خیبرایجنسی کے عوام بل دے کر بھی بجلی سے محروم رہتے ہیں

خیبرایجنسی کے عوام بل دے کر بھی بجلی سے محروم رہتے ہیں

  

لنڈی کوتل ڈائری

عمران شنورای سے

خیبر ایجنسی(عمران شنواری سے)قبائلی عوام محب وطن پا کستانی ہیں قبائلی عوام سر حدوں کے بے تنخواہ محافظ ہیں قبائلی عوام آذاد قبائیل ہیں،قبائلی عوام بہادر اور غیرت مند ہیں یہ خوشنما اور پُرفریب نعرے یا الفاظ پاکستان کے سابق حکمران قبائلی عوام کے لئے استعمال کرتے تھے،لیکن آج پاکستان اور افعانستان کے درمیان ڈیورنڈلائن پر آباد تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ قبائلی عوام اپنی روز مرہ ضروریات بجلی اور پانی کے لئے پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ خیبر ایجنسی کی جڑواں تحصیلوں لنڈی کوتل اور جمرود میں بجلی کی طویل ترین لوڈشیڈنگ سے سارا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے کاروبار شدید متاثر ہو گیا ہے،سکولز کالجز میں زیر تعلیم طلباء سمیت ہسپتالوں میں داخل مریضوں اور ان کے لواحقین بجلی اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہیں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا کی بار بار ہدایت کے باوجود بھی کہ فاٹا کو اتنی بجلی دی جائے،جس سے کم سے کم پانی اور روز مرہ زندگی کی ضرویات پوری ہو سکے، لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوا اور ٹیسکو والے ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اور چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹے کے لئے بجلی آتی ہے،جس سے روز مرہ زندگی شدید متاثر ہے بجلی کی اس ناروا لوڈشیڈنگ پر سیاسی مذہبی اور قومی مشران نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے اور دوسری طرف موجودہ پولیٹکل انتظامیہ بھی اِس اہم مسئلے سے چشم پوشی کر رہی ہے۔لنڈی کوتل بازار کے تاجربل جمع کرنے کے باوجود بھی بجلی سے محروم ہیں لنڈی کوتل بازار میں تقریباً بائیس سو دکانیں ہیں، جس میں بعض دکانوں سے300روپے فکس بل وصول کیا جاتا ہے، لیکن پا کستان میں کہیں پر بھی فکس بل کا تصور نہیں ہے اور بعض دکانوں سے جن پر پرانے بقایا جات ہیں ان 1500 سے 2000 روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ جمرود میں تقریباً چار ٹیوب ویلوں پر سولر سسٹم لگا دیا گیا ہے،لیکن مقامی لوگوں کے مطابق کہ چاروں سولر سسٹم چار دیواری کے اندر لگائے گئے ہیں، جس کا علاقے کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن اب وہ بھی ناکارہ ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں لنڈی کوتل کی فلاحی تنظیم خیبر یوتھ فورم کے صدر عامر آفریدی اور جنرل سیکرٹری بخت علی شاہ آفریدی نے کہا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے بعض علاقوں میں بجلی صرف ایک گھنٹے کے لئے آتی ہے جبکہ خیبر،شلمان،کم شلمان، شینواری اور بازار ذخہ خیل کے تمام تر علاقوں سے بجلی دو ماہ سے مکمل طور پر غائب کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل میں بجلی بندش سے تمام تر علاقوں کے ٹیوب ویل بند پڑے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کی پانی کی شدید قلت پید ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل اور خیبر کے علاقوں میں خواتین اور سکولوں کے بچے دور دراز علاقوں سے ہتھ گاڑیوں میں اور بڑے بڑے ڈبوں میں پینے کے صاف پانی سروں پر لانے پر مجبور ہو گئی ہیں،جبکہ سکولوں میں طلباء اور ہسپتالوں میں مریض سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ جمرود سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی خیبرایجنسی کے جنرل سیکرٹری زرغون شاہ آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز جمعے کے دن مسجدوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے تیمم کر کے نماز ادا کی، دو دن بعد بجلی آئی، لیکن کم وولٹیج کی وجہ سے گھریلو ضروریات سمیت پانی کی ضرورت بھی پوری نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں اتنا بدترین دور نہیں دیکھا کہ لوگ بجلی اور پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل کے پرسنل سیکرٹری حاجی عبدالواحد نے بتایا کہ یقیناًبجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ سخت تکلیف سے دوچار ہیں اور اس کا ذمہ دار نیا تعینات ہونے والا ٹیسکو آپریشنل جمال ناصر ہے ان کے کہنے پر جمرود اور لنڈی کوتل میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں سینٹر الحاج تاج محمد کی ٹیسکو چیف سے ملاقات ہوئی ہے جس سے ٹیسکو آپریشنل جمال ناصر کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ٹیسکو پر واضح کیا کہ پرانے طریقہ کار پر بجلی دی جائے، لیکن نئے ٹیسکو آپریشنل قبائل دشمن جمال ناصر اس سلسلے میں مسئائل پیدا کر رہے ہیں۔ اگر ٹیسکو آپریشنل کا تبادلہ نہیں کیا تو وہ عوام کے ساتھ مل کر شدید احتجاج کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -