مسلم لیگ (ن) کی سر پھٹول

مسلم لیگ (ن) کی سر پھٹول
 مسلم لیگ (ن) کی سر پھٹول

  

ایک ہی دن میں تین مختلف پارٹیوں میں سر پھٹول اور باہمی انتشار کی خبریں آئی ہیں۔ تحریک انصاف کے ’’بانیوں‘‘ کے نام پر بزرگوں نے اسلام آباد میں اپنا اجلاس کیا اور عمران خان سمیت مرکزی و صوبائی عہدیداروں کو تمام ذمہ داریوں سے الگ کر دینے کی بات کی، دوسری طرف خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور بعض تنظیمی ذمہ داران نے بھی مجلس سجائی اور پرویز خٹک کے خلاف، اپنے اعلان بغاوت کو ’’مزید اونچی آواز‘‘ میں دہرایا۔۔۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے اپنے نام کے ساتھ ’’پاکستان‘‘ کا لاحقہ جوڑ کر، اپنے ’’بانی و قائد‘‘ اور (پیروں سے بڑھ کر) بھائی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ (اگرچہ ایم کیو ایم کے نام سے بہت عرصہ پہلے ایک الگ گروپ معرض وجود میں آچکا تھا، جس کو ایم کیو ایم حقیقی کا نام دیا گیا، ایم کیو ایم مخفف ہے، ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ کا، حقیقی نے اپنا نام ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ ہی رکھا، بڑے گروپ نے اپنا نام ’’مہاجر‘‘ سے بدل کر ’’متحدہ‘‘ کرلیا۔ حقیقی ایم کیو ایم نے خاطر خواہ فرق نہ ڈالا، مگر مصطفی کمال کی ’’سرزمین‘‘ پارٹی نے تو کئی ارکان قومی و صوبائی پر ہاتھ صاف کر دیا۔ تحریک انصاف کے گروپوں کے اجلاس، پارٹی کی عوامی حیثیت میں، اثر و نفوذ تو (شاید) حاصل نہ کرسکیں۔ مگر سیاسی میدان میں پروپیگنڈا کا باعث ضرور بنیں گے اور آئندہ الیکشن میں اثر انداز بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر ایم کیو ایم، جن حالات سے گزر رہی ہے، ان کو دیکھتے ہوئے، پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کراچی، حیدر آباد میں ایم کیو ایم اس طرح اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے سے معذور ہوگی جو اس کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ وہ قوت و اثر کہ جس کے بل بوتے پر ’’مہاجر صوبہ‘‘ کی دھمکی دی جاتی تھی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بلیک میل کیا جاتا تھا، وہ اب قصہ پارینہ بن چکی۔ مستقبل میں ’’سرزمین پارٹی‘‘ اپنا حصہ بہرحال ضرور وصول کرے گی۔ اگرچہ اس کا سربراہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی رہے یا کوئی اور آجائے!

(میں نے یہاں عمداً کسی اور کی قیادت کی بات کی ہے، اسے آپ میرا وجدان کہہ لیں یا مستقبل کے متعلق سیاسی تجزیاتی پیش گوئی۔ مجھے ’’سرزمین پارٹی‘‘ کے پلیٹ فارم پر بننے والی، سیاسی پارٹی، کسی اور کی قیادت میں جاتی محسوس ہوتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میری اس بات کی سچائی ثابت کر دیں گے یا میرے تجزیہ کی اصلاح کر دیں گے!)

سیاسی پارٹیوں میں گروپ بندی اور دھینگا مشتی ہوتی ہی رہتی ہے، کھینچا تانی کا یہ معاملہ صرف سیاسی پارٹیوں تک محدود نہیں، مذہبی جماعتیں بھی اس سے بچی ہوئی نہیں،جہاں جہاں شخصیات کے مفادات و اغراض ٹکرائیں گے اور شخصیات کے اثرت اپنا جادو جگائیں گے، وہاں دھکم پیل ضرور ہوگی، پاکستان میں تو یہ باقاعدہ ایک ’’ثقافتی کھیل‘‘ بن چکا ہے کہ پارٹیوں اور جماعتوں میں شخصی گروپ اور مختلف لابیاں، اپنا اپنا زور دکھاتی اور اصولوں کو پامال کرکے مرضی کے فیصلے کراتی ہیں۔ کہنے کو پارٹیاں نظریات اور قیادتیں اصولوں پر کاربند ہوتی ہیں، مگر پالیسیاں اور فیصلے موثر شخصیات اور دولت مند ہستیوں پر مبنی، مضبوط لابیوں کی رضا مندی اور مفادات کے تحت ہی سامنے آتے ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے، مقبول و متحرک کارکنوں اور جاں جوکھم میں ڈالنے والے عہدیداروں کو دولت مندوں کے اشاروں پر ذبح ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے سرمایہ دار لابیوں کی مرضی پر (تمام دینی و نظریاتی اصول پامال و سپوتاژ کرکے) پالیسیاں بنتے اور مفادات پورے ہوتے، اپنی آنکھوں دیکھے ہیں۔ بعض مذہبی مخلص کارکنوں کی روتے ہوئے دہائیاں سنی ہیں کہ ’’کیا نظریاتی پارٹی ہے کہ اگر نریندر مودی بھی دولت لے کر آجائے تو ’’اعلیٰ عہدہ‘‘ آسانی سے حاصل کرلے۔‘‘

پاکستان کی ہر پارٹی میں، شکست و ریخت ہوچکی ہے، ہر ایک، گروپ در گروپ بٹ چکی اور کئی کئی ٹکڑیوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف، ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ(ن)، کوئی سی سیاسی پارٹی ہو، اس تقسیم اور گروپ بندی سے مبرا نہیں۔ یہی حال مذہبی جماعتوں کا ہے، ہم ماضی کی بات کریں گے تو دور تک نکل جائیں گے۔ ہم تو آج کی بات کر رہے ہیں اور ان پارٹیوں کی جو ابھی گروپوں میں نہیں بٹیں۔ مسلم لیگ (ن)خود کئی لیگوں سے ہوتی ہوئی، ایک وجود میں، (حکومتی پارٹی) کی شکل میں نظر آتی ہے، مگر اس ایک وجود میں، کئی لابیاں اور گروپ موجود ہیں، انہی گروپوں کا شاخسانہ ہے کہ سید غوث علی شاہ، ذوالفقار کھوسہ وغیرہ پارٹی سے الگ ہوگئے، چودھری نثار علی خان کا گروپ، چودھری جعفر اقبال، رانا تنویر حسین وغیرہ کی لابیاں اپنے طور پر متحرک ہیں۔ کئی وفاقی وزراء کی آپس میں بول چال تک بند ہے۔ چودھری نثار اور خواجہ آصف اور پھر ہمارے اپنے علاقہ کے زاہد حامد اور خواجہ آصف کے درمیان جو معاملات ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔خیبرپختونخوا میں صابر شاہ، مہتاب خان اور کیپٹن صفدر کے معاملات بھی خبروں میں آ چکے، اسلام آباد میں ظفر علی شاہ کے ساتھ جو ہوا، وہ بھی سامنے کا واقعہ ہے۔ایک دور میں ہم نے خواجہ سعد رفیق کی تعریف کر دی تو ایک وفاقی وزیر نے ہمیں جارحانہ فون کر مارا تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر حلقہ میں قومی و صوبائی ممبران کی آپس میں نہیں بنتی، اگر صرف اسی پر مشتمل رپورٹ لکھ دی جائے تو ایک مفصل کتاب بن جائے اور مسلم لیگ (ن)کی تنظیم سازی کی قلعی کھل جائے، کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ’’نواز لیگ قیادت، یعنی دونوں شریف بھائی، الگ الگ لابیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔‘‘ مگر ہم اس بات کو بوجوہ نہیں مانتے، دونوں کا باہمی احترام مثالی ہے، آپس میں اختلاف رائے ہو بھی تو چھوٹا، بہرحال بڑے بھائی ہی کی بات کو ’’حکم‘‘ کی طرح مان لیتا ہے۔ ایسے میں اولاد میں پسند و ناپسند کے معاملات سننے میں آجاتے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔

البتہ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داروں، عہدیداروں اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی میں جو کھینچا تانی ہے، وہ کسی بھی دوسری پارٹی سے کم نہیں، بلکہ بہت زیادہ اور گھمبیرتا کی حد تک بڑھی ہوئی ہے، گزشتہ روز جہاں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی خبریں آئی تھیں، وہیں فیصل آباد میں رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی کی کھینچا تانی کے حوالے سے بھی خبر آگئی تھی، رانا ثناء اللہ اس وقت پنجاب حکومت کے نفس ناطقہ اور وزیراعلیٰ کے انتہائی معتمد ہیں اور چودھری شیر علی و عابد شیر علی، شریف فیملی کے قریبی رشتہ دار، مگر ایک دوسرے کے بارے میں جو کچھ کہتے رہتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں، وہ کوئی راز نہیں۔۔۔ خود میرے پسرور اور میرے ضلع سیالکوٹ میں، جو گالی گلوچ اور تند زبانی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے، وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، خواجہ آصف اور چودھری نثار کی جو شکر رنجی ہے، اس کی وجہ سے اور کچھ علاقائی معاصرت کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے اپنے دونوں ایم پی اے (جو خود کو خواجہ صاحب کا سپاہی کہتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہمارا لیڈر نواز شریف نہیں، خواجہ آصف ہے) ڈٹ کر زاہد حامد کے خلاف متحرک ہیں۔ مذکورہ دونوں ایم پی اے (رانا لیاقت اور منور علی گل) محض مسلم لیگ (ن) کے نام پر کامیاب ہوئے تھے، ان دونوں کو ٹکٹ ملا نہیں تھا، ٹکٹ سے نوازا گیا تھا، دونوں کی الیکشن سے پہلے جو شہرت تھی وہ پورا علاقہ جانتا اور سمجھتا تھا، مگر محض ٹکٹ کی وجہ سے بھرپور کامیابی ملی۔ اگر زاہد حامد، ان دونوں کی مخالفت کرتے تو شاید ان کو ٹکٹ بھی نہ ملتا (خود زاہد حامد کے والد پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑتے رہے ہیں، پھر یہ مشرف کے وزیر قانون رہے، ان کو بھی کامیابی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کی وجہ سے ملی)۔ دونوں ایم پی اے دن رات زاہد حامد کی مخالفت میں سرگرم ہیں خصوصاً منور علی گل کی زبان درازیاں تو علاقہ میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ ’’گل اور گالی لازم و ملزوم ہیں‘‘۔

ایم این اے اور ایم پی اے، ایک دوسرے کی مخالفت میں اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ ترقیاتی کام اور مسلم لیگ کی مقبولیت بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر مرکزی قیادت نے فوری سدباب نہ کیا تو پورا علاقہ لیگ کے ہاتھوں سے نکل جائے گا اور وہ پسرور جس نے میاں نواز شریف کو 1988ء میں (جبکہ میاں صاحب دو جگہ سے ہار گئے تھے) بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا اور جس کی وجہ سے میاں نواز شریف فخر سے کہتے رہتے ہیں ’’ایک لحاظ سے میں بھی پسروری ہوں‘‘۔ اب وہی مسلم لیگ (ن) کا گڑھ پسرور، ایک ایم پی اے کی بدزبانی، ایک کی بدمعاملگی اور دو وفاقی وزیروں کی باہمی لڑائی کی وجہ سے نواز لیگ کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔

مزید :

کالم -