہے یا نہیں۔‘‘مفید جراثیموں کو محفوظ رکھنے اور جسم کو صاف کرنے والا یہ سپرے بنانے والی کمپنی AOBiomeکی جنرل منیجر جیسمینا ایگانوک کا کہنا ہے کہ ہم اپنے آپ کو بیکٹیریا سے پاک کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ ہم نے مٹی کو اپنی زندگیوں نکال کر دور پھینک دیا ہے۔ ہم گھر سے باہر مٹی یا ریت میں کھیلنے میں اتنا وقت صرف نہیں کرتے جتنا کرنا چاہیے، حتیٰ کہ آج کل بچے جراثیم کے خوف سے بھی مٹی میں اس قدر نہیں کھیلتے۔جیسمینا نے سپرے کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سپرے بے بو ہے اور یہ بالکل پانی ہی کی طرح محسوس ہوتا ہے، اس سے جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ مفید بیکٹیریا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...