ایاز صادق نے این اے 122کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ،عبوری حکم امتناعی نہیں مانگا

ایاز صادق نے این اے 122کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ،عبوری حکم امتناعی ...
ایاز صادق نے این اے 122کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ،عبوری حکم امتناعی نہیں مانگا

  


لاہو(نامہ نگارخصوصی)سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حلقہ این اے 122کا الیکشن کالعدم کرنے سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیاہے تاہم ایاز صادق نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل کرنے اورعبوری حکم امتناعی حاصل کرنے کے لئے متفرق درخواست دائر نہیں کی ۔ایاز صادق کی طرف سے سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں3 ہزار 265 صفحات پر مشتمل اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے این اے 122کا فیصلہ میرٹ سے ہٹ کر کیا ،ووٹرز کا حق نمائندگی ختم کیاگیا ہے،سماعت کے دوران ایاز صادق کا کوئی موقف نہیں سنا گیا حتیٰ کہ عمران خان کی انتخابی عذرداری کے ناقابل پذیرائی ہونے کے اعتراض کا بھی فیصلہ نہیں کیا گیا، اپیل میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتخابی عذرداری کی سماعت کے دوران جو بھی درخواست دائر کی گئی، ٹربیونل کے سربراہ نے اس پر فیصلہ کرنے کی بجائے زیر التوا رکھا اورحتمی فیصلے میں بھی کسی درخواست کا فیصلہ نہیں کیا گیا، اپیل میں کہا گیا ہے کہ کسی انتخابی بے ضابطگی کی بنیاد پر انتخابات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، ایاز صادق کے وکیل خواجہ سعید الظفر نے بتایا کہ ہم نے عبوری حکم امتناعی کے لئے درخواست نہیں دی کیوں کہ مسلم لیگ (ن) نے اس حلقے سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔خواجہ سعید الظفر نے مزید بتایا کہ ٹربیونل نے ایاز صادق پر 27لاکھ روپے کے قریب ہرجانہ بھی عائد کیا تھا ،اپیل میں ہرجانہ کی حد تک ٹربیونل کے حکم کی معطلی کی استدعا کی گئی ہے تاہم فیصلے کے مکمل معطلی اور ضمنی الیکشن کے حکم پر عمل درآمد روکنے کی استدعا نہیں کی گئی ہے ۔اپیل میں استدعا کی گئی ہے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔

مزید : لاہور


loading...