ساتویں پاکستان فلورملنگ کانفرنس اور نمائش

ساتویں پاکستان فلورملنگ کانفرنس اور نمائش
 ساتویں پاکستان فلورملنگ کانفرنس اور نمائش

  


ڈاکٹر بلال صوفی اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں بہت کم ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں کو دیکھا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے اپنی کمیونٹی کی بہتری کے لئے سوچیں اور مثبت تجاویز دے کر انہیں منظور بھی کرائیں۔ پاکستان میں جب بھی انسانی صحت کے ضمن میں آٹے میں فولاد شامل کرنے کا تذکرہ آئے گا تو اس کا کریڈٹ یقیناً ڈاکٹر بلال صوفی کو دیا جائے گا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے اعلیٰ ترین عہدے سے فارغ ہو کر اب ایک تھنک ٹینک پاکستان فلور ملرز فورم قائم کیا ہوا ہے، جس کی معرفت باقاعدگی سے ہر سال پاکستان فلور ملنگ کانفرنس اور نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس سال ساتویں فلورملنگ کانفرنس اور نمائش کا اہتمام پی سی ہوٹل کے کرسٹل ہال میں کیا گیا۔

ڈاکٹر بلال صوفی نے بتایا کہ ہر شعبہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس شعبے میں ہونے والی ترقی اور نئی ریسرچ سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ جب سے میں نے عہدہ سنبھالنا شروع کیا ہے تب سے ہی اپنے تمام فلورملنگ کے دوستوں کے ساتھ باقاعدگی سے کوشش کر رہا ہوں کہ پاکستان میں فلورملنگ کے نئے رجحانات اور اس ضمن میں ہونے والی ترقی سے سب کو با خبر کھا جائے تاکہ نہ صرف آٹے کا معیار بہتر ہو بلکہ اس سے متعلقہ مصنوعات بنا کر پاکستانی فلورملنگ والے اپنے منافع میں بھی اضافہ کریں۔

پاکستانیوں کی پسندیدہ خوراک گندم کی مصنوعات خصوصاً آٹے کے گرد گھومتی ہے۔ اب شائد یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک کے عالمی اداروں نے ریسرچ کی کہ پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں میں اور حاملہ عورتوں میں فولاد کی کمی کی وجہ سے بہت سے ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جنہیں صرف فولاد خوراک میں فراہم کر کے ختم کیا جا سکتا ہے۔ میں ایک عالمی کانفرنس میں شریک تھا۔ وہاں فیصلہ ہونا تھا کہ چند ممالک کو منتخب کیا جائے جہاں عالمی ادارے امداد فراہم کریں گے تاکہ آٹے میں فولاد شامل کر کے پاکستانی خواتین اور بچوں کو صحت مند بنایا جا سکے۔ میں نے وہاں دوسرے ممالک سے بہتر پریزنٹیشن دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے لاکھوں ڈالر کی امداد دیتے کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا اور یوں میری شب و روز کی محنت کی وجہ سے پاکستان میں آٹے کے اندر فولاد شامل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ عالمی ادارے جب کسی منصوبے کے لئے امداد دیتے ہیں تو پھر اس پر نظر بھی رکھتے ہیں۔ جب ان کی جائزہ کمیٹی نے پاکستان کا سروے کیا اور دیکھا کہ پاکستان کی فلور ملیں کامیابی سے آٹے میں فولاد شامل کر رہی ہیں تو مجھے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک عالمی تنظیم ایف ایف آئی کی طرف سے ترکی میں 2009ء میں ہونے والی ایک باوقار تقریب میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ منفرد ایوارڈ ہر سال دنیا کے کسی ایک ملک کی منتخب شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے فلور ملنگ کے شعبہ میں کوئی آؤٹ سٹینڈنگ کام کیا ہو۔ 2005ء میں جب دلی میں فلورملنگ کی ایک کانفرنس تھی تو وہاں ہندوستان کی فلور ملوں کی ایسوسی ایشن کی طرف سے مجھے ’’پشن پتامہ‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا تھا جس کا مطلب ہے اپنے شعبہ کا گرو ’’یعنی فلور ملنگ کا گرو‘‘۔۔۔جب مجھے بین الاقوامی ایوارڈ ملا تو پھر میرے اندر جستجو پیدا ہوئی کہ فولادی آٹے پر ریسرچ کر کے اپنے ہم وطنوں کو مزید فائدہ پہنچاؤں۔ چنانچہ میں نے پی ایچ ڈی کے لئے اس موضوع کو منتخب کیا اور پوری دنیا میں جا کر ریسرچ کرنے کے بعد پاکستانی خواتین میں آئرن کی کمی کے ان کے بچوں پر اثرات کے عنوان سے مقالہ تحریر کیا جس پر مجھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ پہلے آٹے کی پسائی کے سادہ طریقے رائج تھے اور مشینری بھی اتنی جدید دستیاب نہیں تھی۔ لیکن اب عالمی سطح پر فلورملنگ مشینری میں ایک انقلاب آ چکا ہے۔ لاہور میں اب ایسی فلور ملیں موجود ہیں۔ جہاں گندم کی صفائی سے پسائی تک کے تمام مراحل اتنے اچھے طریقے سے طے ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ گندم جب پسائی کے لئے مشین میں ڈالی جاتی ہے تو اس میں مٹی سمیت مختلف معدنیات کے چھوٹے چھوٹے ذرات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ جدید فلور ملوں کی مشینری اتنی جدید ہے کہ وہ گودام سے پسائی تک مختلف مراحل میں گندم کو بالکل پاک صاف کر دیتی ہے جس کی وجہ سے آنے کی کوالٹی بہت اچھی ہو جاتی ہے۔ ماضی میں جو مشینیں استعمال ہوتی تھیں ان میں چھوٹے کنکروں کو الگ کرنے کا کوئی سسٹم نہیں تھا جس کی وجہ سے بعض اوقات آٹے میں کنکر بھی پس جاتے تھے۔ لیکن اب مسلسل فلور ملنگ کانفرنسوں کی وجہ سے پاکستان کے فلور ملوں کے مالکان بغیر غیر ملکی سفر کئے جانتے ہیں کہ دنیا میں فلور ملنگ مشینری اور مصنوعات میں کون کونسی جدتیں پیدا ہو رہی ہیں۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے آٹے اور گندم پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ دنوں جب چوکر کا مسئلہ پیدا ہوا تھا تو میری تجویز پر انہوں نے فوراً اس مسئلہ کو حل کر دیا تھا۔ اگرچہ پنجاب گندم کی پیداوار میں بہت آگے ہے لیکن ابھی گندم کے بارے میں ایک بہتر اور جامع پالیسی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ سب سے اہم بات ہے کہ گندم مہنگی کرنے کے بجائے بیجوں، کھادوں اور پانی کے ٹیرف میں کمی کر کے کسان کی پیداواری لاگت کم کی جائے اگر حکومت کسان کی پیداواری لاگت کم کر دے گی تو پھر کسان کے منافع میں زبردست اضافہ ہو جائے گا اور یہ پالیسی نافذ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...