شاہدرہ میں جعلی اور فرضی پرچہ رجسٹری رپورٹ کی تیاری معمول، جعلی پٹواریوں نے ذاتی منشی رکھ لئے

شاہدرہ میں جعلی اور فرضی پرچہ رجسٹری رپورٹ کی تیاری معمول، جعلی پٹواریوں نے ...

  

لاہور( عامربٹ سے)محکمہ ریونیو کی تحصیل سٹی کی قانون گوئی شاہدرہ میں جعلی اور فرضی پرچہ رجسٹری رپورٹ کی تیاری معمول بن گئی ،انتقال 3500،فرد اجراء2500 نشاندہی رپورٹ 30ہزار ،ریکارڈ درستگی رپورٹس کی تیاری 2000،پانچ مرلہ پرانی رجسٹری 30ہزار روپے بطور رشوت انتقال کی مد میں وصول کی جانے لگی ،مجموعی طور پر غیر قانونی پریکٹس اور رشوت وصولی کی مد میں 80لاکھ روپے کی آمد ن اکٹھی کرنے والی قانونی گوئی کا سٹاف ماہانہ 5لاکھ کا خرچہ بھی اپنے اخراجات سے بھر رہا ہے محکمہ اینٹی کرپشن ادارہ کی موجودگی میں ہونے والی کھلم کھلا کرپشن جہاں ڈی جی اینٹی کرپشن اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کیلئے کھلا چیلنج بن چکی ہے وہاں اینٹی کرپشن ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی پیدا کر رہی ہے ،شہریوں کی کثیر تعداد کا احتجاج ،شکایات کے اندراج اور سیاسی سفارشات کے باوجود لٹنے پر مجبور ہو چکی ہے روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ محکمہ ریونیو کی تحصیل سٹی کے دفتر قانونگو عملہ کی ملی بھگت کے سبب جہاں قانون گوئی شاہدرہ کے ریونیو سٹاف جعلی اور فرضی پرچہ رجسٹری رپورٹس مرتب کرنے میں مصروف ہیں وہیں پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے (فری آف کاسٹ) بالکل مفت انتقالات کی تصدیق کرنے کی گمراہ کن رپورٹس بھی تیار کر رہا ہے مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم کی وجہ سے شاہدرہ قانون گوئی کے پٹوار سرکلوں میں اس وقت کرپشن،رشوت وصولی ریکارڈ میں ردو بدل اور ریکارڈ کو غائب کرنے کے واقعات عام روٹین کا حصہ بن چکے ہیں ،شاہدرہ قانونی گوئی میں پٹوار سرکل شاہدرہ ،نین سکھ،جیا موسیٰ ک،کھوکھر،کوٹ بیگم ،کوٹ محبو،فتح پوری،کڑھ گڑھ کے پٹوار سرکلوں میں 14سے زائد جعلی اور نقلی پٹواریوں کے پرائیویٹ منشیوں کو اہم ترین ریونیو ریکارڈ سونپ رکھا ہے۔ مبینہ طور پر ملنے والی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر شاہدرہ قانون گوئی میں ہر ماہ 700کے قریب انتقالات کی تصدیق کی جارہی ہے اور ایک ہزار کے قریب فردیں جاری کی جارہی ہیں۔ اس طرح نشاندہی رپورٹ جوڈیشلی کیسز کے حوالے سے رپوٹس سے لے کر فرد بدر پرانی رجسٹری انتقال ،جلے ہوئے ریکارڈ کی رجسٹری کا انتقال ،گرداوری ،قبضہ رپورٹ ،فرد برائے معاوضہ ،برائے قرضہ کی مد میں ہر ماہ 80لاکھ سے زائد رشوت وصولی اکٹھی کی جارہی ہے ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ 14پرائیویٹ منشی ایک ہزار روپے کام کرنے کا معاوضہ وصول کر رہے ہیں جبکہ کھانے پینے کی مد میں 30سے 40ہزار روزانہ الگ خرچہ ہے پرائیویٹ طور پر 6پٹوار خانوں میں استعمال ہونے والی بجلی کے بل بھی 70ہزار کے لگ بھگ بھی رشوت زدہ رقم سے کٹواتے جارہے ہیں بیگم کوٹ میں سرکاری اہلکارکے داماد کی جانب سے 7کنال صوبائی حکومت کی اراضی کا صفحہ پھاڑ کر اس کی جگہ فرضی بندوں کا صفحہ چسپاں کیا گیا ہے جس کی انکوائری خاموشی سے دبا دی گئی اور پٹواری کی صرف دوسرے پٹوار سرکل ٹرانسفر کر دی گئی۔ ریکارڈ میں ردوبدل ،زائد از حصہ انتقالات کی تصدیق کے علاوہ سینکڑوں پرت سرکار انتقالات کی عدم دستیابی بھی شاہدرہ قانونگوئی کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ قانونگوئی میں سینکڑوں ایکڑ صوبائی اور سینٹرل گورنمنٹ کی سرکاری جائیدادوں پر قبضے بھی ریونیو سٹاف کی ملی بھگت کے باعث ممکن ہوئے ہیں جبکہ آگ لگنے اور پٹوار خانوں میں بارشوں کے پانی سے ہونے والے واقعات کے باعث ریونیو سٹاف کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی بھی صاف عیاں ہے جس کی وجہ سے جہاں شہریوں کی جائیدادوں کا ریکارڈ غیر محفوظ ہو چکا ہے وہاں خود سرکاری اسٹیٹ لینڈ سے وابستہ ریکارڈ بھی متنازعہ اور غائب کروا یا جارہاہے۔ ،شہری محمد رمضان ،علی عباس، محمد عاقل ،ابو سفیان ،اویس حسین اور فیصل شہزاد نے کہا کہ اس وقت شاہدرہ قانونگوئی کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ شاہدرہ قانگوئی میں کام کرنے والے رشوت خور پٹواریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔محکمہ اینٹی کرپشن کو اس کرپشن کا نوٹس لے کر ان کے خلاف ایکشن لینا چاہئے ۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر قانونگوئی کے پٹواریوں نے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ رشوت ہم پر حلال نہیں ہے پر مجبوری کے تحت وصول کی جارہی ہے ۔قانونگوئی کو پڑتال کے لئے 300روپے فی انتقال دینا پڑتا ہے ۔ریونیو افسر کو ٹارگٹ مکمل کرنے کے لئے پرائیویٹ عملے کو الگ سے پیسے دینے پڑ رہے ہیں اوپر سے آنے والی پھٹیک کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہیں ۔ گورنمنٹ کی طر ف سے ہمیں ایک پینسل تک نہیں دی جاتی اگر دفتر قانونگو آفس سے انتقالات کی جلد منگوائی ہو تو وہ بھی پیسے دے کر منگوانی پڑتی ہے ہم پر لگائے گئے الزامات کی اگر تحقیق کی جائے تو اس کے اصل ذمہ داران کوئی اور نکلیں گے ہم نہیں ،ہم بے قصور اور مجبور ہیں ، مزید معلوم ہوا ہے کہ شاہدرہ ،قانونگوئی کے متعدد پٹواریوں نے انتقالات کی فیسوں کی مد میں بھی ہزروں روپے غبن کر لئے ہیں ۔ محکمہ اینٹی کرپشن میں شاہدرہ ،قانون گوئی میں تعینات ریونیو سٹاف کے خلاف سینکڑوں شکایات اور انکوائری زیر سماعت ہیں۔ شہریوں کی کثیر تعداد کا کہنا ہے کہ شاہدرہ قانون گوئی میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر ریونیو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے اور روزنامہ پاکستان کی انویسٹی گیشن رپورٹ پر اگر جامع انکوائری کر لی جائے تو ریونیو سٹاف شاہدرہ کے پٹوار خانوں میں تعینات سٹاف پر کرپشن کے الزمات ثابت ہونے پر مقدمات کا اندراج 100ٖفیصد ہو جائے گا شہریوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس حوالے سے ایڈیشنل کمشنر سٹی عاصم سلیم نے کہا کہ روزنامہ پاکستان کی نشاندہی پر بھرپور کارروائی کی جائے گی الزام ثابت ہونے پر ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -