پہلی آڈٹ رپورٹ تیار ،1الکھ 4ہزار 176مقدمات زیر التوا ،وکلاء مقدمات کے التواء کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار

پہلی آڈٹ رپورٹ تیار ،1الکھ 4ہزار 176مقدمات زیر التوا ،وکلاء مقدمات کے التواء ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فزیکل انسپکشن کرکے زیر التواء مقدمات کی آڈٹ رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی اصل تعداد ایک لاکھ 34ہزار 176 ہے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کے حکم پر عدالت عالیہ افسروں نے ایک ماہ سے زائد کا وقت لگا کر ہر مقدمے کی فزیکل انسپکشن کے بعد آڈٹ رپورٹ تیار کی ہے ، آڈٹ رپورٹ کا مقصد زیر التواء مقدمات کی اصل تعداد اور نوعیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا،آڈٹ رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اس وقت ایک لاکھ 34ہزار 176 مقدمات زیر التواء ہیں، آڈٹ رپورٹ میں مقدمات کے زیر التواء ہونے کی وجوہات بھی تحریر کی گئی ہیں جن میں وکلاء کی طرف سے مقدمات کی موثر طریقے سے پیروی نہ کرنا سب سے اہم وجہ قرار دی گئی ہے، ہائیکورٹ کی آڈٹ رپورٹ میں دو نئی اصطلاحات ضمنی مقدمات اور راکٹ ڈاکٹ متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ایسے مقدمات کو شامل کیا گیا ہے جو دو سے تین سماعتوں پر نمٹائے جا سکتے ہیں، آڈٹ رپورٹ میں درجہ بندی کے لحاظ سے سنجیدہ اور اہم مقدمات کو الگ کر دیا گیا ہے، آڈٹ رپورٹ میں 2012ء سے پہلے کے مقدمات کو پرانے قرار دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے آڈٹ رپورٹ کی منظوری دیتے ہوئے اسے تمام جج صاحبان کو بھجوا دیا ہے، چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کے تمام جج صاحبان زیر التواء مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر کم از کم ایک سال کے عرصے میں نمٹانے کے لئے پرعزم ہیں، لاہور ہائیکورٹ ہر ممکن کوشش کر یگی کہ زیر التواء مقدمات میں جلد ازجلد فیصلے کر کے سائلین کو فوری انصاف کی فراہمی کا مقصد حاصل کیا جائے۔

راکٹ ڈاکٹ

مزید :

صفحہ آخر -