پنجاب حکومت کا کارنامہ، بجلی کے منصوبوں کے ٹھیکے ، قوائد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں

پنجاب حکومت کا کارنامہ، بجلی کے منصوبوں کے ٹھیکے ، قوائد و ضوابط کی دھجیاں ...
پنجاب حکومت کا کارنامہ، بجلی کے منصوبوں کے ٹھیکے ، قوائد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں

  


لاہور (کامرس رپورٹر) بھکی ضلع شیخو پورہ میں نصب کیے جانے والے 12سومیگا واٹ پاور پلانٹ کے ٹھیکے میں شریک ہو نے والی کمپنیوں نے اس منصو بے کے ٹھیکے پر عدم شفافیت کا الزام عائد کر تے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے نامزد کردہ قائد اعظم تھر مل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ نے ٹھیکوں کی شرائط اورنیلامی کے مسلمہ اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک ایسی فرم کو اس منصوبے کی انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن کا ٹھیکہ دیا ہے جو معیار پر پوراہی نہیں اترتی ۔

ٹھیکوں کی نیلامی میں شر یک ہو نے والی کمپنیوں نے پنجاب پروکیورمنٹ رول 2014کی شق 67کے تحت قائم کردہ گریونس کمیٹی کو بھجوائی گئی شکایات میں تحریر کیا ہے کہ کیو اے ٹی پی ایل نے انٹر نیشنل کمپیٹیوبڈنگ (icb)کے تحت بھکی میں 1ہزار سے 15ہزار میگاواٹ گیس فیلڈ ،لکوی فیلڈ گیس سائیکل پاور پلانٹ کی تنصیب کے لیے ٹینڈر طلب کیے تھے جس میں ہاربن الیکٹرک انٹر نیشنل کمپنی لمیٹڈ اور حبیب رفیق پرائیو یٹ لمیٹڈ کی اشتراکی کمپنی کو سب سے کم ریٹ دینے پر ٹھیکہ دیا گیا جو کہ 549264520ڈالر تھا جبکہ اینکا کنسٹر کشن اینڈ انڈسٹری (ترکی فرم )پاور کنسٹر کشن کمپنی (چائینہ) اور ہنڈائی کنسٹرکشن کمپنی کے علاوہ چائینہ مشینری انجینئرنگ کمپنی اور الطارق کنسٹر کشن پرائیو یٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے جمع کروائے گئے ٹینڈر مستر د کر دیے گئے۔

شکایت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا وہ بڈنگ ڈاکومنٹس، پنجاب پروکیور منٹ اتھارٹی ایکٹ 2009ءاور پنجاب پرکیورمنٹ ایکٹ 2014ءکی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔اولاًیہ کہ یہ ٹینڈر نیلامی ڈاکو منٹس میں درج لیولائزڈ الیکٹرک سٹی کا سٹ کی بنیاد پر منظور نہیں کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ جب کیو اے ٹی پی ایل نے اس امر کو تسلیم کر لیا کہ تمام بو لی دہندگان تکنیکی بنیادوں پر کامیاب قرار دیئے چکے ہیں۔پھرناکام ہو نے والوںکو ناک آﺅٹ کر نا خلاف ضابطہ ہے یہاں تک کہ ایک معاملہ میں فنانشل بڈ کھولے بغیر ہی کہہ دیا گیا ہے کہ یہ آفر فنی بنیادوں پر غیر معیاری ہے حالانکہ اس کی پیشگی منظوری دی جا چکی تھی۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ تمام فنانشل بڈز طے شدہ تاریخ 13اگست کی بجائے 15اگست کو کھو لی گئیں اور تمام شرکاءکو 14اگست کو 10;22پر بتایا گیا جس روز عام تعطیل تھی ۔چوتھی اور سب سے اہم ترین بات یہ کہ جس فرم کو پر ی کوالیفائیڈ کروایا گیا اس نے جو ٹیکنالو جی تجویز کی وہ نہ صر ف غیر منظور شدہ ہے بلکہ بڈنگ دستاویزات کے معیار پر پورا ہی نہیں اترتے۔

معلو م ہوا ہے کہ ناکام ہو نے والے بو لی دہندگان نے اپنی شکایت متفقہ فورم پر ارسال کر دی ہیں جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیو اے ٹی پی ایل نے اپنی بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے کامیاب قرار دی گئی فر م کے کا غذات مکمل کر نے میں تیزی سے مصروف ہے ۔ناکام قرار دی جانے والی فرموں نے میاں شہباز شریف او دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی خزانہ پر ہاتھ صاف کر نے والوں کی تحقیقات کروائی جائیں یہ معاملہ پنجاب میں گڈ گورنس اور شفافیت کے دعوﺅں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

مزید : لاہور /اہم خبریں


loading...