سیاست کا فیصلہ کن مرحلہ شروع

سیاست کا فیصلہ کن مرحلہ شروع
 سیاست کا فیصلہ کن مرحلہ شروع

  

پچھلے پانچ ماہ سے پانامہ پیپرز پر عمران خان، طاہرالقادری اور شیخ رشید عوام کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانے میں ناکام ہیں کیونکہ ان کی 20ٹی وی کیمروں کی سیاست 20کروڑ عوام کو متاثر نہیں کرپا ئی ہے .... پشاو ر ،راولپنڈی اور لاہور کی ریلیوں میں تحریک انصاف کا روائتی رنگ نظر نہیں آیا ہے، اب کراچی کا جلسہ آخری موقع ہے ، اس کے بعد پیپلز پارٹی اپنا گھوڑا نکالے گی اور تحریک انصاف کوچھتوں پر چڑھ کرکر لوگ گننا پڑیں گے۔

پاناما پیپرز کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کو علم ہی نہیں کہ پاناما کس بلا کا نام ہے ، آپ ایک سروے کرواکر دیکھ لیجئے ، 80فیصد عوام کی رائے ہوگی کہ وہ نہیں جانتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’پاناما پیپرز ‘کا تاثر وہ نہیں بنتا جو آصف زرداری کے خلاف ’سرے محل ‘کا تھا ۔اس کے باوجود کہ ’سرے ‘انگریزی زبان کا لفظ ہے مگر اس کے ساتھ ’محل ‘کے لگ جانے سے اس کا ابلاغ عوامی ہوگیا تھا کیونکہ عام پاکستانیوں کے ذہن میں ’محل ‘کا ایک انتہائی مسحور کن تصور نسلوں سے موجود ہے، تبھی تو آصف زرداری کی عزت اڑی تھی اور خمیازہ پیپلز پارٹی کو بھگتنا پڑا تھا۔ جبکہ پاناما پیپرز کے دونوں لفظ ہی پاکستانیوں کے عام استعمال میں نہیں ہیں اور کسی بھی طرح وہ تصور پیدا نہیں کرتے جو لفظ محل کے ساتھ نتھی ہے، لہٰذا ایک اوسط درجے کا پاکستانی جب پانامہ پیپرز کی اصطلاح کو ہی سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کا کرپشن سے ناطہ کیسے جوڑے گا؟

خالی عوام ہی نہیں اب تو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی متاثر نہیں ہو سکی ہے ۔آرمی چیف نے دوسری مرتبہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ذریعے تنبیہ کی ہے کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کو سیاست میں مت گھسیٹا جائے لہٰذا عمران خان کو تائیدی بیان جاری کرنا پڑا ہے کہ وہ آرمی چیف کے فیصلے کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کی پیشکشوں کوقبول کرنے سے انکار رکردیا ہے ، حالانکہ ڈی جی آئی ایس پی آرنے اپنے بیان میں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔

اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ نواز شریف مخالف حلقوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتی نظر آتی ہے کہ صاحبولگتا ہے کہ نواز شریف اگلے پانچ سال بھی حکومت کریں گے اس لئے سوائے صبر کا گھونٹ پینے کے کوئی چارہ نہیں کیونکہ عمران خان اپنے آپ کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کچھ کا تو خیال ہے کہ عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ یہ عمران خان ہی ہیں جن کی وجہ سے اپوزیشن کی سار ی قیادت بشمول شیخ رشید، طاہرالقادری، بلاول بھٹو اور مولوی سراج الحق ایک مسترد قیادت کے طور پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ ان کے حامی حلقے نواز حکومت کے ہاتھوں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تو چاہتے ہیں لیکن نواز شریف کو اقتدار میں نہیں چاہتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی سیاسی صورت حال میں جہاں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہیں ، ان کے حامی حلقے نواز شریف کی جگہ فوج کی مداخلت کو بھی ذہنی طور پر خوش آمدید کہنے کے لئے تیار لگتے ہیں جو محض اس لئے ایک مشکل بات لگتی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک میں جمہوریت کے تسلسل پر کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں ہے۔چنانچہ تحریک انصاف کی حالت اس بلی کی ہو چکی ہے جو جھنجھلاہٹ میں اپنی ہی دم کو دبوچنے میں ہلکان گول گول گھومتی نظر آتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی وہ عوام کو متاثر نہ کر سکی تو اگلے عام انتخابات میں اس کے لئے 26نشستیں جیتنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

شیخ رشید، بلاول بھٹو اور عمران خان کو ایک ہی کنٹینر پرچڑھانے میں ناکام رہے ہیں ۔ چنانچہ طے ہوا ہے کہ عمران خان اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے دکھادیں ، اکتوبر میں بلاول بھٹو اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے اور پھر جو زیادہ عوام کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا، وہی سیاسی جماعت متحدہ اپوزیشن کو ہیڈ کرے گی ۔ پاکستان عوامی تحریک کو بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ تحریک انصاف کو اپنے کارکن مستعار دے کر ایک ایسا تاثر پیدا کرے جس سے ظاہر ہو کہ عمران خان کو ابھی بھی عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے کیونکہ کچھ بھی ہو پاکستان پیپلز پارٹی نے 2013کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 37نشستیں جیتی ہوئی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ بلاول کی شکل میں اس کے پاس ابھی بھی ایک ایسا بھٹو موجود ہے جو عوام کو گھروں سے نکال سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت پانامہ لیکس کے معاملے کو اگلے سال کے وسط تک منطقی انجام تک پہنچادے گی کیونکہ وہ نہیں چاہے گی کہ اپوزیشن اس معاملے کو لے کر اگلے عام انتخابات میں داخل ہو اور یوں ان کے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے کارنامے کو خاک میں ملا دے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کے عہدے سے متعلق ایک صائب فیصلہ بھی حکومت کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے کیونکہ نواز مخالف عوامی حلقے چاہتے ہیں کہ اگلی بار اقتدار میں عمران خان یا بلاول بھٹو آئیں اور اگر وہ دونوں نہیں آسکتے تو فوج آجائے۔ ان عوامی حلقوں کو یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ پنجاب کا پاپولر ووٹ ابھی تک نواز شریف کے ساتھ ہے ۔ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ پنجاب کا پاپولر ووٹ ہی کسی کو وزیر اعظم کی کرسی تک لے جا سکتا ہے اس لئے یا تو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مل کر یہاں مقابلے کی فضا پیدا کریں یا پھر ملک کو ایسی انارکی کی طرف لے جائیں کہ فوج کے پاس حرکت میں آنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔

ملکی سیاسی صورت حال ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے ۔ اس بار موسم سرما سیاسی اعتبار سے گرم ہوگا۔ پیپلز پارٹی کبھی افورڈ نہیں کرے گی کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک مل کر وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو چلتا کریں تو تحریک انصاف کی خواہش ہوگی کہ پنجاب میں اس نے پیپلز پارٹی کی خراب ساکھ کی وجہ سے جو جگہ سمیٹی ہے اس کو اپنے تصرف میں رکھے ۔ چنانچہ اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں جہاں حکومت کے خلاف یکجا ہوکر لڑتی نظر آئیں گی وہیں ایک دوسرے کے پاؤں سے زمین بھی کھینچیں گی۔ وہ دائیں اور بائیں سے حکومتی صفوں کو چیرتی ، جگہ بناتی پائی جائیں گی تو جہاں موقع ملے ایک دوسرے کو زخمی کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔

مزید :

کالم -