قصاص اور احتساب کی سیاست

قصاص اور احتساب کی سیاست
 قصاص اور احتساب کی سیاست

  

احتساب اور قصاص کا تراشیدہ فسانہ الفاظ اور کردار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔یہ الفاظ اور کردار کا کھیل ٹھہرا ۔۔۔لفاظی اور اداکاری سے دھوکہ نہ کھایئے۔ بس کوئی شب شام کو نگلتی ہے کہ یہ راز کھل جائے گا ان کے دلوں کی طر ح ان کے الفاظ اور کرداربھی معنی سے خالی ہیں۔حق کے بغیرحصہ حاصل کرنے والے یا غاصب ہوتے ہیںیا رجائیت پسند۔مقدر کے مارے یہ کمبخت طاقت ور ہوں توغاصب اور کمزور ہوں تو رجائی۔پروں کے بغیر پرواز کی تمنا پالنے اور کامنا پوسنے والے رجائیت پسند انتظار کرتے رہیں گے اور قیامت آ جائے گی ۔اہلیت کے بغیر منصب مانگنے والے بے جان ارمان کا درماں کون سا ہنومان کرتا ہے ۔

کپتان کا آئے روز کا احتجاج اور طاہرالقادری کا مخصوص موسموں میں مزاحمت کا مزاج۔۔۔سیاسی اتھل پتھل کے بلبلے اور جمہوری ہلچل کے چٹکلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔سیاسی فتح یا جمہوری منزل ریاضت مانگتی ہے رولا رپا نہیں۔احتساب کے محتسب اور قصاص کے مفتی پر تعجب کریں یا ترس کھائیں کہ یہ ہنوز احتجاج و انتشار کی ٹھنڈی نعش لئے بیٹھے ہیں۔قادری کی سینہ کوبی اور کپتان کی کامیڈی کے شجرِبے ثمر پرخزاں آئی اور یہ نصیبوں جلے بہار سمجھا کئے ۔ہرایک کزن دوسرے دوسرے کے کندھے پر بیٹھ کر قداونچا کرنے کا خواہاں اور ادھر دھرتی پاؤں سے نکلنے چلی ۔کون سا قصاص اورکیسااحتساب؟بھائی ملائی سلطانی چاہتی ہے اور کھلاڑی کھیلے بغیر ٹرافی مانگتا ہے۔سیاسی لڑائی میں چھیننے اور پانے کے اس منظر نامے پر گاہ گاہ بازی پلٹنے کا بھی دھوکہ ہوتا رہا۔دھوپ چھاؤں کے اس سارے کھیل میں سطح بیں نظروں کو کبھی جیت کا امکاں اورکبھی شکست کاگماں ہوتا رہا۔یہ الگ بات کہ احتجاج وانتشار اور اضطراب و فساد کے اس سارے سماں میں کبھی مراد برآنے کا ساماں نہ ہوا۔

اس کا رزار حیات میں کچھ لوگ محض انتشار اور ہیجان برپا کرنے کے لئے پیدا ہوا کئے۔قدرت شاید انہیںیہی فریضہ سونپ کر دنیا میں بھیجتی آئی ہے۔افتراق اور تشنج پیدا کرنے کے سوا ان کے دماغوں میں اور کوئی سودا نہیں سمایا ہوتا ۔میر تقی میر کو اللہ نے پیدا کیا کہ وہ پری چہرہ اور نرم و نازک لوگوں کی صفت و ثنا بیان کریں۔ اسداللہ خان غالب جو کسی عہد میں مغلوب نہ ہوا ،انہیں دنیا میں بھیجا گیا کہ حسن بے نیاز اور عشق بندہ نواز کی حلاوت و طراوت کو گنجلک اسلوب میں واضح کریں۔حکیم مومن خان مومن کو حسین و جمیل ہستیوں کی پاکیزگی و نفاست کے ذریعے لوگوں کے دل گداز کرنے اور محبتیں بانٹنے کے کام پر مامور کیا گیا ۔شاعروں کو پیدا کیا کہ نفرت کی مذمت اور محبت کی کثرت کا ترانہ ترنم سے گائیں۔سائنس دانوں کو بنایا کہ انسانی آسائش و راحت کا سامان کریں اور کھارے پانی کو شیریں بنائیں۔سیاست دانوں کو سماج سدھار پر لگا دیا گیا جو کام سب سے مشکل نظر آیا۔سو سوالوں کا ایک سوال کہ انتشارو اضطراب کے تاجروں کی تخلیق کا مقصد یہ تو نہیں کہ تعمیرو ارتقا پر بند باندھے رکھیں؟

کہا جاتا ہے کہ عالمِ عیسائیت میں ایڈلارڈ آف باتھ کی کتاب’’ فطرتی سوالات‘‘(questions naturales)نے اک کہرام مچا ڈالا تھا ۔ٹھہرے ہوئے پانی میں جب کنکر یاں ماری گئیں تو عیسائی دماغوں میں تعفن کی بجائے تازگی کے جھونکے آنے لگے۔عیسائی عالموں اور دانشوروں کے لئے پھر یہ بات قابل قبول نہ رہی کہ کسی مسئلہ پر فلاں بشپ یا چرچ فادرکی رائے کیا ہے۔ان کی نگاہ و قلب میں اب حقیقت صرف وہی تھی جس کی تصدیق عقل کی مشعل میں تجربے اور مشاہدے سے ہو سکے اور بس ۔ایڈلارڈ کی کتاب میں بظاہر تو سوالات عام سے تھے مثلاً۔۔۔انسانی چہرے پر ناک کا مقام منہ کے ٹھیک اوپر کیوں ہے؟کیا بات ہے کہ چیزیں اپنا قالب بدلتی رہتی ہیں؟ایک جاندار جوآج چھوٹا ہوتا ہے کل طاقتور اور توانا کیوں ہو جاتا ہے؟چاند بے نور کیوں اور تاروں میں روشنی کیوں؟سب سے بڑھ کر کہ انسان جواشرف المخلوقات کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔اسے اپنے دفاع کے لئے کوئی فطری ہتھیار کیوں نہیں عطا کیا گیا؟جبکہ جانوروں کو سینگ،سونڈیا قلانچیں بھرنے اور فرار ہونے کی صلاحیت سے متصف کیا گیا تو کیوں؟کہا جاتا ہے کہ یہ سوالات بند دماغ عیسائیوں کو کھلی گلی میں لے آئے ۔نہ ہوا ہمارے ہاں کوئی ایڈ لارڈ نہ ہوا جو عوام کالانعام کو تاریکی سے روشنی میں لائے۔

آخر مریدین و متبعین کو کب احساس ہو گا اور وہ پوچھیں گے کہ پیر صاحب ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح سیاست کی بھینٹ کیوں چڑھانا چاہتے ہیں؟اقتدار کی قربان گاہ پر آخر اللہ میاں کی گائے ہی کیوں قربان ہوتی آئی ہے؟کیا بات ہے ’’وہی ذبح کرے ہے اور وہی لے ثواب الٹا‘‘؟کس ارشمیدس واقلیدس یا جالینوس و بطلیموس نے کہا کھلاڑی کھیلے بغیر میچ اپنے نام کروانے پر تل جائے تو وہ بھی ٹھیک ہے ؟سب ٹھیک ہو گا مگر یہ کیسے ٹھیک ہے کہ مدعی ہی منصف بن بن جائے؟یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ خود کا تو گریباں چاک ہو اور دوسرے کو دامن سنبھالنے کا مشورہ داغا جائے؟آخر کون ہے دنیا میں جو اپنے ظن و گماں کو یقین کا درجہ دے اور پھر یہ بھی حکم لگائے کہ اس کو درست جانواور مانو؟

مزید :

کالم -