یورپ کی سرحد پر شامی مہاجرین کے کیمپوں سے پاکستان سے جڑی ایسی اشیاءبرآمد کہ جان کر آپ کو شرمندگی بھی ہو گی اور غصہ بھی آئے گا

یورپ کی سرحد پر شامی مہاجرین کے کیمپوں سے پاکستان سے جڑی ایسی اشیاءبرآمد کہ ...
یورپ کی سرحد پر شامی مہاجرین کے کیمپوں سے پاکستان سے جڑی ایسی اشیاءبرآمد کہ جان کر آپ کو شرمندگی بھی ہو گی اور غصہ بھی آئے گا

  


بڈاپسٹ (نیوز ڈیسک) شام کے مظلوم عوام تو اپنی حکومت اور داعش سمیت دیگر باغیوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے اپنے اجڑے ہوئے گھر چھوڑ کر یورپ میں پناہ لینے کیلئے مجبور ہورہے ہیں، لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ بعض دیگر مسلم ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کے کچھ شہری محض یورپ میں پناہ لینے کیلئے اپنے وطن کی شناخت کو دھتکار رہے ہیں۔

سربیا اور ہنگری کے بارڈر پر تعینات اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مقدونیہ سے روزانہ تقریباً 3000 لوگ اس سرحد پر پہنچ رہے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد کے پاس کوئی شناختی دستاویز نہیں، اوریہ شامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نیوز سائٹ nzherald.co.nz کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ سرحد کے قریب جھاڑیوں میں سینکڑوں پاکستانی، بنگلادیشی، عراقی اور دیگر ممالک کے شہریوں کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات ملی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ ان ممالک کے شہری محض یورپ میں پناہ گزیں بننے کیلئے اپنی اصل شناخت چھوڑ اور چھپا رہے ہیں۔

بارڈر پولیس افسر میرو سلاوجووک نے بتایا کہ جب اکثر پناہ گزین اپنی تاریخ پیدائش لکھتے ہوئے سب سے پہلے جنوری لکھتے ہیں تو ان پر شک بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ان کے ذہن میں سب سے پہلے یہی مہینہ آتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پناہ گزین ترکی سے سفر کا آغاز کرتے ہیں اور مقدونیہ سے گزرتے ہوئے ہنگری میں یورپ کے دروازے پر پہنچتے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق ا بتک تقریباً 340,000افراد پناہ گزیں بن کر یورپ کی سرحدوں پر پہنچ چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...