تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(1)

تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(1)
 تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(1)

  

ختم نبوت کا موضوع اسلام کے بنیادی عقائد ونظریات میں سے ہے، اس کے تقدس کا تقاضا ہے کہ اس سے متعلق کوئی بھی عنوان غلط معلومات اور جھوٹی روایات پر مبنی نہ ہو، لیکن مجھے افسوس کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں اور اس سال بھی مختلف مضمون نویس حضرات نے ختم نبوت کے عقیدے اور نظریے کی تشریح تو صحیح کی ہے،مگر جہاں تک پاکستان میں اس تحریک کے آغاز کا تعلق ہے، اس کی بابت فراہم کی گئی معلومات صحیح نہیں ہیں، کیونکہ جن محترم اہلِ قلم نے اس موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے، وہ اس تحریک کے عینی شاہد نہیں، بلکہ انہوں نے سنی سنائی یا غلط مطبوعات کو ہی اپنی دانست میں صحیح معلومات قرار دے دیا ہے، نیزان تحریکوں کے عینی شاہد صحافی حضرات بھی موجود نہیں ہیں اور جو موجود ہیں، وہ اس وادئ صحافت میں نووارد ہیں۔تاریخ کی نا انصافیوں کی بابت مولانا ابو الکلام آزادؒ نے کیا خوب لکھا ہے :’’تاریخ کی سب سے بڑی نا انصافیاں اس کے اپنے اوراق میں، حکومت کے ایوانوں، عدالت کے کٹہروں اور جنگ میں ہوئی ہیں‘‘۔

انہی تاریخی غلطیوں پر مشتمل ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے موضوع پر کچھ لٹریچر ایسا بھی موجود ہے جو غلط معلومات پر مبنی ہے، حتیٰ کہ تحریک ختم نبوت کے موضوع پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کرنے والے محققین کو مجالس ختم نبوت کے رہنماؤں نے مصدقہ تحریری معلومات فراہم کرنے سے معذرت کی، جبکہ قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلی تحریک ختم نبوت 1953ء میں بروئے کارآئی تھی(بحمد اللہ)راقم الحروف اس کے بانی اراکین میں سے ہے اور تحریک ختم نبوت کے ترجمان روزنامہ آزاد لاہور کا ایڈیٹر اور بانی انفارمیشن سکرٹری تھا۔ ان دنوں پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے قائد اعظمؒ کی حسبِ ہدایت پاکستان کے دستور کی تدوین کے لئے بنیادی اصول وضع کرنے کی ایک کمیٹی بنائی تھی، جس کی رپورٹ کا جائزہ لینے اور اسلامی دستور کی بنیادی سفارشات مرتب کرنے کے سلسلے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے جلیل القدر علماء و مشائخ کے کئی اجلاس منعقد ہوئے تھے۔ اس کا آخری اجلاس6جنوری 1953ء کو حاجی مولا بخش سومرو(سابق مرکزی وزیر بحالیات) کی کوٹھی واقع متصل مزار قائد اعظمؒ پر منعقد ہوا تھا۔ جس کی کارروائی میں نے نوٹ کر کے تمام حاضرین کے دستخط کرالئے تھے جو میرے پاس موجود ہیں۔

اس اجلاس میں دستور اسلامی کے 22نکات اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا تئیسواں نکتہ منظور کیا گیا تھا جو اس حقیقت کا آئینہ دار تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کے جلیل القدر علمائے کرام مفتیانعظام اپنے اپنے مسالک پر قائم رہتے ہوئے اسلامی دستور کے نفاذ پر سب متفق و متحد ہیں۔

یہ تاریخی اجلاس علامہ سید محمد سلیمان ندویؒ کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا اور اس میں بہت سی عظیم شخصیات شریک ہوئی تھیں ،چند اسمائے گرامی یہ ہیں:مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری صدر مجلس عمل آل مسلم پارٹیز،مولانا عبدالحامد بدایوانی بانی صدر جمعیت علمائے پاکستان، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بانی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، علامہ شمس الحق افغانی وزیر معارف قلات،مولانا سید ابو الاعلی مودودی بانی امیر جماعت اسلامی پاکستان،سید محمد داؤد غزنوی امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان، مولانا سید محمد یوسف بنوری دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو اللہ یا رسندھ، مفتی دین محمد مولوی بازار ڈھاکہ،علامہ راغب احسن ایم اے ڈھاکہ، پیر صاحب سیر سینہ شریف ڈھاکہ مشرقی پاکستان، حضرت حافظ محمد امین خلیفہ حضرت ترنگزئی سرحد،مولانا احتشام الحق تھانوی، شیخ التفسیر مولانا احمد علی انجمن خدام الدین لاہور، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شاہ احمد نورانی ناظم دفتر جمعیۃ علماء پاکستان، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع،ماسٹر تاج الدین انصاری صدر مجلس احرار اسلام پاکستان، علامہ کفایت حسین صدر تحفظ حقوق شیعہ پاکستان اور دیگر عظیم شخصیات نے تاریخ ساز فیصلے کئے تھے، بعد ازاں وزیراعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین اور دیگر مرکزی وزراء سے علماء و مشائخ کے وفود ملاقات کر کے امت کے فیصلوں کے مطابق مطالبے کرتے رہے کہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں نے فوج اور دیگر سرکاری محکموں میں پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی خفیہ سرگرمیوں کے ساتھ اور کلیدی عہدوں پر قبضہ کرنے کے بعد ملک میں ’’قادیانی انقلاب‘‘برپا کرنے کے انتظامات کرلئے ہیں اور جھوٹی نبوت پر ایمان لانے پر مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لئے دھمکیاں دی جارہی ہیں، نیز سرظفر اللہ خاں نے صرف اس لئے قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھاکہ وہ قادیانیوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس نے وزارت خارجہ کا کام کرنے کے بجائے بیرونی ممالک میں قادیانیوں کے دفاتر قائم کر کے احمدیت کی تحریک شروع کر رکھی ہے، اسی لئے ہمارا موقف یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کے مطالبے کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور سر ظفر اللہ خاں کی جگہ کسی مسلمان کو وزیر خارجہ مقرر کیا جائے، چنانچہ پاکستان بھر میں مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے علماء و مشائخ نے ان مطالبات کو تسلیم کرانے کی تحریک کا آغاز کردیاتھا، لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، حتیٰ کہ خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم نے علماء کے وفد کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اگر سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے الگ کردیا گیا تو امریکہ ہمیں گندم نہیں دے گا اور قوم بھوکی مر جائے گی۔

ملکی صورت حال اور قادیانیوں کی جارحیت کے پیش نظر تحریک زور پکڑتی جارہی تھی، آل مسلم پارٹیز کی مجلس عمل کی طرف سے دلائل کے ساتھ آگاہ کرنے کے باوجود حکومت نے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا، چنانچہ 28فروری 1953ء کو کراچی میں موجود مرکزی رہنما مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صدر مجلس عمل،امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری، ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عبد الحامد بدایوانی، صاحبزادہ سید فیض الحسن، سید مظفر علی شمسی شیعہ لیڈر، مولانا لال حسین اختر مبلغ ختم نبوت اور دیگر شخصیات کو گرفتار کرلیا اور اسی روز27فروری کولاہور میں تحریک ختم نبوت کے دو ترجمانوں روزنامہ’’ آزاد‘‘ اور روزنامہ’’ زمیندار‘‘لاہور کو ایک سال کے لئے جبراً بند کردیا گیا اور اس کے ایڈیٹروں(مجاہد الحسینی اور مولانا اختر علی خاں) کو گرفتار کرلیا گیاتھا۔ پھر شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، مولانا غلام محمد ترنم خطیب مسجد سول سکرٹریٹ لاہور،عطاء الحق قاسمی کے والد مولانا بہاء الحق قاسمی لاہور، سالار احرار چودھری معراج الدین، مولانا محمد اسماعیل سلفی ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث پاکستان حتیٰ کہ پاکستان میں شائد ہی کوئی عالم دین اور مذہبی رہنما یا سیاسی کارکن ایسا ہوگا، جسے گرفتار نہ کیا گیا ہو جس سے جیل خانے بھر گئے اور خیمے نصب کر کے لوگوں کو قید کیا گیا تھا۔ لاہور اور دیگر شہروں میں ختم نبوت کا نعرہ بلند کرنے والے کا سینہ گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا تھا۔ لاہور کی مال روڈ، چوک دہلی دروازہ اور مسجد دال گراں کا چوک شہداء ختم نبوت کے خون سے بھر گئے تھے، پھر وفاقی اور صوبائی وزارتیں ٹوٹ گئیں ، امریکہ سے محمد علی بوگرا کو لا کر وزیر اعظم بنادیا گیا، اس کی کابینہ میں سر ظفر اللہ خاں کو پھر شامل کر لیا گیا تھا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ممتاز دولتانہ کے بجائے سرفیروز خاں نون کو وزیراعلیٰ مقرر کردیا تھا۔ اس دوران قادیانیوں کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل رہی، انہیں کلیدی عہدوں پر متعین کردیا گیا تھا تاآنکہ متحدہ پاکستان بھی دولخت ہوگیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

یہ پورے عالم اسلام کے لئے نہایت صدمے کا باعث تھا، چونکہ اس دور کے پاکستانی حکمران قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور حج کے موقع پر قادیانی سر زمین مقدس میں پہنچ جاتے تھے، چنانچہ عرب علماء و مشائخ کے توجہ دلانے پر شاہ فیصل نے وہاں کے مشائخ کوقادیانیت کی بابت معلومات فراہم کرنے پر مامور کیا تو نامور دینی و علمی شخصیت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے ’’القادیانیہ‘‘کے زیر عنوان اور علامہ احسان الہی ظہیر نے بھی قادیانیت کی بابت کتاب تحریر کر کے عربوں کو اس فتنے سے آگاہ کیا تھا، چنانچہ شاہ فیصل ہی کی تجویز پر لاہور میں عالم اسلام کا تاریخی اجتماع منعقد ہوا جس میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن کو آمادہ کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کو ایک اسلامی ملک قرار دیں۔ اسی طرح پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہا گیا کہ وہ جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والے قادیانیوں کو علامہ اقبالؒ کے مطالبے کے مطابق غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اقدام کریں تاکہ احمدی قادیانی اسلام دشمن طاقتوں کے جاسوس بن کر حدودِ حرم میں داخل نہ ہو سکیں، چنانچہ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ررابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ میں تمام اسلامی ملکوں کے علماء و مشائخ اور مفتی حضرات کے ماہ اپریل 1974ء کی ابتدائی تاریخوں میں اہم اجلاس منعقد ہوئے تھے جن میں مفتی اعظم فلسطین مفتی سید امین الحسینی کے علاوہ مصر، اردن، شام، لیبیا، الجزائر، نائجیریا وغیرہ اسلامی ملکوں کے ڈیڑھ سو سے زائد علماء و مفتیان عظام شریک ہوئے تھے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے سیکرٹری وزارت مذہبی امور تجمل حسین ہاشمی نے مکہ معظمہ میں رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔(جاری ہے)

اس تاریخی اجلاس میں شرکت کے لئے روانگی کے وقت میں نے ان سے رابطے کی کارروائی فراہم کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہی بتایا تھا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے تاکید کی ہے کہ اجلاس میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز آئے تو پاکستان کی طرف سے اس کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا جائے، چنانچہ رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے اجلاس کی کارروائی ہفت روزہ چٹان لاہور کے شمارہ 6 مئی 1974ء کو ’’قادیانی امت کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا گیا‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوئی تھی، جس کی کارروائی کا اقتباس درج ذیل ہے:

بدھ 26 اپریل۔۔۔ پچھلے دنوں 8اپریل کو مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام دنیا بھر کی ایک سو سے زائد مقتدر اسلامی تنظیموں کی مشترکہ مؤتمر منعقد ہوئی،جس میں دوسری اہم قراردادوں کے علاوہ ایک بنیادی قرار داد نمبر 9 قادیانی امت کے متعلق منظور کی گئی، اس قرار داد کا متن روزنامہ الندوہ (سعودی عرب) 14 اپریل کے حوالے سے درج ذیل ہے: اس قرارداد کے حق میں تمام اسلامی ممالک کے شرکاء نے، جن میں حکومتوں کے وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسر شامل تھے، ووٹ دیا۔ تجمل حسین ہاشمی سکرٹری مذہبی امور نے صرف یہ کہا کہ قادیانیوں کی مذہبی حیثیت سے مجھے اتفاق ہے، لیکن انہیں اسلامی ممالک میں ملازمتیں نہ دیئے جانے کی تجویز سے اتفاق نہیں۔ قرارداد کا متن حسب ذیل ہے:’’قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے:

(الف) اس کے بانی کا دعویٰ نبوت کرنا

(ب) قرآنی نصوص میں تحریف کرنا

(ج) جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا۔

اس سے آگے قادیانیوں کی مکر وہ سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے قرار داد کی شق نمبر 2 میں مطالبہ ہے کہ اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کیا جائے اور شق نمبر 4 میں ہے کہ کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔۔۔ (چٹان لاہور 6 مئی 1974ء۔

جہاں تک رابطہ عالم اسلامی کی مفصل کارروائی کا تعلق ہے، خوفِ طوالت کے پیش نظر درج نہیں کی گئی۔ رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس منعقدہ مکہ معظمہ مورخہ 8 اپریل 1974ء میں حکومت پاکستان کے سیکرٹری مذہبی امور جناب تجمل حسین ہاشمی نے پہلی مرتبہ حکومت پاکستان کی مذہبی پالیسی واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومتِ پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کی تائید کرتی ہے، گویا حکومتِ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں اُمت مسلمہ کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ اب صرف داخلہ پالیسی کا اعلان باقی ہے۔ باقی رہا قادیانیوں سمیت غیر مسلم اقلیتوں کو سرکاری ملازمتیں دینے کا مسئلہ، تو انہیں ان کے استحقاق کے مطابق ملازمتیں دی جائیں گی، لیکن انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فاائز نہ کیا جائے گا، جیسا کہ دُنیا کے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو بڑے عہدوں پر( مثلاً وزیراعظم) نہیں مقرر کیا جاتا۔

اس سلسلے میں یہ بات خصوصاً قابلِ ذکر ہے کہ راقم الحروف(مجاہد الحسینی) نے جب مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی خدمت میں رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے اجلاس اپریل 1974ء کی قراردادوں اور فیصلے کی نقل حاصل کرنے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رابطہ عالم اسلامی کے فقہی اجتماع میں قادیانیوں کی بابت قرارداد میں نے پیش کی تھی، چنانچہ عمرہ کی سعادت پانے والے مفتی محمد سعید خطیب مسجد الامین فیصل آباد رابطہ عالمی اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلوں کی نقول لے کر آ گئے جو اس حقیقت کا واضح ثبوت پر مشتمل ہیں کہ 1974ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز 29مئی کو فیصل آباد سے نہیں، بلکہ مکہ معظمہ میں شاہ فیصل شہید کے حکم پر اپریل 1974ء کی ابتدائی تاریخوں میں ہوا تھا، جس کا اعلان پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کے علماء و مشائخ سے مذاکرے اور قادیانی جماعت کے سربراہ کا موقف سننے کے بعد7ستمبر 1974ء کو اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ:میں فیصلے کا اعلان صرف پاکستانی قومی اسمبلی یا پاکستانی علماء و مفتیان کرام کا نہیں، بلکہ دُنیائے اسلام کے نامور اور جید علماء و مفتی صاحبان کے متفقہ شرعی فیصلے کے مطابق کر رہا ہوں۔ اُمت مسلمہ کا یہ وہ فیصلہ ہے ، جس کے لئے علامہ اقبالؒ ، پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جدوجہد کرتے رہے ہیں‘‘۔

7ستمبر1974ء کو اس تاریخی فیصلے کے صحیح پس منظر سے ناواقف حضرات محض سنی سنائی معلومات کے مطابق تحریک ختم نبوت کا آغاز29 مئی 1974ء کو فیصل آباد سے بیان کرتے ہیں، اگر اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو مکہ معظمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے ڈیڑھ سو سے زیادہ علماء و مفتیان کرام کے اس اجتماعی فیصلے اور قراردادوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جو اپریل 1974ء میں منعقد ہوا تھا اور6مئی 1974ء کے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور میں8اپریل کے شمارہ الندوہ مکہ معظمہ کے حوالے سے اس کی مفصل کارروائی شائع ہوئی تھی۔ختم نبوت کے نام سے قائم مختلف گروپوں کو چاہئے کہ وہ اخبارات میں مصدقہ اور صحیح معلومات فراہم کریں اور محض اپنی ذاتی شہرت کی خاطر اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ یاد رہے کہ سید محمد رسول اللہؐ کی نبوت اور رسالت کے بعد جھوٹی نبوت کے دعویداروں اور ان پر ایمان لانے والوں کو غیر مسلم صرف پاکستان کی قومی اسمبلی نے ہی قرار نہیں دیا، بلکہ سعودی عرب، مصر، شام، الجزائر، لیبیا،افغانستان،متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائیجیریا، ایران وغیرہ تمام اسلامی ممالک میں قادیانی غیر مسلم قرار دیئے گئے ہیں۔ ایران نے تو بہاء اللہ اور محمد علی باب کی جھوٹی نبوت کو ماننے والوں کو مُلک بدر کر دیا تھا۔ پاکستان میں منکرین عقیدۂ ختم نبوت قادیانیوں کو مرتد قرار دینے کے بجائے غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے ساتھ نرم سلوک کیا گیا ہے، اسے تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہیں توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان لانا چاہئے۔ کسی بھی جھوٹے نبی پر ایمان لانے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور سیدنا محمد رسول اللہؐ،اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔

مزید : کالم