کشمیر ہمارا داخلی معاملہ ہے ،پاکستان اپنے مسائل پر ترجہ دے :بھارتی ہائی کمشنر

کشمیر ہمارا داخلی معاملہ ہے ،پاکستان اپنے مسائل پر ترجہ دے :بھارتی ہائی ...

  

کراچی( اے این این ) پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباولے نے دعویٰ کیاہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی مسئلہ ہے، پاکستان کو اپنے مسائل پر توجہ دینی چاہیے،شیشے کے گھروں میں رہنے والے دوسروں پرپتھرنہ پھینکیں، ہمیں بھی کشمیریوں کے حوالے سے اتنی ہی فکر لاحق ہے جتنی کہ کسی اور ملک کو،چین پاکستان اقتصادی راہداری کچھ ایسے علاقوں سے بھی گزررہا ہے جن پر پاکستان اور بھارت دنوں ہی اپنا حق جتاتے ہیں، سرحد پر کشیدگی عروج پر ہونے کے باوجود آپریشنل لیول پر دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ رہتا ہے،تعلقا ت میں بہتری چاہتے ہیں، آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بھروسے کی فضا پیدا کی جائے ۔وہ کراچی کونسل برائے فارن ریلیشنز(کے سی ایف آر)کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب میں اظہارخیال کررہے تھے۔ گوتم بمباولے نے کہا کہ جب پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تو ہم نے فوری طور پر اسے بھارتی شہری تسلیم کیا جس کے بعد ہم نے پاکستان سے کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے جموں و کشمیر میں ایک پاکستانی بہادر علی کو گررفتار کیا تو اس دہشت گردی کی تربیت پاکستان سے حاصل کرنے کا اعتراف کیا، ہم نے پاکستان کو قونصلر رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ وہ ایسا پاکستان دیکھے جو معتدل ہو، خوشحال ہو، مستحکم ہو اور اس کے پڑوسیوں اور دنیا کے دیگ رممالک کے ساتھ پر امن تعلقات ہوں۔انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بھروسے کی فضا پیدا کی جائے جس کا گزشتہ کئی برسوں سے فقدان رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کا راستہ باہمی تجارت اور کاروبار میں اضافے سے ہوکر گزرتا ہے،2012 میں دونوں ملکوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے روڈ میپ پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کی باہمی تجارت کا حجم محض 2.5 ارب ڈالر ہے جبکہ اس میں 20 ارب ڈالر تک پہنچے کی صلاحیت موجود ہے۔ گوتم بمباولے نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کو غذائی قلت دور کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش کی تھی اور اس سلسلے میں زیادہ تر گندم وہاں بھیجی جانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو تجویز دی کہ گندم پاکستانی ٹرکس کے ذریعے واہگہ سے طورخم اور پھر افغانستان پہنچنی چاہیے، یہ تینوں ملکوں کے لیے فائدے کا سودے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی عروج پر ہونے کے باوجود بھی آپریشنل لیول پر دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ رہتا ہے، گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پاک انڈیا سرحدی فورسز کے درمیان انتہائی خوشگوار روابط قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل کا کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن فی الحال وزیراعظم نریندر مودی رواں برس نومبر میں ہونے والے سارک سراہان مملک اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان جانے کے خواہش مند ہیں۔

مزید :

علاقائی -