سیاسی جماعتوں کی عوامی رابطہ مہم، جلسے اور جلوس

سیاسی جماعتوں کی عوامی رابطہ مہم، جلسے اور جلوس

  

ملتان سے شوکت اشفاق

ملک بھر خصوصاً پنجاب میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے عوامی رابطہ مہم (جو اس مرتبہ مختلف انداز سے چلائی جا رہی ہے) جلسے، جلوس اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کا جنوبی پنجاب میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود کی قیادت میں نہ صرف خود متحرک ہونا بلکہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو بھی متحرک کرنا کسی ’’انہونی‘‘ کی نشاندہی ہو سکتی ہے کیونکہ قبل ازیں گذشتہ ساڑھے تین سال سے ایسی کوئی سیاسی مہم جوئی نہیں کی گئی ۔جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسہ عام کی جگہ ورکرز کنونشن کا نام دے کر سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا گیا ہے جس میں مختلف نئے نعرے بھی متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ پنجاب کی تقسیم اور سرائیکی صوبے کے قیام کے ساتھ ساتھ اب بہاولپور کو صوبے کی حیثیت سے بحالی کے لئے دعویٰ بھی سامنے آگیا ہے ۔ یہ دعویٰ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بہاولپور میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن میں کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے دراصل دو صوبوں کی قرار داد منظور کرا کے نفاق ڈالا حالانکہ ہماری حکومت نے سرائیکی صوبے کے قیام کا اصولی فیصلہ کر لیا تھا جس کے لئے ابتدائی کام بھی شروع ہو چکا تھا بلکہ اس کے لئے اسمبلی میں قرار داد بھی لائی جانے والی تھی جبکہ اب بھی پیپلز پارٹی ہی واحد سیاسی جماعت ہے جو سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے کیونکہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے اور جو سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بطور سیاسی جماعت ختم ہو رہی ہے یا ختم ہو چکی ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، کارکن ہماری طاقت ہیں اور ان کی رائے ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے لہذا میں کارکنوں کی رائے کو اعلیٰ قیاد ت تک بھی پہنچاؤں گا۔

قبل ازیں اس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم احمد محمود نے ن لیگی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اگر پانامہ لیکس کا الزام پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم پر لگتا تو اس کا عبرتناک انجام ہو چکا ہوتا لیکن موجودہ حکومت نہ صرف قائم ہے بلکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی قائم ہیں اور انہیں اتنے بڑے مالیاتی سکینڈل کے باوجود کچھ نہیں ہوا اور تحقیقات تک نہیں ہوئیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تخت لاہور والے، جنوبی پنجاب کو نہ صرف نظر انداز کر رہے ہیں بلکہ اس علاقے کے ترقیاتی فنڈز بھی لاہور پر خرچ کئے جا رہے ہیں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اربوں روپے خرچ کر کے اپنے استعمال کے لئے نیا طیارہ خرید لیا ہے جو سرکاری خزانے پر بوجھ ہے اس کنونشن سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں عبدالقادر شاہین، خواجہ رضوان عالم سمیت دوسر ے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اب پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں کی یہ بات کب سچی ہوتی ہے کہ سرائیکی صوبہ ان کی پارٹی ہی بنائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات جو سمجھ میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر جنوبی پنجاب کے نظر انداز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو صوبے کے قیام کی ایک نئی روشنی دکھانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ایک طرف تو وہ عوام میں مقبولیت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ن لیگ کا سیاسی مینڈیٹ بھی تقسیم کر لیں گے کیونکہ ن لیگ کسی بھی طور پرپنجاب کی تقسیم نہیں چاہتی اور وہ سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے کبھی بھی سنجیدہ حمایت نہیں کریں گے، کیونکہ یہ ان کے لئے ایک سیاسی موت بن سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے لئے یہ فائدہ مند ہے کہ وہ ایک طرف تو الگ صوبے کی حمایت کر کے مقامی عوام کا دل جیت سکتی ہے جس کے لئے انہیں آئندہ عام انتخابات میں بڑا سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے ۔دوسری طرف وہ شریف برادران کا ایک بڑا سیاسی بیس توڑنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اب پیپلز پارٹی کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے بارے میں بڑی پتے کی بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کی موجودہ ’’سیاسی یلغار‘‘ کے ’’پیچھے‘‘ کوئی نہ کوئی ضرور ہے دونوں بلا وجہ سڑکوں پر نہیں آئے۔ البتہ عمران خان کے مطالبات ٹھیک ہیں لیکن ان کا طریقہ کار آمرانہ ہے، دھرنوں اور احتجاج سے جمہوریت کو ہی ہمیشہ خطرات لاحق رہتے ہیں جس کا فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے اس لئے سیاسی قائدین کو جمہوری طرز عمل اپنانا ہو گا اور احتجاج بھی ایک دائرہ کار کے اندر کرنا ہو گا۔ اب مخدوم جاوید ہاشمی کی اس بات پر سیاسی قائدین عمل کرنا پسند کرتے ہیں کہ نہیں اس کے لئے انتظار کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس مسئلہ کا حل سڑکوں پر ہی تلاش کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں جس کے لئے انہیں سیاسی طور پر نقصان بھی ہو رہا ہے جس کی واضح مثال چند روز پہلے ہونے والے ضمنی انتخابات ہیں لیکن شاید ان دونوں رہنماؤں کی سیاسی ڈاکٹرائین کچھ اور لگتی ہے مگر پیپلز پارٹی اس مرتبہ اپنی سیاسی ڈاکٹرائین پر کار بند ہے جس کا وہ برملا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسی سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہو اور ن لیگ کو مینڈیٹ کے مطابق پانچ سال پورے کرنے کا پورا موقع فراہم کریں گے اور جمہوریت کوڈیل ریل نہیں ہونے دیں گے پیپلز پارٹی کے اس سیاسی فیصلے نے جہاں انہیں تھوڑا بہت سیاسی نقصان پہنچایا ہو گا مگر سیاسی طور پر وہ ایک سنجیدہ پارٹی کے طور پر اپنا تشخص بنانے میں کامیاب جا رہی ہے اب وہ اس تشخص اور جمہوریت نواز پالیسی سے آئندہ انتخابات میں کتنا فائدہ اٹھاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا مگر یہ واضح نظر آرہا ہے وہ جمہوری عمل کو پروان چڑھانا چاہتی ہے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت اور خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی عمران خان اور طاہر القادری پرشدید تنقید کرتے نظر آرہے ہیں خاص طور پر جبکہ عمران خان نے لاہور اور طاہر القادری نے راولپنڈی میں جلوس نکالے اور حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لائے تاہم اس سیاسی حربے کا بظاہر کوئی حاصل نظر نہیں آیا البتہ دونوں سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کو راولپنڈی اور لاہور جیسے بڑے معروف شہروں کو بلاک کرنے اور ٹریفک کا بہاؤ روکنے پر سخت تنقید کا سامنا ضرور کرنا پڑا ہے اب اس کا سیاسی نقصان کون اٹھائے گا اس کے لئے عوامی رحجان پر نظر رکھنی پڑے گی۔ نظر تو اس بات پر بھی رکھنی چاہیے کہ پنجاب حکومت نے ستر سال کے بعد دریاوءں کی قدرتی گزر گاہوں میں ناجائز تعمیرات اور قبضے ختم کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے بظاہر یہ بات بہت اچھی اور اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب زیادہ تر اس وجہ سے آتے ہیں کہ ان کی گذر گاہوں اور پانڈ ایریاز میں با اثر سیاسی لوگوں نے عارضی بند تعمیر کر کے لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور جس وقت بھی دریا میں پانی آتا ہے تو وہ سیاسی لوگ عارضی بند باندھ کر اس کا رخ موڑ دیا کرتے تھے تاکہ سرکاری اراضی پر کاشت کی گئی ان کی فصلیں بچ سکیں جبکہ دوسری طرف سیلاب سے شہری علاقے متاثر ہوتے رہے اور اس حوالے سے 2010 میں دریائے سندھ میں آنے والے خوفناک سیلاب کی تمام انکوائری رپورٹ بھی پنجاب حکومت کے پاس موجود ہے جس میں اس تباہ کن سیلاب کی اصل وجوہات بھی دستاویز ثبوتوں کے ساتھ موجود ہیں اگر یہ صوبائی وزیر کی محض بڑھک نہیں ہے تو ا س کا فائدہ نہ صرف حکومت کو ہو گا بلکہ ان علاقوں کے عوام مستقل طور پر سیلاب کے عذاب سے نکل آئیں گے اب یہ پنجاب حکومت کا کام ہے کہ وہ عوام کو عذاب میں رکھنا چاہتی ہے یا نکالنا چاہتی ہے یا پھر اپنے سیاسی حلیفوں کو بچانا چاہتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -