لائٹ سوئچز،ٹی وی ریموٹ،گلاس،بیڈ لائنن ،ٹیلیفون کی پیڈجراثیم کی آماجگاہ

لائٹ سوئچز،ٹی وی ریموٹ،گلاس،بیڈ لائنن ،ٹیلیفون کی پیڈجراثیم کی آماجگاہ
لائٹ سوئچز،ٹی وی ریموٹ،گلاس،بیڈ لائنن ،ٹیلیفون کی پیڈجراثیم کی آماجگاہ

  


لندن (نیوز ڈیسک) زندگی میں آپ نے بھی اکثر مختلف ہوٹلوں میں قیام کیا ہوگا۔ زیادہ تر ہوٹل بظاہر بے حد صاف شفاف نظر آتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر ہوٹلوں میں عملے کے پاس صفائی ستھرائی کیلئے بے حد محدود وقت ہوتا ہے۔لہٰذا بہت سی جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن پر جراثیم کی بہت بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ’یونیورسٹی آف ہیوسٹن‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آئے۔لائٹ سوئچز: تحقیق کاروں کے مطابق ’لائٹ سوئچز‘ ہوٹل کے کمرے کی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سب سے زیادہ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ تحقیق میں 9 کمروں سے 19سیمپل لئے گئے۔ لائٹ سوئچز پر بیکٹیریا کی اوسط تعداد 122.7یونٹ فی کیوبک سینٹی میٹر پائی گئی۔ اسی طرح انسانی فضلے سے جڑے جراثیم کی بھی بھاری تعداد پائی گئی۔ ٹی وی ریموٹ: ٹی وی ریموٹ ہوٹل کے کمرے میں موجود دوسری غلیظ ترین چیز ہے۔ ان پر بیکٹیریا کا اوسط 67.6پایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً ہوٹل کا عملہ ریموٹ صاف نہیں کرتا۔گلاس: ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً جس گندے کپڑوں سے گلاسوں کو صاف کیا جاتا ہے۔ چند ہوٹلوں میں عملہ انہیں چمکانے کیلئے شیشے والی پالش کا استعمال بھی کرتا ہے ۔ کمرے میں موجود گلاس استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھولیں۔بیڈ لائنن: ماہرین کے مطابق جب بھی چیک ان کریں ’بیڈ لائنن‘ تبدیل کرنے کی درخواست ضرور کریں کیونکہ عموماً بیڈ شیٹس تبدیل کردی جاتی ہیں لیکن کوورز کو اتنی باقاعدگی سے نہیں دھویا جاتا۔ٹیلیفون کی پیڈ: ہیوسن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ٹیلیفون کے کی پیڈ پر بیکٹیریا کی اوسط تعداد 20.2 فی کیوبک سینٹی میٹر پائی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...