قادیانیت: پارلیمنٹ کے بعداعلیٰ عدالتوں کے فیصلے

قادیانیت: پارلیمنٹ کے بعداعلیٰ عدالتوں کے فیصلے
 قادیانیت: پارلیمنٹ کے بعداعلیٰ عدالتوں کے فیصلے

  

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کوغیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا مستقبل اندراج کر دیا۔ 26اپریل 1984ء کو حکومت نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلغ و تشہیر اور شعائر اسلامی وغیرہ استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہو گا۔ قادنیوں نے امتناع قادیانیت آردیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا، جہاں ان کی رٹ درخواست خارج کرتے ہوئے جج صاحبان نے متفقہ طور پر اس آرڈیننس کو درست قرار دیا اور قادیانیوں کے بارے میں دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں لکھا:

’’قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں۔ اس بات کو خود ان کا اپنا طرزعمل خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ متناقض ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انہیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بناء پر حل نہ ہو سکا، لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لئے ادارے موجود ہیں ،اس لئے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے‘‘۔۔۔( PLD 1985 FSC8)

سپریم کورٹ کے فل بنچ نے قادیانیوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلے پر مہرتصدیق ثبت کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا: ’’اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمد یوں کے نام سے معروف ہیں، غیر مسلم قرار دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری ، پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران احمدیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ ء نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔یہ بات معمولی پڑھا لکھا شخص بھی جانتا ہے کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا جماعت کے بارے میں ملک کے مفاد کے پیش نظر کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کا فیصلہ بھی 1974ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزاناصرکو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا، اس خصوصی اجلاس میں اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی جرح کے دوران مرزا ناصر نے اپنے ان تمام مذہبی عقائد کو تسلیم کیا،جن سے پوری امت مسلمہ کو نہ صرف شدید اختلاف ہے،بلکہ وہ اسے،اپنے مذہب میں مداخلت بھی سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کی ان عقائد پر ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک عزیز میں کئی بار لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بھی پیدا ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قادیانیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ آئین اور قانون کا احترام کریں۔۔۔ (یادرہے کہ محمد متین خالد ختم نبوت کی تاریخ کے حوالے سے پاکستان میں ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں نے بے شمار اہم کتب تصنیف کر کے اہل اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور ان کی کتب اسلامی دنیا میں بڑے شوق سے مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں پڑھائی جارہی ہیں جو پاکستان کے لئے باعث فخر ہے۔ ان کا رابطہ نمبر0333-6627272ہے۔)

مزید :

کالم -