ون ڈے سیریز ایک بہتر اختتام

ون ڈے سیریز ایک بہتر اختتام
ون ڈے سیریز ایک بہتر اختتام

  

پاکستان کا آخری میچ میں کامیابی حاصل کرنا یقیناًشائقین کرکٹ کے لئے کسی حد تک مسرت واطمینان کا باعث ہے جو پاکستان کی لگاتار شکستوں سے دل برداشتہ تھے۔ اوول ٹیسٹ جیتنے اور دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بننے کے بعد توقع تھی کہ پاکستان محدود اوورزکے کھیل میں بھی بہتر پرفارمنس دے گا۔ ایسا نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے اپنے خلاف نہ صرف ورلڈ ریکارڈ بنوایا بلکہ بعض موقعوں پر میچ جیتنے کے انتہائی قیمتی مواقع ضائع کئے۔ پاکستان کا پانچویں میچ کو جیتنا ایک بہتر اختتام ہے۔ اس جیت سے پاکستان وائٹ واش جیسی مکمل تباہی سے بچ گیا۔ بعض کھلاڑیوں کی آخری ون ڈے میں کارکردگی قابل ذکر رہی۔ جن میں سرفراز احمد ، شعیب ملک، اور عماد وسیم قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں جوہر یا ٹیلنٹ کی دستیابی مسئلہ نہیں ہے۔ اگرشعیب ملک مسلسل لمبی اننگز کھیل رہے ہوں تو ان کو بھی ورلڈ کلاس کرکٹر ہیں کہا جاسکتا ہے۔ کارڈف میں ان کے ستتر(77)رنز اپنی جگہ مگر ان کی گزشتہ کارکردگی بحشیت بیٹسمین یک روزہ میچوں میں اس طرح ہے۔۔۔ ایک ،اٹھائیس اور سترہ (انگلینڈ کے خلاف ) ا س سے پہلے آئر لینڈ کے خلاف ستاون رنز ناٹ آؤٹ۔۔۔۔۔۔۔ حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ٹیم میں آئندہ کیلئے ان کی مستقل سلیکشن پر سوالیہ نشان ہے۔ گزشتہ چار میچوں میں انگلینڈ کے خلاف انہیں کوئی وکٹ نہیں ملی۔ ٹیم میں ان کی سلیکشن کے حوالے سے ان کے با رے میں منا سب جواز مجھے وجہ نطر نہیں آتا۔ ان کے برعکس سرفراز کی گزشتہ میچوں کی کارکردگی اس طرح ہے ۔ نوے، بارہ، اڑتیس ، ایک سوپانچ اور پچپن اس کے علاوہ اوول ،برمنگھم مانچسٹراور لارڈ میں سرفراز نے بہترین بیٹنگ کی اور ہرٹیسٹ میچ میں رنز بنائے۔ شرجیل خان کا آئرلیند کے ون ڈے کے علاوہ ا نگلینڈ کے خلاف پاکستان کی مجموعی کارکردگی میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ بحیثیت بیٹسمین بابر اعظم کی کارکردگی واجبی رہی۔ اظہر علی نے ون ڈے سیریز لیڈزاور ساؤتھ تھیمپٹن ون ڈیزمیں بالترتیب اسی(80)اوربیاسی(82)رنز بنائے کا رڈف میں ان کی کارکردگی(33)تینتیس رنز کے ساتھ تسلی بخش رہی۔ ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی بہت ہی شانداررہی۔ ستائس(27)سالہ عماد وسیم اس ون ڈے سیریز کی دریافت ہیں۔ یہ مسٹر ناٹ آؤٹ ہیں۔ گزشتہ پانچ میچوں میں یہ سولہ ، ستاون، تریسٹھ، سترہ اور صفر پر ناٹ آؤٹ رہے۔ آئر لینڈ کے خلاف انہوں نے چودہ رنز دے کر پانچ وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کی رنز بنانے کی اوسط بہت شاندار ہے۔ انہیں آٹھویں نمبر پر بھیجا جارہاہے۔ کرکٹ میں یہ پوزیشن عموماً صرف باؤلرز کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ مگر عماد نے ایک مستند بلے باز کی طرح رنز سکور کیے۔ جو ان کے شاندار مستقبل کی غمازی کررہے ہیں۔ سمیع اسلم خاص تاثر نہیں دے سکے پاکستان کی کرکٹ میں نئے کھلاڑیوں کے لئے اہم پوزیشنز خالی ہیں۔ حفیظ ساؤتھ تھیمسن میں صرف سولہ رنز بنا کر واپس جاچکے ہیں۔ انہیں دوبارہ سلیکٹ کرنے کیلئے سلیکٹرز کو ان کی افادیت کے بارے میں فیصلہ اور غور کرنا ہوگا۔ باؤلرز کی حیثیت سے پابندی لگنے کے بعد پاکستان کی ٹیم میں ان کی موجودہ حالات میں جگہ نہیں بنتی۔ حفیط ٹیسٹ میچوں میں لگاتار رنز کرنے کی صلاحیت بھی کھوچکے ہیں۔ ان کاکردار ٹیسٹ میچوں میں یونس خان اور مصباح جیسا ہونا چاہیے تھا۔ نواز اور رضوان نے اپنی سلیکشن کے حوالے سے جواز کو درست ثابت کیا۔ ٹیم میں شامل ہونے والے عمر گل خاطر خواہ پرفا رمنس نہیں دے سکے۔ حسن علی میں وہ جوہر نظرآیا ہے جو آئندہ میچوں میں پاکستان کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔ اگرچہ کارڈ ف میں محمد عامر نے تین وکٹیں حاصل کیں لیکن اس سے پیلے تین میچوں میں ان کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی۔اگر یہی حالات رہے تو پاکستان بیٹنگ کے شعبہ میں ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ باؤلنگ کے شعبہ میں بھی کمزور ہو جاے گا۔ ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد بھی فی اننگ ایک ایک دو دو رہی ۔ ٹیسٹ کے بعد ون ڈے سیریز بھی ختم ہوچکی ہے۔ کرکٹ بورڈ کو شکر کرنا چاہیے کہ اس دوران کوئی سکینڈل یا تنازعہ کھڑا نہیں ہوا۔ مکی آرتھر کا کردار بحیثیت ہیڈ کو چ اچھا رہا۔ امید ہے کہ وہ بغیر پرفارمنس کے ان کھلاڑیوں کو ٹیم سے چلتا کریں گے جو اکا دکا کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں بار بار

جگہ بنا لیتے ہیں۔ سرفراز کو وکٹ کیپنگ میں مزید بہتری لانا ہوگی۔ سرفراز آج ٹور کے واحد ٹی ٹونٹی میچ کو یہ اپنے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھ کر میدان میں اتریں۔پاکستان گزشتہ پانچ میں سے تین ٹی ٹیونٹی میچ ہار چکا ہے جبکہ انگلینڈ گزشتہ پانچ میں سے چار میچ جیت چکا ہے ۔اس میدان میں ٹی ٹیونٹی فارمیٹ میں ابھی تک میزبان ناقابل شکست ہیں ۔حسن علی اور عماد وسیم کا کھیل دلچسپ ھو گا۔پاکستان ورلڈ رینکنگ میں ساتویں نمبر اور انگلینڈ پانچویں پوزیشن پر ھے۔آج چوکوں اورچھکوں کا کھیل ھو گا۔ پاکستان نے ون ڈے سیریز کی طرح اگر محدود اوورز کھیل کی سپرٹ کے عین مطابق یعنی یکم سے کم گیندوں میں زیادہ سے زیادہ رنز نہ بناے تو یہ میچ یک طرفہ ہو سکتا ہے

مزید :

کالم -