روزنامہ پاکستان کی خبر پر ایکشن ،اینٹی کرپشن لیگل ونگ کا اہلکار رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

روزنامہ پاکستان کی خبر پر ایکشن ،اینٹی کرپشن لیگل ونگ کا اہلکار رشوت لینے کے ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)روزنامہ پاکستان کی خبر پر ایکشن،ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے نوٹس لے لیا ،لاہور ریجن میں رشوت وصولی کے الزام میں لیگل ونگ کا اہلکار گرفتارکر لیا گیا،ڈی ڈی لیگل کو محکمہ بدر جبکہ پنجاب بھر کے لیگل افسران کو انکوائریوں سے بھی روک دیا گیا،تحریر ی طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان میں مورخہ 3ستمبر کو خبر شائع ہوئی جس میں لیگل برانچ کی جانب سے لاکھوں روپے رشوت وصولی کی نشاندہی کی گئی اور اس ضمن میں اس کیس کا ریفرنس بھی دیاگیا جس میں ملزمان کے ساتھ ساز با ز کی اطلاعات ملی تھی جس میں تحصیلدار کینٹ سجاد احمد قریشی کو تحفظ فراہم کیا جارہا تھا اس طرح مورخہ 6ستمبر کو شائع ہونے والی خبر میں بھی محکمہ ریونیو کے متعلق ان کیسز پر روشنی ڈالی گئی جس میں پیسے لینے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں ،خبروں کی اشاعت کیے بعد ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئر (ر)مظفر علی رانجھا نے فوری نوٹس لے لیااور شعبہ لیگل میں تعینات افسران و ملازمین کی مانیٹرنگ تیز کر دی جس کے نتیجے میں گزشتہ روز ایک ہیڈ کلرک رشوت کی ڈیمانڈ کرتا ہوا گرفتار کر لیا گیا جبکہ ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے والے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی بناء پر ڈی ڈی لیگل رانا احسن کو بھی واپس پراسیکیوشن محکمہ میں بھیج دیا گیا جبکہ اس حوالے سے پنجاب بھر کے لیگل برانچ آفیسرز کو تحریری طور پر آڈر جاری کرتے ہوئے انکوائری سے بھی روک دیا ۔ایک طرف تو روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی خبروں اور نشاندہی نے جہاں محکمہ اینٹی کرپشن میں تعینات ہو کر بلیک میل اور رشوت وصولی میں مصروف لیگل افسران کو شدید پریشانی میں مبتلاء کر دیا تھا تو دوسری جانب ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب برگیڈئر(ر)مظفر علی رانجھا کی جانب سے سخت اور بروقت اقدامات نے اینٹی کرپشن میں تعینات لاء افسران و ملازمین کو ہلا کر رکھ دیا اور انکوائری کے اختیارات ہاتھ سے جانے کے بعد تو وہ شدید مشکلات اور پریشانی میں مبتلاء ہو چکے ہیں اینٹی کرپشن ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے مانیٹرنگ کا سسٹم انتہائی فعال کیا جاچکا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی شکایت پر بھی فوری طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے، چاہے وہ محکمہ اینٹی کرپشن میں کیوں نہ ہو ،اینٹی کرپشن ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ میں کالی بھیڑوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس طرح کی کارروائی کا سلسلہ اب چلتا رہے گا جبکہ محکمہ میں اب وہی کام کرے گا جس کادامن صاف ہو گا ۔

مزید :

صفحہ آخر -