وزیرعظم کی زیر صدارت اجلاس ختم ، 21ویں ترمیم سے ’مذہبی دہشتگردی ‘کا لفظ نکالنے پر اتفاق کر لیا گیا

وزیرعظم کی زیر صدارت اجلاس ختم ، 21ویں ترمیم سے ’مذہبی دہشتگردی ‘کا لفظ ...
وزیرعظم کی زیر صدارت اجلاس ختم ، 21ویں ترمیم سے ’مذہبی دہشتگردی ‘کا لفظ نکالنے پر اتفاق کر لیا گیا

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت مدار س کی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ختم ہو گیاہے ،اجلا س میں حکومت اور علماءکے درمیان 21ویں ترمیم سے ’مذہبی دہشتگردی ‘کا لفظ  نکالنے پر اتفاق کر لیا گیاہے ،وزیر داخلہ چوہدری نثار کو مدارس سے روابط کیلئے نگران مقرر رکر دیاگیاہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت مدارس میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلا س ہوا جس دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں مذہبی دہشتگردی کا لفظ نکالنے کے ساتھ ساتھ مدارس کے بجائے پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے پر اتفاق کیاہے اور علماءکرام نے نیشنل ایکشن پلان میں حکومت کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی ہے ۔اجلاس میں ناظم اعلیٰ المدارس اسلامیہ پاکستان ،وزیر تعلیم بلیغ الرحمان اور وزیر مذہبی امور سرداریوسف سمیت اہل سنت اور دیگر مکاتب فکر کے سربراہان شریک ہیں ۔

اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے اتحاد تنظیم المدارس کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کام کرناہے ۔انہوں نے کہا کہ امیدوں سے بڑھ کر کامیابیاں مل رہیں ،دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ہمارے باہمی تعاون سے ملک خرابیوں سے پاک اور محفوظ ہو گا ،قومی لائحہ عمل پر علماءسے مشاورت چاہتے ہیں ،ملک میں قیام امن ہماری پہلی ترجیح ہے ۔

اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ امریکا اور برطانیہ کو کہا کہ داڑھی والے شخص اور حجاب کرنے والی خاتون کو دہشتگر دسمجھنے کی روش ترک کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا تعلق دہشتگردی کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے ،جب نیشنل ایکشن پلان شروع ہو اتو علماءکرام نے بے حد معاونت فراہم کی ،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں علماءکرام اور مدارس کا کردار قابل تحسین ہے ۔

مزید : قومی /Headlines


loading...