سیلز ٹیکس کے معاملات صوبوں کے حوالے ،این ایف سی ایوارڈ نئی مردم شماری کے بغیر لانے پر اتفاق

سیلز ٹیکس کے معاملات صوبوں کے حوالے ،این ایف سی ایوارڈ نئی مردم شماری کے ...

  

لاہور (کامرس رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) این ایف سی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں سیلز ٹیکس کے معاملات صوبوں کو دینے اور این ایف سی ایوارڈ نئی مردم شماری کے بغیر لانے پر اتفاق ہوگیا۔ اس امر کا اظہار گرشتہ روز9 ویں مالیاتی کمیشن ایوارڈ کیلئے ورکنگ گروپس کے اجلاس کے اختتام پر کی جانے والی پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ صوبائی ورکنگ گروپس کی رپورٹ اور وفاقی حکومت کی جانب سے جلد از جلد کمیشن کا اجلاس بلائے جانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبو ں اور وفاق کے اختیارات کی واضح تقسیم ضروری ہے تاکہ ڈبل ٹیکسیشن جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔تین صوبوں خیبر پختوانخواہ ،سندھ اور بلوچستان نے 9واں این ایف سی ایوارڈ نئی مردم شماری کے بغیر ہی لانے پر اتفاق رائے کیا ہے جس کی پنجاب نے بھی تائید کر دی ہے ،صوبوں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ این ایف سی کو دسمبر سے قبل تشکیل دیدیا جائے ، تینوں صوبوں نے اپنے اجلاس میں اپنے ورکنگ پیپر زپیش کئے جبکہ وفاق اپنا ورکنگ پیپر پیش نہ کر سکا ، ورکنگ گروپ کے اجلاس میں چاروں صوبوں نے اتفاق رائے سے تجاویز مرتب کیں جنہیں وفاقی حکومت کو پیش کیاجائے گا ،9ویں این ایف سی میں پنجاب بلوچستان کو ساتو یں این ایف سی میں دئیے گئے اپنے حصے میں سے دو فیصد کو واپس لینے کا فیصلہ آئندہ نئے این ایف سی کے لئے اجلاسوں میں کرے گا،چاروں صوبوں نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی گورننس اینڈ سبسڈیز پر تحقیقاتی رپورٹ جلد صوبوں کے حوالے کرے اور اس سلسلہ میں فوری طور پر اجلاس بلایا جائے ۔ اس موقع پر پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پنجاب ، خیبر پختوانخواہ اور سندھ نے اپنی رپورٹس مکمل کر لی ہے اور اس سلسلہ میں جو تجاویز مرتب کی گئی ہیں ان کو وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے کہ صوبائی ٹیکسوں کو صوبوں کو وصول کرنا چاہیے اور اسے وفاق کو وصول نہیں کرنا چاہیے ۔ سیلز ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہیے ۔ ڈبل ٹیکسیشن جیسے مسائل کو حل کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر کے آخر تک صوبوں کی تمام رپورٹیں وفاق کو ارسال کر دی جائیں گی اور کوشش ہے کہ نیا این ایف سی ایوارڈ دسمبر تک منظور کر لیاجائے ۔ خیبر پختوانخواہ کے وزیر خزانہ مظفرسید ایڈووکیٹ نے کہا کہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہوئے ۔ہمارا مرکز سے مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد این ایف سی کی میٹنگ بلائی جائے اور دسمبر میں ہی نئے این ایف سی کا اعلان کر دیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کی فراخدلی اور مہمان نوازی کے مشکور ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر جمہوریت کے تسلسل سے کام کرنے کیلئے ہم سب ایک پیج پر ہوں تاکہ ملک میں امن قائم ہو اور خوشحالی آئے۔ بلوچستان کے پرائیویٹ ممبر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ بہت مفید تھی اس میں ہم نے اپنے مطالبات جواز کے ساتھ پیش کئے ۔ جس طرح ساتواں این ایف سی خوش اسلوبی سے منظور ہوا ہمیں امید ہے کہ 9واں این ایف سی بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا محکمہ پی اینڈ بہت مضبوط ہے جبکہ دیگر صوبوں کے پی اینڈ ڈی کے محکمے اتنے موثر نہیں،بلوچستان میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو اپ گریڈ کیا جائے گا ۔ ساتویں این ایف سی میں صوبوں کا حصہ 46فیصد سے بڑھ کر 57.5فیصد ہو گیا تھا لیکن 18ویں ترامیم کے بعد وفاق میں 17وزارتیں ختم ہونے کے بعد یہ محکمے صوبوں کو ملے جو اضافی وسائل صوبوں کو ملے تھے ان کا زیادہ تر حصہ ان محکموں کو تنخواہیں دینے میں خرچ ہو گیا اور کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ خیبر پختوانخواہ کے پرائیویٹ ممبر پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ 9ویں این ایف سی کے لئے تین صوبوں اوریک وفاق پر مشتمل چار گروپ بنائے گئے تھے ۔ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں مجموعی طو رپر صوبوں کا اتفاق رائے ہے ۔ کچھ جزوی اختلافات ہیں یہ بھی اتفاق رائے سے ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ نئے این ایف سی پر فوری کام شرو ع کیا جائے اور وفاق اپنی گرانٹس اینڈ سبسڈیز کی تحقیقات رپورٹ بھی صوبوں کے حوالے کرے اور اس رپورٹ کے حوالے سے جلد اجلاس بھی بلائے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ این ایف سی کے جائزہ اجلاس بھی اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہونے چاہئیں جو ابھی تک نہیں ہوئے ۔سیکرٹری خزانہ سند ھ حسن نقوی نے بھی کہا کہ چاروں صوبوں نے مل کر بہت سی تجاویز اتفاق رائے سے مرتب کی ہیں جنہیں وفاقی حکومت کو ارسال کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے نمائندے اور این ایف سی سیکرٹریٹ کے سربراہ وفاقی جوائنٹ سیکرٹری سید انور الحسن بخاری نے کہا کہ این ایف سی سیکرٹریٹ کا سربراہ وفاقی وزارت خزانہ کا جوائنٹ سیکرٹری ہوتا ہے ۔ بعد ازاں مردم شماری کے بغیر نیا این ایف سی پیش کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے تسلیم کیا کہ نیا این ایف سی ایوارڈ مردم شماری کے بغیر ہی آئے گا ۔ پنجاب نے مشترکہ مفادات کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا اس کے علاوہ دیگر فورمز بھی معاملہ اٹھایا ،مردم شماری کے لئے آرمی کو بھی شامل کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن فوج کے مختلف محاذوں پر مصروف ہونے کے باعث مردم شماری نہیں کرائی جا سکی۔دیگر صوبوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری کے بغیر ہی این ایف سی ایوارڈ تشکیل دیا جائے ۔یہ صوبوں کی لائف لائن ہے ۔ کچھ صوبوں کو تو 80فیصد وسائل این ایف سی سے ہی میسر آتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی چاہتے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ جلد تشکیل دیا جائے تاکہ آئندہ بجٹ نئے این ایف سی کے مطابق بنے ۔ کیا پنجاب 9این ایف سی میں بلوچستان کو دئیے جانے والے اپنے حصے کے دو فیصد وسائل واپس لے لے گا سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ اس حوالے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ 9ویں این ایف سی کے آئندہ ہونے والے اجلاسوں میں اس کا جائزہ لیں گے۔ کیونکہ پنجاب کو اقتصادی ترقی کے لئے وسائل کی ضرورت ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -