اپوزیشن کے احتجاج سے ایک روز قبل مردان اورپشاور میں دہشت گردوں کے بھرپور حملے

اپوزیشن کے احتجاج سے ایک روز قبل مردان اورپشاور میں دہشت گردوں کے بھرپور ...

  

بابا گل سے

خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آگیا اس مرتبہ دہشت گردوں نے مردان ڈسٹرکٹ کورٹس اور پشاور کی کرسچن کالونی پر پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا پولیس اور فوج کے جوانوں نے اپنی انمول جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردوں کے بڑے حملوں کو ناکام بنا یا مردان ڈسٹرکٹ کورٹس کے داخلی گیٹ پر پولیس جوان نے خودکش بمبار کو روکا، جس کے بعد دھماکہ ہوگیا اور کئی وکلاء اورپولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید ہو گئے اس دہشت گرد کا رروائی میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے یہ بات طے ہے کہ دہشت گرد کوئٹہ کی طرز پر مردان ڈسٹرکٹ کورٹس میں بھی بڑے پیمانے پر خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے مگر فرنٹیئرپولیس کے بہادر جوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کرتے ہوئے ایک بڑا سانحہ رونما ہونے سے بچا لیا مردان دھماکہ نے پشاور سے کراچی اور کوئٹہ تک کے ایوانوں کو ہلا کرر کھ دیا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خود کش حملہ آور کے اعضاء تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی اور امید ہے کہ بہت جلد دہشت گردوں کے سہولت کاروں تک رسائی حاصل کرلی جائے گی۔

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سب سے پہلے مردان پہنچے۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا وکلا ء سے تعزیت کی ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور بعد ازاں شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شریک ہوئے جنرل راحیل شریف کو مردان میں موجود دیکھ کر ہماری سیاسی قیادت کو بھی مردان جانے کاخیال آ گیا وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور عمران خان فوری طور پر مردان پہنچے ہیلی پیڈ پر جنرل راحیل شریف اور عمران خان کا آمنا سامنا ہوگیا اور دس بارہ منٹ تبادلہ خیال بھی کیا گیا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔

اگلے روز وزیر داخلہ چودھری نثار بھی مردان مردان پہنچے، حالانکہ بڑے سانحات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ اکثر منظر سے غائب ہوتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا،مگراس مرتبہ خلاف معمول وہ مردان تشریف لائے زخمیوں کی عیادت اور شہداء سے تعزیت کرنے کے علاوہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اس سے قبل عمران خان نے مردان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حسبِ معمولی دہشت گرد کار روائیوں کی مذمت کی اور بعض تجاویز دیں اسی دوران وہ روانی میں یہ بات بھی کہہ گئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہاعمران خان کی بات تو سچ تھی، مگربات تھی رسوائی کی شاید عمران خان یہ بات کہتے ہوئے بھول گئے کہ خیبرپختونخوا میں تو انہیں کی پارٹی کی حکومت ہے اوران کی حکومت ہی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ دار ہے تاہم بعد میں اس بات کو بار بار نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کیاجائے گایہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور میں نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو رہا۔پشاور کے تجارتی کاروباری مذہبی سیاسی و غیر سیاسی حلقے بار بار یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد تیز کیا جائے اور پشاور کو فوج کے حوالے کیا جائے، مگر کچھ بھی نہ ہوا، جس کے بعد مردان میں دلخراش واقعہ رونما ہوگیا اس سے چند گھنٹے قبل علی الصبح پونے چھ بجے چار خود کش بمباروں سمیت دہشت گردوں کے ایک بڑے گروہ نے ورسک روڈ پشاور میں کرسچن کالونی میں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے بڑا حملہ کیا دہشت گردوں کی طرف سے کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی فوج پولیس اور کالونی کے سیکیورٹی گارڈ دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیواربن گئے فائرنگ کے طویل تبادلے اور دستی بموں کے استعمال کے بعد چاروں خود کش ہلاک ہوگئے۔ یوں درجنوں مسیحی خاندان اور محفوظ رہے اس جملے میں ایک مسیحی نوجوان جاں بحق تین سیکیو رٹی اہلکار زخمی ہوئے اگر کرسچن کالونی میں دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ چند بڑے سانحات میں سے ایک ایسا سانحہ ہوتا،جس کی گونج اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر سنائی دیتی ۔

قابل غور اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی ہولناک کارروائیوں کی یہ کوشش بھی حسبِ معمول ایک ایسے وقت میں کی گئی جب حکومت کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے احتجاجی تحریک اور ریلیوں میں صرف ایک دن باقی تھا جس کے بعد یہ سوال زبانی زد عام ہو گیا کہ ہمیشہ اپوزیشن کے احتجاج سے ایک یا دو روز قبل دہشت گردی کی بڑی کارروائی کا رونما ہونا کیا پیغام دیتا ہے؟ سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ کرسچن کالونی میں دہشت گردی کے واقع کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیاہے، جن کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں افغانستان کی طرف سے پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں رہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حکومت پاکستان خصوصاً عسکری ادارئے کی طرف سے یہ معاملہ افغانستان کے ساتھ اٹھانے کافیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ بہرحال جو بھی اقدام اٹھایا جائے اور جو بھی فیصلہ ہو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اور سیکیورٹی ادارئے اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لئے پوری طرح چوکس اورہمہ وقت بیدار ہیں ۔

خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی نے سی پیک منصوبے کی سیکیورٹی کے لئے خیبرپختونخوا میں بھی خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کیاجلاس میں مردان اور پشاور میں خود کش حملوں کے بعد سیکیورٹی کے حالات کاجائزہ لیاگیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کافیصلہ کیاگیا جو کہ در حقیقت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا۔نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔ پشاور اور بعض دیگر اضلاع چند ماہ سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، مگر کسی بھی ادارئے نے اس کا نوٹس نہیں لیا، جس کی بظاہر وجہ یہ تھی دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں پولیس اور ایف سی کے جوان نشانہ بنتے گئے۔ مہمند ایجنسی ،دیرپشاور ،صوابی وغیر ہ میں درجنوں پولیس سیکیورٹی اہلکار شہید کردیئے گئے خصوصاً پشاور میں شہید کئے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد سب سے زیادہ،جبکہ جوابی کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی حکومت کی اس لاپرواہی کے نتیجے میں پشاور پولیس کے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب نیشنل ایکشن پلان پر عملددرآمد کے ظاہری اعلان پرپولیس اہلکار وافسران نسبتاً مطمئن نظر آتے ہیں اوراس بات کے لئے بے چین نظر آتے ہیں وہ کب مُلک دشمن اورعوام دشمن عناصر سے بے گناہ قتل عام کا حساب لیں گے۔ خدا کرے کے پولیس اور سیکیورٹی اہلکار اپنے اس عزم میں کامیاب اورسرخرو ہوں (امین)

مزید :

ایڈیشن 1 -