ہائی کورٹ نے میڈیا کو الطاف حسین کے مکمل بلیک آﺅٹ کا حکم جاری کردیا

ہائی کورٹ نے میڈیا کو الطاف حسین کے مکمل بلیک آﺅٹ کا حکم جاری کردیا
ہائی کورٹ نے میڈیا کو الطاف حسین کے مکمل بلیک آﺅٹ کا حکم جاری کردیا

  


لاہو(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے میڈیا کو ایم کیو ایم کے قائد اطاف حسین کے مکمل "بلیک آﺅٹ "کا حکم جاری کردیا ہے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل فل بنچ نے اس سلسلے میں ایک عبوری حکم امتناعی جاری کیا ہے جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ ہردو میڈیاکو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ الطاف حسین کی سرگرمیوں ،ان کی تقاریر ،ان کے بیانات اور تصاویر کو نشر اور شائع نہ کیا جائے ۔فل بنچ نے اس سلسلے میں چیئرمین پیمپرا اور چیئرمین پریس کونسل کو ہدایت کی ہے کہ عدالت کے اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔

فاضل بنچ نے آفتا ب ورک اور عبداللہ ملک ایڈووکیٹس سمیت 3شہریوں کی درخواستوں کی مزید سماعت 18ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت کے سامنے تسلی بخش مواد موجود ہے جس کی بنا پر الطاف حسین کو خبروں سے مکمل طور پر"بلیک آﺅٹ "کرنے کا حکم جاری کیا جارہا ہے ۔فاضل بنچ کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان نصیر احمد بھٹہ نے بتایا کہ الطاف حسین کی شہریت کے حوالے سے رپورٹ طلب کرنے کی بابت عدالتی حکم سے وفاقی حکومت کو آگاہ کردیا گیا تھا تاہم ابھی اس رپورٹ کا انتظار ہے ،جس پر فاضل بنچ نے انہیں ہدایت کی کہ الطاف حسین کی شہریت کے حوالے سے آئندہ تاریخ سماعت پر عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے ۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد شان گل کو ہدایت کی کہ الطاف حسین کی سرگرمیوں ،تقاریر ،بیانات اور تصاویر کی اشاعت پر پابندی کے عدالتی حکم سے پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے ۔عدالت نے پیمپرا کے لیگل ایڈوائزر طاہر فاروق تارڑ کو ہدایت کی کہ عدالت کے حکم پر عمل درآمد میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سمیت دیگر مرکزی رہنما میڈیا پر آ کر پاک فوج،رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں، الطاف حسین نے 15مارچ ،29اپریل اور 12جولائی کو اپنی تقاریر کے دوران ریاست اور فوج مخالف عناصر کی حمایت میں بیانات دیئے، آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت ہر شہری ملک سے وفاداری کا پابند ہے ، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کی بیان بازی ملکی سالمیت،وقار اور حب الوطنی کے تقاضوں اور آئین کے آرٹیکل 245,244,243 اور 63,62 کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا ہے کہ الطاف حسین کی میڈیا پر تقریریں نشر ہونے سے بیرون ملک پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ نہ صرف الطاف حسین کی تقریروں پر پابندی عائد کی جائے بلکہ ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیا جائے ۔درخواستوں میں ایم کیو ایم کے فاروق ستار،بابر غوری،وسیم اختر،ندیم نصرت،عتیق الرحمن،ارشاد ظفیر اور خالد مقبول صدیقی سمیت متعلقہ رہنماﺅں کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے ۔پیمپرا کی طرف سے عدالت میں الیکٹرانک میڈیا کے نام پیمپرا کی طرف سے بھیجے گئے مراسلے کی نقل بھی پیش کی گئی جو یکم مئی کو جاری کیا گیا تھا اس میں ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی تھی کہ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقاریر نشر نہ کی جائیں ۔

درخواست گزاروں کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ پیمپرا کا یہ مراسلہ عمومی نوعیت کا ہے ۔الطاف حسین کی طرف سے فوج اور ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ جاری ہے ۔درخواست گزاروں کی طرف سے الطاف حسین کی تقریروں پر مشتمل سی ڈیز بھی عدالت میں پیش کی گئیں اور اس مواد کی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ الطاف حسین کی تمام سرگرمیوں اور بیانات وغیرہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے جس پر فاضل بنچ نے قرار دیا کہ ہمارے سامنے جو مواد پیش کیا گیا ہے وہ الطاف حسین کی سرگرمیوں بشمول تقاریر ،بیانات اور تصاویر پر پابندی لگانے کے لئے کافی ہے ،اس لئے میڈیا کو تاحکم ثانی ان کی سرگرمیوں کے مکمل "بلیک آﺅٹ "کا حکم جاری کیا جاتا ہے ۔اس کیس کی مزید سماعت18ستمبر کو ہوگی ۔ہائی کورٹ کی طرف سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود الطاف حسین اور ایم کیوایم کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا ۔

مزید : لاہور


loading...