اور پھر وقتِ شہادت آ پہنچا۔۔۔!!

اور پھر وقتِ شہادت آ پہنچا۔۔۔!!
اور پھر وقتِ شہادت آ پہنچا۔۔۔!!

  


میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے دو ساتھی یونیورسٹیوں کے گریجویٹ تھے، جن کا خیال تھا کہ عزیز بھٹی جو میٹرک پاس ہیں، اپنے سپاہیانہ اوصاف کی وجہ سے ’’سورڈ آف آنر‘‘ تو حاصل کر سکتے ہیں، لیکن علمی میدان میں کوئی ’’اعزاز‘‘ حاصل نہیں کر سکتے۔ تاہم اکیڈمی میں دو سال کے نصاب کے خاتمہ پر راجہ عزیز بھٹی نے ’’سورڈ آف آنر اور میڈل‘‘ حاصل کر کے سب کے مُنہ بند کر دیئے۔ وہ بہت سادہ تھے۔ سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ساری عمر سگریٹ تک نہ پیا۔ ارشاد نبویؐ کی تکمیل میں مسرت محسوس کرتے تھے۔ دوسروں کے دُکھ درد بانٹتے تھے۔ ہر روز تلاوتِ قرآن پاک کرتے۔ ملکی حالات پر گہری نظر ہوتی تھی۔میجر صاحب کی گھریلو زندگی بہت خوشگوار تھی۔ اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے اور گھر میں موجودگی کی صورت میں ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ بچوں کی تعلیم میں انہیں خصوصی دلچسپی ہوتی تھی۔ انہیں ہمیشہ بہتر سے بہتر ماحول مہیا کرنے کی کوشش کرتے۔ میجر عزیز بھٹی چونکہ ایک مذہبی شخص تھے اس لئے بھڑکیلے لباس اور میک اپ وغیرہ کو اپنے خاندان کی خواتین کے لئے پسند نہیں کرتے تھے۔ انہیں دولت کا لالچ کبھی نہیں رہا، چونکہ بڑے اصول پسند تھے اس لئے فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

14اپریل 1950ء میں وہ پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور 1951ء میں اس رجمنٹ کے کیپٹن کمانڈر بن گئے۔ 1956ء میں وہ اعلیٰ فوجی تربیت کے لئے کینیڈا چلے گئے۔ وہاں 10ماہ قیام اور تربیت کے بعد واپس آئے تو میجر بن چکے تھے۔ جولائی 1957ء سے ستمبر 1959ء تک کوہاٹ اور جہلم میں جی ایس او آپریشنز کی حیثیت سے مامور رہے۔ بعدازاں جون 1961ء سے جون 1964ء تک پنجاب رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے کام کیا۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں کوئٹہ میں سکول آف انفنٹری کا انسٹرکٹر بنا دیا گیا، جہاں وہ مئی 1965ء تک یہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔6ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر اچانک حملہ کیا اور سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کی تو یہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے اُن کے سامنے شدید مزاحمت کی اور بڑی جرأت و بہادری اور پامردی سے اُن کا راستہ روک لیا۔ اُن کی پیش قدمی جہاں تھی، وہیں رک گئی۔ اس دوران پاک فوج نے بھی ’’موو‘‘ کیا اور فوجی قافلے اسلحے اور توپوں سے لیس سرحد کی جانب بڑھنے لگے۔

یہ حق و باطل کا معرکہ تھا، جو ہونے جا رہا تھا۔ ہمارا اپنے ازلی اور مکار دشمن سے واسطہ تھا۔ وہ ناپاک عزائم لے کر ہم پر حملہ آور ہوا تھا۔ تاہم دشمن اتنا بزدل تھا اور جنگ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ اُس کی دو اہم فوجی چوکیاں ’’چھمب‘‘ اور ’’دیو‘‘ پہلے ہی مرحلے میں پاکستانی فوج کے قبضے میں آ گئیں اور اپنی بے پناہ فوجی طاقت کے اُس کے بلند بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کشمیر کے محاذ پر بھی جنگ زوروں پر تھی۔ جہاں چھمب کے مقام پر پاکستانی فوج نے دو بھارتی ڈویژنوں کا صفایا کر دیا۔ بھمبر کے مقام پر تین بھارتی لڑاکا طیارے ہمارے شاہینوں کی زد میںآ کر تباہ ہوئے۔ بھارت جنگ کا آغاز تو کر چکا تھا، لیکن اب خاصا پریشان تھا کیونکہ اسے ہر محاذ پر ہزیمت اور شکست کا سامنا تھا۔ وہ اپنے سے پانچ گنا کم طاقت رکھنے والے مُلک پاکستان سے زخم خوردہ ہو رہا تھااور پوری دُنیا میں ثابت ہو رہا تھا کہ پاکستانی فوج کتنی جرّی اور بہادر ہے۔ ہر محاذ پر مسلسل ہزیمت نے بھارت کا ذہنی توازن بگاڑ دیا تھا۔ اسی لئے اُس نے واہگہ، برکی ہڈیارہ سیکٹر کے علاوہ سیالکوٹ، شکر گڑھ اور ہیڈ سلیمانکی سیکٹر میں بھی محاذ کھول دئیے تھے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی کمپنی کو برکی سیکٹر میں دشمن کا مقابلہ کرنا تھا، جو لاہور ہی کا ایک محاذ تھا۔ تاہم میجر صاحب کی عدم موجودگی کے باعث اس کمپنی کی کمان عبدالرحمن کے ہاتھ آ گئی جو لیفٹیننٹ عہدہ کے افسر تھے۔جنگ شروع ہوئی تو میجر راجہ عزیز بھٹی چھٹی پر تھے۔ 6ستمبر کی صبح وہ نماز سے فارغ ہو کر ناشتے کے بعد اخبار پڑھ رہے تھے کہ ایک حوالدار جیپ میں سوار ان کے پاس آیا اور اس حملے کی اطلاع دی اور یہ بھی بتایا کہ اُن کی چھٹی منسوخ ہو گئی ہے اور اعلیٰ کمان کی جانب سے انہیں محاذ پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ میجر صاحب نے اسی وقت اپنے اردلی کو تیاری کا حکم دیا۔ محاذ پر جانے کی خوشی اُن کے چہرے سے عیاں تھی۔

محاذ پر پہنچے تو انہوں نے لیفٹیننٹ عبدالرحمن کو چند ضروری ہدایات دیں۔ خود محاذ کا جائزہ لیا اور مٹھی بھر سپاہ کے ساتھ دشمن کے سامنے مقابلے کے لئے ڈٹ گئے۔ ہڈیارہ برکی سیکٹر میں دشمن کی کمک میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، لیکن میجر راجہ عزیز بھٹی بالکل بھی پریشان اور خوفزدہ نہیں تھے۔ وہ لڑ بھی رہے تھے اور مشاہداتی چوکی سے دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے تھے۔دشمن بھی حیران تھا کہ اتنی طاقت کے باوجود اُسے کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو رہی۔ میجر راجہ عزیز بھٹی مسلسل 120گھنٹے سے دشمن کے ساتھ برسر پیکار تھے۔ اُن پر تھکاوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔

12ستمبر میجر راجہ عزیز بھٹی کی زندگی کا وہ عظیم دن تھا جب انہیں شہادت جیسے عظیم مرتبے پر فائز ہونا تھا۔ دشمن نے بھی مسلسل ہزیمت اٹھانے کے بعد اس محاذ پر پورا زور لگا رکھا تھا۔ وہ مسلسل گولہ باری کر رہا تھا اور شدید فائرنگ بھی۔ شاید اب وہ وقت آ پہنچا تھا جب میجر صاحب کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملنا تھا۔ اچانک ایک گولہ آیا اور میجر راجہ عزیز بھٹی کا سینہ چیرتا ہوا دائیں پھیپھڑے کے پار ہو گیا۔ وہ اوندھے مُنہ گر پڑے۔ اُن کے ساتھی اُن کے قریب پہنچے، لیکن وہ بہت دُور جا چکے تھے۔جب بھی 6ستمبر آتا ہے۔ ہم اپنے اُن شہدا کی یاد مناتے ہیں جنہوں نے اس وطن اور قوم کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میجر راجہ بھٹی شہید نے اپنے دیگر شہید ساتھیوں سمیت وطن کی عزت و حرمت کے لئے جو قربانی پیش کی، اُسے قوم کبھی نہیں بھلا پائے گی۔ ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ستمبر کی جنگ ہماری فتوحات کی جنگ تھی، جس میں ہم نے بے شمار بھارتی رقبے پر قبضہ کیا۔ اس17 روزہ جنگ نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا اور اُسے جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

مزید : کالم


loading...