مدارس کی جلد سے جلد رجسٹریشن کی جائے گی ،علماءنصاب کا آڈٹ پیش کریں گے:چوہدری نثار

مدارس کی جلد سے جلد رجسٹریشن کی جائے گی ،علماءنصاب کا آڈٹ پیش کریں گے:چوہدری ...
مدارس کی جلد سے جلد رجسٹریشن کی جائے گی ،علماءنصاب کا آڈٹ پیش کریں گے:چوہدری نثار

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے ملک میں موجود مدارس نے تمام مواقع پر ریاست کا ساتھ دیا ہے ۔دہشتگردی کا تعلق کسی مدرسے یا مذہب سے جوڑنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی ۔ دس ستمبر کو وزارت داخلہ اور تمام وزراعلیٰ کا اجلاس ہوگا جس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملد ر آمد کا جائزہ لیا جائے گا ۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت علماءکرام کے اجلاس کے بعد میڈ یا کو بریفنگ دیتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس کے اگلے دور میں وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی مو جود ہوں گے ۔مدرسوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کاکہنا تھاکہ مدرسوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے وزیر اعظم اور علماءمیں اتفاق ہو گیا ہے ۔مدرسوں کی رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ کے سیکریٹری کے ماتحت کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ ایک فارم تشکیل دے گی تاکہ مدرسوں کی رجسٹریشن سے متعلق تما م کوائف ایک ہی بار جمع کرکے اس عمل کو تیز کیا جا سکے ۔

ان کا کہنا تھا کہ علماءمدرسوں کے نصاب کا آڈٹ پیش کریں گے ۔تعلیمی نصاب کو ہرسطح پر آڈٹ کیا جائے گا ۔چودہدری نثار نے کہا کچھ این جی اوز اور ادارے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پر پیگنڈا کر تے رہتے ہیں اور مدارس کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں ۔ایسے اداروں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتا یا کہ علماءنے اجلاس میں رضا مندی ظاہر کی ہے کہ بیرونی فنڈنگ میں حکومت طریقہ کار وضع کر ے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر کی مدارس کے نمائندوں سے ملاقات میں اس طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔علما کرام کا مطالبہ ہے کہ بنک اکاﺅنٹ کھولنے کی اجازت دی جائے ۔مدارس کے بارے میں قانون سازی مدارسوں کی رائے سے کرنے پر اتفاق ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈ یا اور علماءکرام کو بٹھا کر اسلام کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اسلام کو بدنام کرنے والوں کو بھر پور جواب مل سکے ۔وفاق وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے گذشتہ دو سالوں میں جو کیا وہ سب کے سامنے ہے۔

جب مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی تو روزانہ دھماکے ہوتے تھے اوراب اس میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔یہ حکومت اور عسکری اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حالات ٹھیک کرنے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں یہ سب عسکری اور سیکیورٹی اداروں کے کام ہیں ۔حکومت نے کراچی آپریشن شروع کیا ،نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملٹری کورٹس قائم کیے۔لوگ ان کاموں کا کریڈٹ جس مرضی کو دیں لیکن انہیں کام کی تعریف کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ہیٹ سپیچ کے خلاف کام کررہی ہے اور اب فرقہ واریت کے نام پر ایک دوسرے کو واجب القتل قرار دینے والوںکے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔جو لوگ فرقہ واریت کے نام پر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف ریاست بھرپور کاروائی کر ے گی

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں


loading...