سرمایہ کاری کی نئی راہیں

سرمایہ کاری کی نئی راہیں
 سرمایہ کاری کی نئی راہیں

  


وزیراعلیٰ پنچاب میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے سرمایہ کاری شعبوں کے مابین باہمی اقتصادی سرگرمیاں بڑھانے کے معاہدہ کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیاں اٹھاتے ہی پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے سوچ بچار کا آغاز پاکستان کے لئے نہایت خوش آئند ہے۔ نریندر مودی کی ہزار کوششوں کے باوجود خارجہ سرمایہ کاری کے شعبہ میں پاکستان کامیابیوں کے جھنڈے گاڑرہا ہے۔ پاکستان کے دوستوں اور خیر خواہوں میں چین سرفہرست ہے کافی عرصہ پہلے چین کے صدرپاکستان پہنچ کر 46ارب ڈالر کی عظیم الشان سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کرنا چاہتے تھے۔بد قسمتی سے بعض سیاست دانوں نے دارالحکومت اسلام آباد میں کنٹینر دھرنا سے ماحول خراب کر دیا اور چین کے صدر کا دورہ دوسرے معنوں پاکستان آنے والی سرمایہ کاری لگ بھگ چار ماہ لیٹ ہو گئی۔ بہرحال معاہدے ہوگئے۔نریندر مودی کو سخت پریشانی لاحق ہوگئی۔بھاگ دوڑ میں لگ گئے غیر ملکی دوروں میں پاک چائنہ اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کے خلاف زہر اُگلنا اور سازشوں کا جال بچھا نا شروع کردیا۔ چین پر ایسی سازشوں کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ مختلف جہتوں میں مزید سرمایہ کاری کی راہیں استوار کی جا رہی ہیں۔

چند روز پہلے راقم الحرف نے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے چین کے شعبہ سرمایہ کاری کے سربراہ کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط کر کے پاک چین دوستی کے رشتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ایران پر امریکی تجارتی پابندیوں کی وجہ سے ایران پاکستان کی باہمی تجارت سرد مہری کا شکار رہی۔ امر یکی پابندیاں ختم ہوتے ہی ایران کے ساتھ مذہبی اور روحانی رشتوں کا رنگ تجارت میں غالب کر نے کی تدابیر کی جا رہی ہیں۔ دونوں برادر اسلامی مُلک باہمی تجارت کو فروغ دینے کے معاہدوں پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ نریندر مودی، جس قدر چاہے تعصّبات ابھارنے اور ایران کو پاکستان سے دور کرنے کی کوشش کر لیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ برسوں پہلے ایران شہنشاہیت کی غلامی سے آزاد ہو چکا ہے، بین الاقوامی شہرت کے حامل دینی رہنما امام خمینی نے جلا وطنی اور طویل جدوجہد سے ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔

دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی مُلک ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی رشتوں میں مضبوطی کو وقتی مجبوریاں موخر کرتی رہی ہیں، لیکن روحانی رشتے بہرحال قائم و دائم رہتے ہیں۔ امریکہ کی عائد کردہ تجارتی پابندیاں دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں حائل رہی ہیں۔ پابندیاں ختم ہوتے ہی سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈکے چیئرمین کا ایران کا دورہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ محبت اور خیر خواہی کے جذبے سرمایہ کا ری اور اقتصادی اشتراک و تعاون بڑھانے کا باعث بننے جارہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے مسلسل رابطوں سے ترکی پاکستان کا بہترین تجارتی پارٹنر بن چکا ہے۔ ترکی پاکستان میں انفراسٹرکچر، صفائی، انرجی سمیت متعد دشعبوں میں کافی پیش رفت کر چکا ہے۔ سعودی عرب پاکستانی عوام اور حکمرانوں کا روحانی مرکز ہے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنے سے کبھی دستکش نہیں ہوا۔ سعودی عرب اور یمن کی جنگ میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے کردار کے سعودی حکمران معترف ہیں۔ خارجہ سرمایہ کاری کے میدان میں موجودہ حکمرانوں کی کامیابیاں اظہر من الشمّس ہیں۔

خوشحالی پاکستان کا مقدر اور خود انحصاری کا حصول ممکن بننے والا ہے البتہ پاکستان کے اندر سیاست دانوں کو ٹانگ کھینچ سیاسی کلچر چھوڑنا ہو گا۔ چارماہ تک اسلام آباد کی خوبصورت فضا کو خلفشار کا شکار کیا گیا۔ ضمنی الیکشن میں ہارگئے، تو مختلف قسم کے اعتراضات کی ژا لہ باری اور جیت گئے، تو سڑکوں پر اس طرح جشن کہ جیسے دشمن مُلک پر فتح حاصل کر لی گئی ہو، دہشت گردی اور کراچی میں بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ اور ’’را‘‘کی خون آلود کا رروائیوں سے کاروباری حالات مکمل طورپر جامد ہو چکے تھے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کا قلع قلع کیا ہے۔کراچی میں بھتہ خور ٹارگٹ کلر اور کرپشن کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی، تو بعض سیاسی عناصر آڑے آ رہے ہیں۔ دھمکیوں اور جنگ کا اعلان کرنے لگے ہیں۔ گویا رینجرز مصنوعی آپریشن کرتے رہیں۔حقیقی ڈاکوؤں اور ملکی دولت لوٹنے اور کرپشن کے انبار لگانے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کر یں۔ سیاست دانوں سے درخواست ہے کہ خارجہ سرمایہ کاری کے لئے حکومتی اقدامات کو ثمر آور بنانے کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑ ی کرنے کی بجائے مدد گار بنیں تاکہ خوشحالی عوام کا مقدر بنائی جاسکے۔اگر آج اقتصادی بنیادیں درست اور پختہ ہوجائیں گی تو آنے والی حکومت کو عوام کے لئے سہولتیں فراہم کر نے میں آسانی رہے گی۔

مزید : کالم


loading...