حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافہ کر کے ایک ارب ڈالر کا ٹیکس لگا یا :خورشید شاہ

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافہ کر کے ایک ارب ڈالر کا ٹیکس لگا یا :خورشید ...

  

اسلام آباد (آن لائن) اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے ایک ارب ڈالر کا ٹیکس لگایا ہے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور حکومت قیمتیں بڑھا رہی ہے گزشتہ ایک سال میں 1.3 ٹریلین کا قرض لیا گیا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ ہمارے فارن ایسٹ بڑھ گئے ہیں بیروزگاری سے عوام میں بے چینی ہے لیکن حکومت کہتی ہے کہ معیشت مستحکم ہے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ حکومتیں ویلفیئر کے لئے ہوتی ہیں بھلائی کے لئے ہوتی ہیں اور تمام پارٹیوں کا اپنا ایک ایجنڈا ہوتا ہے اور جس کا مقصد ویلفیئر ہے لیکن ایوانوں میں پہنچنے کے بعد ہم لوگ تمام کئے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں ملک نے گزشتہ برس تقریباً 1.3 ٹریلین قرض لیا گیا لیکن پھر بھی ملک کی معیشت مستحکم ہے خورشید شاہ نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی فیس نہیں بڑھا رہے ہیں لیکن عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزبروز کم ہو رہی ہیں پٹرول کے سیلز ٹیکس کو تین فیصد بڑھا دیا گیا ملک میں ڈیزل 65 فیصد استعمال ہوتا ہے اور آپ نے اس پر 35 فیصد سیلز ٹیکس دال دیا جس سے ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھا دی گئیں ملک کی 80 فیصد آبادی سفید پوش لوگ رہتے ہیں حکومت نے عوام پر مہنگائی کے بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہں دیا انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں ریونیو 4.34 بلین ڈالرز تھا موجودہ حکومت مین جو بھی ریونیو اکٹھا ہوا ہے 2015-16 میں تقریباً ایک بلین زیادہ ہے ایک بلین ڈالر کے نئے ٹیکس غریب عوام پرلگائے گئے ہیں ۔ ڈیزل کی موجودہ قیمت 36 روپے فی لیٹر پاکستان میں پڑتی ہے لیکن عوام کو کس قیمت پر دیا جاتا ہے گزشتہ دور میں کچھ پیسے لئے جاتے تھے لیکن اس رپ بھی اعتراض ہوا تھا جس پر ہم نے مزید دو فیصد ٹیکس کم کر دیا گیا ہے اور ڈیزل 74 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلو ٹرین پر کھربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن عوام کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ ہی صحت کی سہولیات ہیں ۔ جناح ہسپتال لاہور میں سہولیات نہیں ہیں اور نہ بیڈ ہیں اور یہاں پرلاکھوں وعدے کئے جاتے ہیں عوام چاہے سندھ ، پنجاب ، کے پی کے ہو عوام ایک ہیں اور ان کے مسائل حل کرنا ہمارا فرض ہے غریب عوام کا پیٹ چاک کر ریونیو اکٹھا کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بادشاہ ہیں وہ نہ کسی سے پوچھتے ہیں اور نہ ہی کسی سے غریب کی کہانی پوچھتے ہیں اور سب اچھا ہے کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں ہر انسان کو زندگی پیاری ہے خورشید شاہ نے موٹر وے پولیس کے کانسٹیبل کی خودکشی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہ بھی ہائی وے ڈیپارٹمنٹ میں سے ڈپوٹیشن پر آیا اور اسے نوکری سے نکال دیا گیا جب آئی جی کے پاس پہنچا تو اس نے اسے باہر پھینک دیا اور لڑکے نے خودکشی کر لی لیکن کسی نے بھی آئی جی سے پوچھا نہ حکومت سے کہ اس کا قصور کیا تھا اور اس کے قتل کی انکوائری کی ہے یا نہیں اگر آج پارلیمنٹ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو اس میں قصور صرف ہمارا ہے اگر کوئی باہر جا کر گالیاں نکالے تو اس میں ہمارا قصور ہے کہ ہم کام نہیں کررہے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -