نواز شریف کی موجودگی میں ادارے کبھی ٹھیک نہیں ہو سکیں گے ،عمران خان کا24ستمبر کو رائیونڈ کی طرف مارچ کا اعلان

نواز شریف کی موجودگی میں ادارے کبھی ٹھیک نہیں ہو سکیں گے ،عمران خان کا24ستمبر ...

  

کراچی (سٹا ف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 24ستمبر کو رائے ونڈ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نواز شریف کو جب تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائیں گے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ملک میں دہشت گردی الطاف حسین نے متعارف کرائی ہے ۔1985 کے بعد کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کو پتہ ہے۔اس سب کی ذمہ داری الطاف حسین پر عائد ہوتی ہے ۔مجھے آج بھی عظیم طارق یاد ہے، وہ انقلابی سوچ والا انسان تھا، میں ان سے متاثر تھا، الطاف حسین نے کسی کو بھی نمبر 2 نہیں بننے دیا۔ کراچی ایک عظیم شہر ہے اور اس کے لوگ بھی عظیم ہیں، کراچی میں اگر خوف نہیں ہوتا یہ بھی ترقی کرتا اور ملک بھی ترقی کرتا ۔مہاجروں کوکہتا ہوں کہ وہ خود کو تنہا نہیں سمجھیں ،خوف سے باہر نکلیں ،ہم ان کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔کراچی والوں کو کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ محب وطن ہیں ۔، نصیر اﷲ بابر کے زمانے میں آپریشن کرنے والی پولیس کے افسران کو چُن چُن کر مارا گیا، اگر ہمیں موقع ملا تو انشاء اﷲ کراچی کی پولیس کو غیر سیاسی کردیں گے۔وہ گزشتہ روز نشتر پارک میں پاکستان زندہ باد جلسے سے خطاب کررہے تھے ۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے ادارے ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں ۔کرپشن ختم کرنے کیلئے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ نواز شریف کانام پانامہ لیکس میں آیا ہے، میرا نہیں ، پھر مجھ پر کیوں الزام لگتا ہے۔ ان کا ایک بیٹا ساڑھے چھ ارب کے مکان میں رہتا ہے ، سپیکر کو یہ نظر نہیں آتا۔ 18سال عمران خان نے باہر کمائی کی اور سارا پیسہ واپس وطن لایا۔ اس شخص کے خلاف ریفرنس داخل کردیا گیا ہے ۔ جب یہ میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو یہ عام آدمی کے ساتھ کیا کرتے ہونگے۔ میں 24 تاریخ کو رائے ونڈ مارچ شروع کررہا ہوں۔ میں ملک بھر سے قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ نے رائے ونڈ آنا ہے۔ انہں نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ ایران تم سے زیادہ طاقتور تھا ، عوام جب سڑک پر آجائے تو کوئی جتنا بھی طاقتور ہو اس کو کوئی نہیں بچا سکتا ۔ قذافی ، صدام، سوہارتو بھی بڑے طاقتور تھے لیکن عوام نے شکست دیدی۔ انہوں نے کہا کہ نئے الیکشن کمیشن سے امید لگائی ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ میں ججز صاحبان سے کہتا ہوں کہ اگر آپ انصاف نہیں دیں گے تو ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم اور امریکہ کے صدر کو جھوٹ بولنے پر نکالا گیا۔ ہمارا وزیراعظم جھوٹ بولتا تو یہاں کچھ نہیں ہوتا۔جمہوریت میں لیڈر چوری نہیں کرسکتاہے ۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کہتی ہے آپ سنجیدہ نہیں ہیں، نواز شریف نے ہمارے اداروں پر قبضہ کرلیاہے۔ سپیکر جو کچھ بھی کہہ لے ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک نواز شریف کو انصاف کے کٹہرے تک نہ لے آئیں۔انہوں نے کہا کہ میں لاہور مارچ کی تیاری کررہا تھا لیکن الطاف حسین نے جو زبان اختیار کی اس کے بعد میں نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا ۔کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔کراچی کے لوگوں کو مرنے کاخوف دل سے نکالنا ہوگا کیونکہ جو قوم خوف میں رہتی ہے وہ غلام بن جاتی ہے۔ کراچی ایک عظیم شہر ہے اور اس کے لوگ بھی عظیم ہیں، کراچی میں اگر خوف نہیں ہوتا تو کراچی بھی ترقی کرتا اور ملک بھی ترقی کرتا اور آج دبئی سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے لوگوں کو خوف کا غلام بنایا،میں 10سال سے اس کے خلاف بات کررہا ہوں ۔1985 کے بعد کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کو پتہ ہے۔ الطاف حسین نے ملک میں دہشتگردی متعارف کرائی ۔مجھے آج بھی عظیم طارق یاد ہے، وہ انقلابی سوچ والا انسان تھا، میں ان سے متاثر تھا، الطاف حسین نے کسی کو بھی نمبر 2 نہیں بننے دیا۔ میں جب 2003 میں ہندوستان میں تھا تو الطاف حسین تو یہ علم ہوا کہ الطاف حسین کو ’’را‘‘ نے بھارت بلوایا ہے اور اس نے ہی الطاف حسین کے جگہ جگہ پوسٹرز لگوائے ہیں۔ میں مہاجروں کو پیغام دیتا ہوں آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کتنے محب وطن ہیں۔آپ پاکستانی ہیں، عمران خان آپ کے حقوق کے لیے ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کراچی کے مسائل سب کو پتہ ہیں ۔ کراچی کے مسائل کو ختم کرنے کیلئے سب سے پہلے پولیس کو ٹھیک کرنا ہوگا، اسے غیرسیاسی کرنا پڑے گا اور میرٹ پر لانا ہوگا ۔ خیبرپختونخواہ میں ہم نے پولیس کو غیرسیاسی کیا اور قانون بنایا کہ کوئی پوسٹنگ میرٹ کے بغیر نہیں ہوگی پبلک سیفٹی سسٹم نافذ کیا ۔ میرے اپنے خاندان کے لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 1965میں 13 سال کا تھا ،میں نے اس وقت دیکھا تھا کہ قوم کس طرح متحد ہوئی تھی ۔ میں بھی فوج میں جانا چاہتا تھا۔ جب میں 19 سال کا تھا انگلینڈ میں پڑھ رہا تھا، ایسٹ پاکستان اس وقت علیحدہ ہوا ،اس کی تکلیف آج تک محسوس کرتا ہوں ۔ عمران خان نے کہا کہ اسفندیار اپنے دور میں پشاور میں تقریر نہیں کرتے تھے آج کررہے ہیں۔ میں نے صوبہ خیبرپختوانخوا کے ہسپتالوں کا دورہ کیا ہے۔ مردان میں مریضوں نے کے پی کے پولیس کی تعریف کی، ان کی بہتر کارکردگی کے باعث ان کی جانیں بچی ہیں،مجھے خوشی ہے کہ کے پی کے پولیس پر لوگوں کو اعتماد ہے۔جبکہ کراچی میں ایسا نہیں ہے ، نصیر اﷲ بابر کے زمانے میں آپریشن کرنے والی پولیس کے افسران کو چُن چُن کر مارا گیا، اگر ہمیں موقع ملا تو انشاء اﷲ کراچی کی پولیس کو ٹھیک کریں گے اور غیر سیاسی کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں فنڈ کا استعمال اس طرح سے ہے کہ وہاں کے لوگ رو رہے ہیں ۔ سارا فنڈ لاہور میں خرچ ہورہا ہے ، ہم نے خیبرپختونخوا میں ویلج کونسل بنائی ہے ،جس کے ذریعہ گاؤں تک پیسہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی 60 فیصد ریونیو جمع کرکے وفاق کو دیتا ہے اگر کرپشن رک جائے تو کراچی آج بھی ترقی کرسکتا ہے ۔ کرپشن اس وقت ختم ہوگی جب ہم نیب کو آزاد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ملک میں دہشتگرد ی ختم کرائی ۔

مزید :

صفحہ اول -