سو کروڑ ڈالر+ سو کروڑ یورو سے زیادہ محض دس دِنوں میں

سو کروڑ ڈالر+ سو کروڑ یورو سے زیادہ محض دس دِنوں میں
 سو کروڑ ڈالر+ سو کروڑ یورو سے زیادہ محض دس دِنوں میں

  

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ بدعت کا رد کرتے کرتے ہم نے بدعت کے تنفر میں بھی کچھ اچھی روایات قائم ہونے نہیں دیں اور جو قائم ہوئیں، انہیں پنپنے نہیں دیا۔ ظاہر ہے کچھ چیزیں دین ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں رسوم و روایات، یعنی انسانوں کے دین پر عمل پیرا ہونے اور دوسروں کو اچھائی کی طرف راغب کرنے کے اپنے اپنے موثر طریقے، جیسے مارکیٹ میں ایڈز چلتی ہیں اور جس طرح بازار کے لوگ مختلف تہواروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کرتے ہیں، ایسے ہی اگر اچھائی یا دین کے فروغ کے لئے بھی مناسب اور مواقع سے فائدہ اٹھا لیا جائے تو شاید اس سے کچھ بہتری پیدا ہوسکے۔

اب مثلاً آج دو چیزوں کا دن ہے۔

(1) چھ ستمبر یوم دفاع

(2)عشرہ ذوالحجہ کا تیسرا دن

چھ ستمبر کو چونکہ میڈیا ایونٹ کے طور پر لے رہا ہے۔ فوج اس دن میں بھر پور شریک ہے۔ قوم کو اس بارے حساس بنایا گیا ہے، چنانچہ آج ہم پاکستانیوں کی اکثریت یہ تو جانتی ہے کہ آج چھ ستمبر یوم دفاع ہے،مگر وہ یہ نہیں جانتی کہ اس بار یہ چھ ستمبر کس بابرکت عشرے میں آیا ہے۔ انہیں قطعاً اندازہ نہیں کہ ان کے لئے ان آسان ترین دس دنوں میں خیر و برکت اور دین و دنیا کے نفع کی آسمان کی طرف سے کس قدر لوٹ سیل لگا دی گئی ہے۔ اب چونکہ وہ جانتے نہیں۔ سو جسے وہ جانتے نہیں،اس بارے میں کاوش یا خواہش بھی کیا کریں گے، سو عالم یہ ہے کہ منافع اور فائدے کا دریا ان کی ہر سانس کے ساتھ اور ان کے ہر در کی دہلیز کے ساتھ بہہ رہا ہے، مگر وہ بے چارے اس سے ایک قطرے کا بھی فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔ آپ نے کئی ایسے مواقع دیکھے ہوں گے کہ جب آپ کی معمولی سی کوشش سے آپ کو اتنا فائدہ ہوجاتا ہے کہ آپ تو کیا آپ کی آئندہ کئی نسلیں بھی فراخی و خوشحالی سے زندگیاں گزار لیتی ہیں۔ مثلاً کسی نیلام یا انعام گھر میں سو کروڑ روپے یا ڈالر یا یورو یا پونڈ یا ایسا ہی کچھ قیمتی آپ کو محض ایک سوال کے درست جواب پر مل جائے تو غور کیجئے کہ آپ کی اس میں کتنی محنت لگ جائے گی بھلا؟ پھر غور کیجئے کہ جس سوال پر آپ کو سو کروڑ مل گیا ، اس سوال کا جواب آپ کو ایک عرصے سے معلوم تھا، تاہم اس جاننے نے آپ کو کبھی سو کروڑ ڈالر کا فائدہ نہیں دیا،مگر یہاں ایک خاص ٹائم فریم میں آپ کو اس سے اتنا فائدہ ہو گیا کہ جو عمومی حالات اور عمومی قاعدوں کے تحت کبھی آپ کو ہونے والا نہیں تھا۔ اب یوں دیکھئے کہ خدانخواستہ اگر یہی سوال آپ کو بروقت سوجھنے کے بجائے متعینہ وقت گزرنے کے بعد یاد آئے یا آپ کہیں کہ گو وقت گزر گیا، لیکن اب بعد میں آپ ایک دفعہ کے بجائے ایک ہزار دفعہ یہی جواب دہرانے کو تیار ہیں تو کیا کوئی اس نادانی کو مانے گا اور ہمارے چاہنے کے باوجود کیا اس سے وہی فائدہ حاصل ہو سکے گا جو بر وقت جواب دینے پر ہوتا؟ یقیناًنہیں! کیونکہ ہر چیز حسبِ موقع ہی مفید ہوتی ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ جو مکا آپ کو لڑائی کے بعد یاد آئے، اسے اپنے ہی منہ پر جڑ لینا چاہئے اور پنجابی میں اس کا ترجمہ کچھ یوں بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں!

اس سب تمہید کے بعد اب دو باتیں سن لیجئے۔

نمبر 1۔یہ جو دن گزر رہے ہیں، یعنی حج والے اسلامی مہینے ذوالحجہ کے یہ دس دن۔ میرا مطلب ہے کہ عیدالاضحی آنے سے پہلے والے دس دن۔ یقین کیجئے کہ یہ آپ کی زندگی کے سنہرے ترین دن ہیں۔ یوں سمجھے کہ آپ نیلام گھر میں کئی سو کروڑ یورو کئی ٹن سونا، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر منافع کما سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی میں آنے والے کسی بھی دس دِنوں میں کئے گئے اعمال ان دس دنوں میں کئے گئے نیکی و خیر کے اعمال کی کبھی برابری نہیں کر سکتے، لیکن دیکھئے لگتا یوں ہے کہ شاید ہمیں اس اہم ترین موقع کی کچھ خبر ہی نہیں۔ہم انہیں بھی اسی طرح معمول کے مطابق اڑائے چلے جاتے ہیں۔ لیجئے پیارے رسولؐ کی زبان اقدس سے ان گنتی کے محض دس دنوں کی فضیلت ذرا ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ رسولِ معظمؐ نے فرمایا:

ترجمہ:’’ذی الحجہ کے دس دنوں میں کیا گیا نیک کام خدا کو جتنا محبوب ہے، اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے راستے میں اور دنوں میں کیا گیا جہاد بھی (ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر نہیں)؟ فرمایا :’’نہیں۔ اور دنوں کا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں‘ سوائے اس شخص کے کہ جواپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور پھر ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ لوٹے (یعنی ہر دو چیزیں رب کی راہ میں پیش کر ڈالے) ‘‘۔۔۔اِسی مفہوم کی روایت سیدنا ابن عمرؓ کے حوالے سے مسند احمد میں بھی موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دس دنوں کا کوئی عام عمل تو خیر باقی دنوں کے اعمال سے کیا میل کھائے گا کہ یہاں کا ایک عام عمل عام دنوں کے جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ اکبر!

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جا ہے!

کچھ اندازہ ہوا یہ دن کتنے قیمتی ہیں۔ پھر اس کے باوجود اگر آپ ان دنوں سے مسلمانوں کو فائدہ اٹھاتے نہیں دیکھتے تو دو ہی باتیں ہیں۔۔۔۔یا تو انہیں واقعی اس کا علم ہی نہیں۔۔۔۔یا پھر وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ نہیں جانتے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک شخص بی ایم ڈبلیو کا مالک تو ہے، مگر نہ اسے ڈرائیور میسر ہے اور نہ اسے ڈرائیونگ آتی ہو۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ رمضان میں ادنیٰ سے ادنیٰ ایمان والا بھی محنت کرتا ہے، حالانکہ ان دس دنوں سے وہ دن کہیں مشکل یوں ہوتے ہیں کہ خالی پیٹ، یعنی روزے کے ساتھ مشقت اٹھانا ظاہر ہے آسان نہیں ہوتا، جبکہ یہاں روزہ فرض نہیں ۔دیگر نفل عبادات کے مانند ہے اور کوئی بھی عمل کیا جا سکتا۔ یہ فضیلت ہر نیک عمل کے لئے ہے لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جس طرح رمضان میں علمائے دین نے انہیں ایک ماحول دیا، یہاں وہ نہیں دیا، سو سوائے مخصوص ترین اقلیت کے اکثریت ان عظیم ترین بابرکت دِنوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہی یا نہیں اٹھا پا رہی۔ تجویز یہ ہے کہ اگر علماء ان دس دنوں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ مختلف پروگرام بھی مرتب کر سکیں ۔ وہ خطبہ و وعظ کے ساتھ ساتھ عبادات کی عملی مجالس بھی بپا کریں تو عین ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ ہم ان دس دِنوں سے بھی فائدہ اٹھانے والے بن جائیں۔ ڈر لیکن یہ ہے کہ کہیں میری یہ تجویز بدعت کے زمرے میں شمار کرکے مجھے احاطہ سرزنش میں نہ پکڑ لایا جائے۔ ویسے تو خیر یہ بھی غنیمت ہی ہوگا، جہاں ثقہ علماء کے برعکس جاہلوں کے ہاں روش اور روٹین کفر سازی کی in ہو، وہاں محض بدعتی کہہ کر چھوڑ دینا تو عین سخاوت اور جان بخشی ہو گی۔

مزید :

کالم -