وہ گاﺅں جہاں اکثر لوگوں کی عمر 100 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے، سائنسدانوں نے وجہ معلوم کرنے کیلئے 6 ماہ تک ادھر ڈیرا ڈالے رکھا، اور پھر ایک ایسی وجہ سامنے آگئی کہ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا

وہ گاﺅں جہاں اکثر لوگوں کی عمر 100 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے، سائنسدانوں نے وجہ ...
وہ گاﺅں جہاں اکثر لوگوں کی عمر 100 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے، سائنسدانوں نے وجہ معلوم کرنے کیلئے 6 ماہ تک ادھر ڈیرا ڈالے رکھا، اور پھر ایک ایسی وجہ سامنے آگئی کہ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا

  

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں اوسط عمر کی حد 50سال تک آ گئی ہے مگر اٹلی کا ایک گاﺅں ایسا ہے جہاں لوگوں کی عمریں اب بھی بہت دراز ہوتی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے مغربی ساحل پر واقع اس چھوٹے سے گاﺅں کا نام ایکسیارولی ہے۔ اس وقت اس کی 700کی آبادی میں 81لوگ ایسے ہیں جن کی عمریں 100سال سے زیادہ ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی اوسط عمر کی شرح اس قدر زیادہ ہے کہ ہر 10میں سے ایک سے زائد لوگ 100سال کی عمر کو پہنچتے ہیں۔ روم کی سیپینزا یونیورسٹی اور سین ڈیاگو سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے ان لوگوں کی طویل العمری کا راز جاننے کے لیے 6ماہ یہاں گزارے اور تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بہترین غذا اور ازدواجی فرائض کی بکثرت ادائیگی کو ان کی طویل العمری کا راز بتایا ہے۔

دنیا کا وہ علاقہ جہاں پچھلے 40 سال سے ہر شہری بڑے شوق سے مکڑے کھاتا ہے، اچانک ہر کسی کو یہ شوق کیسے چڑھ گیا؟ وجہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

سائنسدانوں کے مطابق ان چیزوں کے نتیجے میں ان کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہوجاتا ہے اور وہ دل کی بیماریوں، رعشہ و دیگر ایسے امراض سے محفوظ رہتے ہیں جو انسان کو عمر کے ساتھ لاحق ہوتے ہیں۔تاہم سائنسدان اپنی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ چند روز بعد اسی گاﺅں میں منظرعام پر لائیں گے۔ گاﺅں کے 100سالہ شخص انتونیو ویسیلو کا کہنا تھا کہ ”ہم تازہ غذائیں کھاتے ہیں جن میں زیتون کا تیل، سبزیاں، مچھلی اور تازہ پھل شامل ہیں۔ ہم صرف صحت مندانہ خوراک کھاتے ہیں۔“ انتونیو کی 93سالہ بیوی امینہ کا کہنا تھا کہ ”ہم تازہ مچھلی بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم تازہ سبزیاں اور پھل استعمال کرتے ہیں جو ہم خود ہی اگاتے ہیں۔ ہم اپنے خرگوش اور مرغیاں پالتے ہیں اور اپنے اگائے ہوئے زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ ہم کلی طور پر اپنی پیداکردہ غذائیں ہی استعمال کرتے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -