’شام کے معاملے میں ہماری بات نہ مانی گئی تو پھر ہمیں یہ کام کرنا پڑے گا‘ سعودی عرب نے انتہائی خطرناک اعلان کردیا، امریکہ اور روس دونوں کو پریشان کردیا

’شام کے معاملے میں ہماری بات نہ مانی گئی تو پھر ہمیں یہ کام کرنا پڑے گا‘ ...
’شام کے معاملے میں ہماری بات نہ مانی گئی تو پھر ہمیں یہ کام کرنا پڑے گا‘ سعودی عرب نے انتہائی خطرناک اعلان کردیا، امریکہ اور روس دونوں کو پریشان کردیا

  

ویانا (مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری خوفناک جنگ سے پوری دنیا پریشان ہے لیکن آسٹریامیں منعقد ہونے والی ایک عالمی کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ نے یہ اشارہ دے کر سب کو حیران کردیا کہ اصل کام تو ابھی شروع ہونے والا ہے۔ آسٹریا میں انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ امن کانفرنس منعقد ہوئی جس کی سربراہی روس اور امریکہ نے کی۔ اس کانفرنس کا مقصد شام میں امن بحال کرنے کی کوششوں کا جائزہ لینا تھا۔

اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ شاید شام کے بارے میں ”پلان بی“ پر عمل کرنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ ویب سائٹ RTکی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ شامی صدر بشارالاسدکے پاس دو راستے ہیں، یا تو انہیں سیاسی عمل کے ذریعے ہٹادیاجائے گا یا انہیں طاقت کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری کی درخواستوں پر کان نہیں دھرا گیا تو پھر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”پلان بی“ کی جانب بہت پہلے چلے جانا چاہیے تھا۔

سعودی عرب اور روس کے درمیان وہ سب سے بڑا معاہدہ ہوگیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی، تفصیلات ایسی کہ پاکستانیوں کو بالکل بھی پسند نہ آئیں گی کیونکہ۔۔۔

اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹین میئر کا بھی کہنا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہو گا کیونکہ ان کی موجودگی میں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ امریکہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ شامی صدر کو جانا ہی ہوگا ،البتہ روس ان کی حکومت بچانے کے لئے تا حال سرگرم ہے۔ ایسی صورتحال میں سعودی عرب کا ”پلان بی“ کی جانب اشارہ شام میں مزید عدم استحکام اور شدید جنگ کی وارننگ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -